ایجنسیز
جموں؍۷؍اپریل
جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے منگل کے روز لا کے طلبہ کے ایک وفد سے ملاقات کی، جس میں طلبہ نے جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ پیش کیا۔ طلبہ کے مطابق وزیراعلیٰ نے اس تجویز پر غور کیلئے۱۰دن کا وقت مانگا ہے۔
طلبہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے انہیں یقین دلایا کہ اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا اور امید ظاہر کی کہ اس کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔
طلبہ نمائندوں کے مطابق عمر عبداللہ نے اس خیال کی حمایت بھی کی کہ جس طرح کشمیر میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کی تجویز ہے، اسی طرح جموں میں بھی ایک این ایل یو قائم ہونا چاہیے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے لیے مالی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
طلبہ کے ایک رکن نے کہا’’انہوں نے ہمیں بتایا کہ اس معاملے پر کابینہ میں بحث ہوگی اور بجٹ کی فراہمی کے ذرائع کا تعین کرنا ہوگا، جس کے لیے تقریباً۱۰ دن درکار ہوں گے‘‘۔
طلبہ کے مطابق وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اس تجویز کا بغور جائزہ لیا جائے گا، خاص طور پر فنڈنگ کے انتظامات کے حوالے سے۔
ملاقات کے بعد طلبہ نے امید ظاہر کی کہ جموں کو بھی جلد نیشنل لا یونیورسٹی ملے گی۔
واضح رہے کہ جموں میں این ایل یو کے قیام کا مطالبہ طلبہ تنظیموں کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جسے دائیں بازو کی بعض تنظیموں کی بھی حمایت حاصل ہے، اور اس کا مقصد خطے میں قانونی تعلیم کے ڈھانچے کو وسعت دینا ہے۔










