وزیر اعظم مودی نے حد بندی میں کسی ناانصافی کے خلاف ’گارنٹی دی‘، اپوزیشن سے حمایت کی اپیل بھی کی
’ جو لوگ اس اصلاحات کی مخالفت کریں گے، انہیں ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی‘انہیں سیاسی نقصان بھی ہو گا ‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۶؍اپریل
پرائم منسٹر نریندر مودی نے جمعرات کو یقین دہانی کرائی کہ خواتین کے کوٹے کے قانون کے نفاذ سے منسلک حلقوں کی حد بندی میں کوئی ریاست ‘ بڑی یا چھوٹی، شمال یا جنوب، یا مشرق یا مغرب ‘ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا اور خبردار کیا کہ جو لوگ اس اصلاحات کی مخالفت کریں گے، انہیں ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی۔
لوک سبھا میں خواتین کے کوٹے کے قانون میں ترامیم اور ایک حد بندی کمیشن کے قیام کے لیے متعارف کرائے گئے تین بلوں پر بحث میں مداخلت کرتے ہوئے، مودی نے یہ بھی واضح کر دیا کہ حد بندی کے عمل کے نتیجے میں کسی بھی ریاست میں لوک سبھا کی نشستوں کا تناسب کم نہیں ہوگا۔
مودی نے کہا ’’اس تناسب (لوک سبھا نشستوں کا) میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، اور اضافہ بھی اسی تناسب سے ہوگا‘‘۔انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ وہم نہیں رہنا چاہیے کہ وہ اس ملک کی خواتین کو کچھ دے رہے ہیں، کیونکہ مقننہ میں تحفظ ان کا حق ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت خواتین کے کوٹے کے قانون کی مخالفت کرتی ہے، تو یہ قدرتی بات ہے کہ اس (مودی) کو سیاسی فائدہ ہوگا۔ان کاکہنا تھا’’اگر آپ اس کی مخالفت کرتے ہیں، تو یہ فطری ہے کہ مجھے سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر آپ ساتھ چلیں گے، تو کسی کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوگا‘‘۔
مودی نے کہا کہ حکمران جماعت۲۰۲۹میں خواتین کے تحفظ کے قانون کے نفاذ کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتی اور اپوزیشن کو کریڈٹ دینے کی پیشکش کی۔’’ہم کریڈٹ نہیں لینا چاہتے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں ’گارنٹی‘ کا لفظ استعمال کروں، تو میں ’گارنٹی‘ کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں وعدہ کروں، تو میں ’وعدہ‘ کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔ کیونکہ اگر نیت صاف ہے، تو الفاظ کے ساتھ کھیلنے کی ضرورت نہیں ہے۔
خاص طور پر جنوبی اور مشرقی خطوں کی بعض ریاستوں کے حد بندی کے عمل پر خدشات کو دور کرتے ہوئے، پرائم منسٹر نے کہا کہ اس اقدام کے تحت کسی بھی ریاست کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا’’میں آج اس ایوان سے بڑی ذمہ داری کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ چاہے جنوب ہو، شمال ہو، مشرق ہو، مغرب ہو، چھوٹی ریاستیں ہوں یا بڑی ریاستیں، یہ فیصلہ سازی کا عمل کسی بھی ریاست کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کے ساتھ ناانصافی کرے گا‘‘۔
مودی نے کہا کہ جن لوگوں نے ماضی میں خواتین کو یہ حق دینے کی مخالفت کی تھی، انہیں اس ملک کی خواتین نے معاف نہیں کیا، انہیں اس کے نتائج بھگتنے پڑے۔
ان کاکہنا تھا’’آج میں آپ سے اپیل کرنے آیا ہوں کہ اسے سیاسی ترازو پر نہ تولیں۔ یہ قومی مفاد میں ایک فیصلہ ہے۔ ملک بھر کی خواتین اور دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے، ہمارے فیصلے دیکھے گی۔ لیکن خود فیصلے سے زیادہ، وہ ہماری نیت کو پرکھیں گی۔ اگر ہماری نیت میں کوئی خامی ہوئی تو اس ملک کی خواتین کبھی معاف نہیں کریں گی‘‘۔
پرائم منسٹر نے کہا کہ جب۲۰۲۳میں پارلیمنٹ خواتین کے تحفظ کی قانون سازی پر بحث کر رہی تھی، لوگ کہہ رہے تھے، ’جلدی کرو‘۔انہوں نے مزید کہا’’لیکن یہ۲۰۲۴میں نہیں ہو سکا، کیونکہ یہ اتنے مختصر وقت میں نہیں کیا جا سکتا۔ اب۲۰۲۹میں ہمارے پاس وقت ہے۔ اگر ہم۲۰۲۹ میں بھی یہ نہیں کریں گے، تو ہم تصور کر سکتے ہیں کہ حالات کیا ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اب مزید تاخیر نہ کریں‘‘۔
لوک سبھا نے جمعرات کو آئین(۱۳۱ویں ترمیمی) بل۲۰۲۶ یونین علاقہ جات قوانین (ترمیمی) بل‘۲۰۲۶ اور حد بندی بل۲۰۲۶، کو بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا۔
اس تجویز کے مطابق، لوک سبھا کی طاقت بڑھا کر۸۱۵کر دی جائے گی، جس میں سے۲۷۲نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی ‘جو کل۳۳فیصد بنتی ہیں۔










