سرینگر؍۸؍اپریل
ایک مقامی عدالت نے بدھ کے روز کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ پانچ افراد‘ دو پاکستانی دہشت گرد اور ان کے تین مقامی معاونین کو۱۰دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا، ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا۔
یہ گرفتاریاں ایک’گہری جڑوں‘ والے بین الریاستی لشکرِ طیبہ نیٹ ورک کے انکشاف کے بعد عمل میں آئیں، جس کی قیادت پاکستانی دہشت گرد عبداللہ عرف ابو حریرہ کر رہا تھا، جو گزشتہ۱۶برسوں سے مفرور تھا اور یونین ٹیریٹری سے باہر بھی اپنے ٹھکانے قائم کرنے میں کامیاب رہا تھا۔
ابو حریرہ کے ساتھ ایک اور پاکستانی دہشت گرد عثمان عرف خبیب اور سری نگر کے تین رہائشی ‘ محمد نقیب بٹ، عادل رشید بٹ اور غلام محمد میر عرف ماما ‘ کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پانچوں کو سری نگر کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں۱۰ دن کے لیے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ تفتیش جاری ہے اور مزید ساتھیوں، مالی معاونین، سہولت کاروں، محفوظ ٹھکانوں اور بین الریاستی روابط کی نشاندہی کے لیے کئی مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
لشکرِ طیبہ کے اس نیٹ ورک کا خاتمہ ایک بڑی کارروائی کے دوران کیا گیا، جو۳۱ مارچ سے شروع ہوئی تھی اور جس کی نگرانی ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات کر رہے تھے، جو سری نگر میں قیام پذیر رہے۔ اس کارروائی میں تنظیم کے مالیاتی نظام اور فنڈنگ کے طریقہ کار کو بھی بے نقاب کیا گیا۔
حکام کے مطابق دہشت گردوں نے جعلی دستاویزات اور فرضی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ دیگر کئی ریاستوں میں بھی اپنا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران سری نگر پولیس، دیگر ریاستوں کی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر، راجستھان اور ہریانہ میں۱۹مقامات پر چھاپے مارے، جن کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا، جس میں چار اے کے رائفلیں، پستول، ہینڈ گرینیڈ اور الیکٹرانک آلات شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ دونوں پاکستانی دہشت گردوں کو ’اے پلس‘زمرے میں رکھا گیا ہے اور انہوں نے تقریباً۱۶ سال قبل بھارت میں دراندازی کی تھی۔ وہ وادی کے مختلف اضلاع میں سرگرم رہے اور وقتاً فوقتاً تقریباً۴۰ غیر ملکی دہشت گردوں کی کمان سنبھالتے رہے، جن میں سے بیشتر کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
تحقیقات کے دوران عبداللہ اور عثمان سے دیگر ریاستوں کے پتوں پر مشتمل جعلی دستاویزات بھی برآمد ہوئیں، جو وادی سے باہر نقل و حرکت کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک غیر ملکی دہشت گرد جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بنائے گئے درست پاسپورٹ کے ذریعے ملک سے باہر بھی سفر کرنے میں کامیاب رہا۔
یہ نیٹ ورک۳۱ مارچ کو اس وقت بے نقاب ہونا شروع ہوا جب سری نگر کے علاقے پانڈچھ سے نقیب بھٹ کو ایک پستول اور دیگر قابلِ اعتراض مواد کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔
پوچھ گچھ کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ وہ لشکرِ طیبہ سے وابستہ ہے اور اسلحہ و گولہ بارود ایک اور ساتھی عادل رشید سے حاصل کرتا تھا، جبکہ وہ غیر ملکی دہشت گردوں کو مدد بھی فراہم کرتا تھا۔ اس کی نشاندہی پر پولیس میر اور عادل رشید بھٹ تک پہنچی، جو سری نگر میں سرگرم ساتھی تھے۔
تحقیقات کے دوران ملزمان کے انکشافات کی بنیاد پر سری نگر کے مضافاتی جنگلاتی علاقوں میں کئی خفیہ ٹھکانوں کا بھی پتہ لگایا گیا۔
یہ کارروائی نومبر۲۰۲۵ میں’الفلاح آپریشن‘ کے چھ ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس میں سری نگر پولیس نے فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی سے جڑے ایک ’وائٹ کالر‘ دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا، جس کا تعلق۱۰نومبر۲۰۲۵ کو لال قلعہ کے باہر ہونے والے دھماکے سے تھا، جس میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس کیس میں ملزمان میں الفلاح یونیورسٹی کے ڈاکٹر عمر النبی بھی شامل تھے، جو دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی چلا رہے تھے۔ حکام کے مطابق وہ۲۰۱۶؍اور۲۰۱۸ میں بھی دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کی ناکام کوششیں کر چکے تھے۔










