ایل جی سنہا رام بن واقعہ کے ملوثین کیخلاف سخت کارروائی کریں:عمر
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۴؍اپریل
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ ان کی حکومت ’جنگل راج‘ کی اجازت نہیں دے گی اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
بجبہاڑہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت جموں و کشمیر میں ایک ’نئے مرحلے‘ کا آغاز کرنا چاہتی ہے جو پُرامن ماحول اور مستحکم حالات سے عبارت ہو۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو امن پسند نہیں کرتے اور اس کے بجائے فرقہ وارانہ بے چینی اور تنازعات چاہتے ہیں۔ جب تک میری حکومت برسر اقتدار ہے، ہم جموں و کشمیر میں ایسی چیزوں کو کبھی ہونے نہیں دیں گے‘‘۔
کسی فرد یا گروہ کا نام لیے بغیر عمرعبداللہ نے کہا کہ کچھ عناصر موجودہ پُرسکون صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میری حکومت امن و امان کی صورتحال میں کسی بھی بگاڑ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ رام بن میں حالیہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف اور صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’اس سے ایک مضبوط پیغام جانا چاہیے کہ موجودہ حکومت اس طرح کی بدنظمی اور لاقانونیت کو برداشت نہیں کرے گی‘‘۔
حکام نے منگل کے روز جموں و کشمیر کے ضلع رام بن میں ایک ایسے شخص کی تلاش کے لیے کثیر ایجنسی سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے، جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ اپنی گاڑی میں گائے لے جانے پر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بننے کے بعد تیز بہاؤ والے نالے میں گر گیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق تنویر احمد چوپان(۲۵) جموں سے اپنے گھر کی طرف ایک گاڑی میں دودھ دینے والی گائے اور دو بچھڑوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا کہ ڈگڈول کے قریب مبینہ طور پر شرپسندوں نے دو گاڑیوں میں اس کا پیچھا کیا۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر مکرکوٹ کے قریب اسے روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اپنی جان بچانے کی کوشش میں وہ نالہ بشلاری میں کود گیا اور تب سے لاپتہ ہے۔
پیر کے روز علاقے میں احتجاج پھوٹ پڑا، جس کے دوران مقامی لوگوں نے جموں،سرینگر قومی شاہراہ کو تقریباً چار گھنٹے تک بند رکھا اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعد میں ڈی سی رام بن محمد الیاس خان اور ایس ایس پی رام بن ارون گپتا کی مداخلت کے بعد دھرنا ختم کیا گیا، جنہوں نے معاملے میں سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
پولیس پہلے ہی اس سلسلے میں مقدمہ درج کر چکی ہے اور چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کی شناخت سریجیت سنگھ، سندیپ سنگھ، دگ وجے سنگھ اور کیول سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جو رام بن شہر اور نزدیکی سیری علاقوں کے رہائشی ہیں۔
حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ڈی پی او بانہال سریندر سنگھ کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی ہے۔
ادھر لاپتہ نوجوان کی تلاش کے لیے منگل کو بھی سرچ آپریشن جاری رہا۔ اس کارروائی میں این ڈی آر ایف، پولیس، ہمالین کیو آر ٹی رامسو، بنی ہال رضاکاروں اور انڈین ریڈ کراس سوسائٹی (ریڈ کراس بنی ہال) کی ٹیمیں شامل ہیں۔
ایس ایچ او رامسو فرید خان نے میڈیا کو بتایا کہ متعدد ریسکیو ٹیمیں مسلسل تیسرے دن بھی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
اس دوران لاپتہ نوجوان کے والد عبدالسلام چوپان، جو جموں و کشمیر پولیس میں بطور ایس پی او خدمات انجام دے رہے ہیں، نے واقعے پر شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا تین بہنوں کا واحد بھائی تھا اور انہوں نے ملزمان کے لیے سخت سزا، حتیٰ کہ سزائے موت کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا، واقعے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر تقریباً۳۰ گھنٹے تک معطل رہنے کے بعد منگل کی دوپہر رام بن ضلع میں انٹرنیٹ خدمات بحال کر دی گئیں۔










