سرینگر؍۷؍اپریل
اینٹی کرپشن بیورو(اے سی بی )نے منگل کے روز کہا کہ بارہمولہ میں پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) مکینیکل ڈویژن، شمالی کشمیر کے دو اہلکاروں کو۱۳ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ رشوت ایک زیر التوا ادائیگی جاری کرنے کے عوض طلب کی گئی تھی۔
اے سی بی کے ترجمان کے مطابق۶؍اپریل۲۰۲۶ کو ہیلپ لائن نمبر پر ایک شکایت موصول ہوئی، جس میں شکایت کنندہ، جو ایک نجی فرم میں منیجر ہے اور جی ای ایم پورٹل پر رجسٹرڈ ہے، نے بتایا کہ اس کی فرم نے ایک ٹینڈر میں حصہ لیا تھا جو پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) مکینیکل ڈویژن بارہمولہ کی جانب سے زندہ مچھلی کی نقل و حمل کے لیے مخصوص گاڑی کی فراہمی کے لیے جاری کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ فرم کو ایل ون قرار دیا گیا اور گاڑی محکمہ فشریز بانڈی پورہ کو فراہم کر دی گئی۔ بعد ازاں بل جی ای ایم پورٹل پر جمع کروایا گیا اور متعلقہ محکمہ میں ہارڈ کاپیاں بھی پیش کی گئیں، جس کے بعد بل کو پراسیس کر کے اکاؤنٹس سیکشن کو ادائیگی کے لیے بھیج دیا گیا۔تاہم تمام رسمی کارروائیاں مکمل ہونے کے باوجود ادائیگی کئی دنوں تک جان بوجھ کر روک کر رکھی گئی اور اس کے لیے رشوت طلب کی گئی۔
شکایت کنندہ نے اے سی بی سے رجوع کرتے ہوئے پی ڈبلیو ڈی کے سینئر اسسٹنٹ مشتاق احمد اور جونیئر اسسٹنٹ فاروق احمد کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی، جنہوں نے ادائیگی جاری کرنے کے لیے۱۳ ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔
ترجمان نے بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد خفیہ تصدیق کی گئی جس میں الزامات بظاہر درست پائے گئے۔ اس کے بعد پولیس اسٹیشن اے سی بی بارہمولہ میں ایف آئی آر نمبر۰۱/۲۰۲۶درج کی گئی، جو انسداد بدعنوانی ایکٹ۱۹۸۸(ترمیم شدہ ۲۰۱۸) کی دفعہ۷؍ اور بھارتیہ نیایا سنہتا۲۰۲۳کی دفعہ۶۱کے تحت درج کی گئی۔
تحقیقات کے دوران اے سی بی ٹیم نے ایک کامیاب ٹریپ بچھایا اور دونوں سرکاری ملازمین کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں ملزمان کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رشوت لینا اور دینا دونوں جرم ہیں، اور اگر کوئی سرکاری ملازم کسی کام کے عوض رشوت طلب کرے تو شہری اے سی بی کی ٹول فری ہیلپ لائن پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شکایات ’ستارک نگرک‘ موبائل ایپ یا ای میل کے ذریعے بھی درج کرائی جا سکتی ہیں۔










