انتونیو گوتریس دوسری بار منتخب ہونے کیلئے کوشاں ‘عالمی ادارے کی ۸۰ سالہ تاریخ میں اب تک کسی خاتون کو منتخب نہیں کیا گیا
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۷؍اپریل
اقوامِ متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے چار امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں، جن میں دو خواتین رہنما بھی شامل ہیں۔ عالمی سطح پر اس بات کی زور دار مانگ کی جا رہی ہے کہ تنظیم کی۸۰ سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کو اس اعلیٰ منصب پر فائز کیا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کا عمل اسی ماہ شروع ہو رہا ہے، جس کے تحت نامزد امیدوار۲۱؍ اور۲۲؍اپریل کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہونے والے انٹرایکٹو مکالموں میں شرکت کریں گے۔
موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جو پرتگال کے سابق وزیر اعظم اور اقوامِ متحدہ کے سابق ہائی کمشنر برائے مہاجرین رہ چکے ہیں، دسمبر۲۰۲۶ میں اپنی دوسری پانچ سالہ مدت مکمل کریں گے۔ انہوں نے۲۰۱۷ میں اقوامِ متحدہ کے نویں سیکریٹری جنرل کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا، اور اب تک اس عالمی ادارے کی قیادت کسی خاتون نے نہیں کی۔
اس اہم عہدے کے لیے جن شخصیات کے نام زیر غور ہیں، ان میں سابق چلی کی صدر اور اقوامِ متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باشلیٹ، اقوامِ متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کی سیکریٹری جنرل اور کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ریبیکا گرینسپن، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی، اور سینیگال کے سابق صدر میکی سال شامل ہیں۔
باشلیٹ کو برازیل اور میکسیکو نے نامزد کیا ہے، جبکہ گرینسپن کو کوسٹا ریکا، گروسی کو ارجنٹینا اور سال کو برونڈی کی جانب سے نامزد کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیربوک کے دفتر کے مطابق ہر امیدوار کے لیے تین گھنٹے پر مشتمل انٹرایکٹو سیشنز۲۱؍اور۲۲؍اپریل کو منعقد ہوں گے، جہاں رکن ممالک اور سول سوسائٹی کو امیدواروں سے سوالات کرنے کا موقع ملے گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا تقرر۱۹۳ رکنی جنرل اسمبلی کرتی ہے، تاہم یہ تقرری سلامتی کونسل کی سفارش پر ہوتی ہے، جہاں چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ مستقل اراکین ہیں اور ویٹو پاور رکھتے ہیں۔
گزشتہ سال ستمبر میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں جنرل اسمبلی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اب تک کسی خاتون کو سیکریٹری جنرل نہیں بنایا گیا، اور رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اس عہدے کے لیے خواتین امیدواروں کو ترجیح دیں۔
متعدد عالمی تنظیموں اور حقوق کی علمبردار تحریکوں نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے کہ اگلا سیکریٹری جنرل خاتون ہو۔ ’وومن ایس جی‘ نامی مہم کا کہنا ہے کہ ایک ایسی خاتون رہنما کی تقرری، جو صنفی مساوات، انسانی حقوق اور کثیرالجہتی نظام کے لیے پُرعزم ہو، نہ صرف علامتی بلکہ اقوامِ متحدہ کی ساکھ اور مؤثریت کے لیے ناگزیر ہے۔
اسی طرح’ ون فار۸ بلین‘ نامی عالمی تحریک نے بھی زور دیا ہے کہ انتخابی عمل شفاف اور جامع ہونا چاہیے، تاکہ نہ صرف طاقتور ممالک بلکہ تمام رکن ممالک اور عوام کو بھی اس عمل میں آواز ملے۔ تحریک کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ تاریخ رقم کی جائے اور اقوامِ متحدہ کی قیادت ایک خاتون کے حوالے کی جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں ایک مضبوط، باصلاحیت اور وژن رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے—اور یہ قیادت کسی خاتون کی صورت میں بھی سامنے آ سکتی ہے۔










