ایجنسیز
نئی دہلی؍۷؍اپریل
بھارت کے وزیر دفاع ‘راج ناتھ سنگھ نے منگل کے روز پاکستان کو سخت انتباہ جاری کیا۔یہ ردعمل پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر بھارت کی کسی بھی ’آئندہ شرارت‘ کی صورت میں کولکتہ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔
مغربی بنگال کے بارکپور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا’’پاکستان کے وزیر دفاع کو ایسا اشتعال انگیز بیان نہیں دینا چاہیے تھا‘‘۔انہوں نے۱۹۷۱کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’۵۵ال پہلے انہیں اس کے نتائج بھگتنا پڑے تھے… پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا‘‘۔انہوں نے مزید خبردار کیا’’اگر انہوں نے بنگال کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا، تو خدا ہی جانتا ہے کہ اس بار پاکستان کے کتنے حصے ہوں گے‘‘۔
اس سے قبل ہفتے کے روز خواجہ آصف نے مبینہ ’فالس فلیگ آپریشنز‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا’’اگر بھارت اس بار کوئی فالس فلیگ آپریشن کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ان شاء اللہ ہم اسے کولکتہ تک لے جائیں گے‘‘۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے بھی اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور ایسے بیانات دراصل داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔انہوں نے کہا’’پاکستانی عوام مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، خاص طور پر ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ کے اثرات کے باعث ایندھن کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ ایسے حالات میں اشتعال انگیز بیانات توجہ ہٹانے کا ذریعہ بنتے ہیں‘‘۔
خواجہ آصف کے بیانات اس وقت سامنے آئے جب راج ناتھ سنگھ نے اس سے قبل کیرالا میں بھی ’ہمسایہ ملک کی مہم جوئی‘ کے خلاف سخت ردعمل دینے کی بات کی تھی، اگرچہ انہوں نے پاکستان کا نام نہیں لیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو بھارت کا ردعمل’فیصلہ کن اور بے مثال‘ہوگا۔
راج ناتھ سنگھ نے اپریل۲۰۲۵ کے پہلگام حملے کے بعد بھارت کی فوجی کارروائی’آپریشن سندور‘ کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے اس کے جواب میں میزائل حملے کیے گئے، جنہیں بھارتی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ یہ جھڑپ۷ سے۱۰ مئی تک جاری رہی اور۱۹۷۱ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑی فوجی کشیدگی سمجھی جاتی ہے، جس کے بعد جنگ بندی طے پائی۔
ادھر گزشتہ ہفتے اتر پردیش کی انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے چار افراد کو گرفتار کیا، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں موجود ہینڈلرز کے زیرِ انتظام ایک نیٹ ورک کا حصہ تھے اور ریلوے سمیت اہم شہری تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔










