گاؤکدل‘ حول’کیچ اینڈ کل‘ پالیسی اور میرواعظ فاروق کے جنازے پر فائرنگ کا حوالہ
ایجنسیاں
سرینگر؍۳۱ جولائی
جموں کشمیر پیپلز کانفرنس (پی سی) کے صدر سجاد غنی لون نے جمعہ کو مرحوم سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے بانی مفتی محمد سعید پر سخت حملہ کرتے ہوئے انہیں کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے بعض المناک واقعات کا سیاسی اور انتظامی طور پر ذمہ دار قرار دیا۔
سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے الزام عائد کیا کہ مفتی محمد سعید ’’کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے بادشاہ‘‘ تھے۔ انہوں نے گاؤکدل قتل عام، حول قتل عام، مبینہ ’’کیچ اینڈ کل‘‘ پالیسی اور میرواعظ مولوی محمد فاروق کے جنازے پر فائرنگ جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب اس دور میں پیش آئے جب مفتی محمد سعید ملک کے مرکزی وزیر داخلہ تھے۔
لون نے الزام لگایا کہ اس دور میں عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکامی ہوئی اور ان واقعات کے اثرات آج بھی جموں و کشمیر کے عوام محسوس کر رہے ہیں۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے اپنے سابقہ دعوؤں کو دہراتے ہوئے کہا کہ مفتی محمد سعید انہیں اپنی جماعت کے لیے مستقبل کا ایک بڑا سیاسی چیلنج سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے ان کی سیاسی پیش رفت روکنے کی کوشش کرتے رہے۔
لون نے کہا، ’’میں مفتی محمد سعید کا احترام کرتا ہوں، لیکن اس احترام کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے مجھے سیاست سے دور رکھنے کی پوری کوشش کی۔ وہ سمجھتے تھے کہ طویل مدت میں میں ان کی جماعت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جاؤں گا۔‘‘
پی سی کے سربراہ نے۲۰۰۹ کے لوک سبھا انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ جب انہوں نے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تو ایک سینئر شخصیت، جس کا تعلق ان کے بقول ایک انٹیلی جنس ایجنسی سے تھا، نے ان سے رابطہ کر کے انتخابات سے دستبردار ہونے کو کہا۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ ان کی امیدواری سے ووٹ تقسیم ہوں گے اور پی ڈی پی کو نقصان پہنچے گا، تاہم انہوں نے یہ مشورہ مسترد کر دیا۔
لون نے مزید الزام عائد کیا کہ۲۰۱۴ کے اسمبلی انتخابات سے قبل پی ڈی پی کے سینئر رہنماؤں نے ان کی ہندواڑہ سے شکست یقینی بنانے کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے۔ ان کے مطابق بعض رہنماؤں نے تجویز دی تھی کہ انہیں شکست دینے کے لیے نیشنل کانفرنس کے امیدوار کو ووٹ منتقل کیے جائیں تاکہ وہ مستقبل میں ایک مضبوط سیاسی چیلنج بن کر نہ ابھریں۔
پی سی سربراہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ۲۰۱۴ کے انتخابات سے قبل ان کے اہل خانہ کے ذریعے انہیں سیاست چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی گئیں اور اس مقصد کے لیے ان کے رشتہ داروں کے پاس پیغام رساں بھیجے گئے۔
لون نے ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دو ہزار کی دہائی کے وسط میں پاکستان سے آنے والے صحافیوں کے ایک وفد سے انہیں جان بوجھ کر دور رکھا گیا۔ ان کے مطابق بعد میں اس وفد میں شامل ایک صحافی نے انہیں سیاست چھوڑنے کا مشورہ دیا کیونکہ، ان کے بقول، پی ڈی پی کے بعض سینئر رہنماؤں نے ان کی سلامتی سے متعلق خدشات ظاہر کیے تھے۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے وکی لیکس کی جانب سے شائع کردہ سفارتی مراسلات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی الزام لگایا کہ ایک مراسلے میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک امریکی سفارت کار کو بتایا تھا کہ ایک انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک آزاد امیدوار کی خفیہ مالی مدد کی تھی۔
لون نے غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ اس نوعیت کی مبینہ گفتگو پر سوال اٹھایا، تاہم انہوں نے وکی لیکس کے مراسلے کی اپنی تشریح کے علاوہ کوئی آزاد ثبوت پیش نہیں کیا۔
اپنے مرحوم والد عبدالغنی لون کا ذکر کرتے ہوئے سجاد لون نے الزام لگایا کہ جب مفتی محمد سعید مرکزی وزیر داخلہ تھے تو ان کے والد کو دورانِ حراست سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دور میں قید دیگر افراد نے انہیں جیل کے اندر کے حالات سے آگاہ کیا تھا۔
اپنی پریس کانفرنس کے اختتام پر سجاد لون نے کہا کہ وہ اور ان کا خاندان سیاسی انتقام کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ انہوں نے پی ڈی پی قیادت کو چیلنج دیا کہ اگر وہ ان کے الزامات کو غلط ثابت کر دے تو وہ عوامی طور پر معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔










