سی اے جی کی واضح اور منصفانہ بھرتی پالیسی بنانے اور جامع بھرتی قواعد مرتب کرنے کی ہدایت
ویب ڈیسک
سرینگر؍۷؍ اپریل
کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے جموں یونیورسٹی میں انسانی وسائل کے انتظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں بے ضابطہ تقرریاں، عملے کی کمی اور شفاف بھرتی پالیسی کا فقدان شامل ہے۔
اس نے ایک واضح اور منصفانہ بھرتی پالیسی بنانے اور جامع بھرتی قواعد مرتب کرنے کی سختی سے سفارش کی ہے۔
سی اے جی نے کہا کہ یونیورسٹی کا انسانی وسائل کا نظام غیر مؤثر ہے، جس میں بے ضابطہ تقرریاں، قبل از وقت اور غیر ضروری ترقیاں، اور مقررہ اصولوں سے انحراف شامل ہیں۔
یونین ٹیریٹری کے مالیاتی امور سے متعلق۳۱ مارچ۲۰۲۴کو ختم ہونے والے سال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔’’۳۸۷؍اساتذہ کی منظور شدہ تعداد کے مقابلے میں مارچ۲۰۲۲ تک صرف۲۴۰ مستقل اساتذہ (۶۲فیصد) دستیاب تھے‘‘۔
آڈٹ رپورٹ میں دسمبر۲۰۱۶ سے فروری۲۰۲۲ کے درمیان پی ایچ ڈی حاصل کرنے والے۲۶؍ اسسٹنٹ پروفیسرز کو ایڈوانس انکریمنٹس دینے کی بے ضابطگی کی نشاندہی کی گئی۔یہ اقدام اس کے باوجود کیا گیا کہ وزارت انسانی وسائل کی ترقی نے نومبر۲۰۱۷ میں ساتویں تنخواہ کمیشن کے نفاذ کے بعد اس سہولت کو واپس لے لیا تھا۔
مالیاتی مشیر برائے جامعات نے بھی مئی۲۰۱۸ میں ایسے انکریمنٹس کو مسترد کر دیا تھا۔ اس بے ضابطہ فیصلے سے یونیورسٹی پر تقریباً۱ء۲۰کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑا۔آڈٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ نان ٹیچنگ اسامیوں کی۱۴۲؍ اقسام میں سے۷۷ کے لیے بھرتی کے قواعد ہی وضع نہیں کیے گئے، جس کے باعث تقرریوں اور ترقیوں میں عدم یکسانیت اور من مانی پیدا ہوئی۔
کئی معاملات میں ایڈہاک اور کنٹریکچول ملازمین کو باقاعدہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے مستقل کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے’’ڈپٹی لائبریرین کے براہ راست تقرری کے عہدوں پر لیٹرل انٹری کے ذریعے موجودہ ملازمین کو غیر ضروری فائدہ پہنچایا گیا۔ اسسٹنٹ رجسٹرارز کو اوپن میرٹ کے عہدوں پر ڈپٹی رجسٹرار کے طور پر مقرر کیا گیا، جو یو جی سی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے‘‘۔
رپورٹ کے مطابق کنٹریکچول تقرریاں مقررہ حد سے زیادہ تھیں، جہاں کل فیکلٹی کے۱۰فیصد کے مقابلے میں۱۲۱ کنٹریکچول اساتذہ تعینات کیے گئے۔کچھ معاملات میں خود مالیاتی کورسز کے کنٹریکچول عملے کی تنخواہیں بھی سرکاری فنڈز سے ادا کی گئیں، جو قواعد کے خلاف ہے۔
ریڈر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات کیا گیا جن کے پاس مطلوبہ تدریسی تجربہ نہیں تھا، جس سے یو جی سی کے مقرر کردہ تعلیمی معیار متاثر ہوئے۔جامع بھرتی قواعد کی عدم موجودگی میں یونیورسٹی کے پاس نان ٹیچنگ عملے کے لیے ترقی کا کوئی یکساں نظام بھی موجود نہیں تھا۔
آڈٹ نے نشاندہی کی کہ اگرچہ کچھ عہدوں کے لیے تین سطحی ترقیاتی اسکیم موجود تھی، مگر اکیڈمک گریڈ پے اور کیریئر ایڈوانسمنٹ اسکیم کے فوائد بعض نان ٹیچنگ عہدوں کو بھی دیے گئے، انہیں نان ویکیشن اکیڈمک پوسٹس قرار دے کر۔مزید یہ کہ یو جی سی کی کیریئر ایڈوانسمنٹ اسکیم کو بعض نان ٹیچنگ عہدوں پر اسسٹنٹ رجسٹرار اور ڈپٹی رجسٹرار کے برابر قرار دے کر لاگو کیا گیا، جس سے غیر ضروری مالی اپ گریڈیشن ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے’’یہ فوائد بعض صورتوں میں ماضی سے نافذ کیے گئے، جس سے سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ پڑا‘‘۔
اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے سی اے جی نے یونیورسٹی سے کہا کہ ایک واضح، منصفانہ اور شفاف بھرتی پالیسی اپنائی جائے۔اس نے تمام اسامیوں کے لیے بھرتی قواعد کو حتمی شکل دینے اور ترقی کے واضح مراحل متعین کرنے کی بھی سفارش کی تاکہ شفافیت اور دیانتداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایک لیکچرار کو لِین پر خالی اسامی پر تعینات کیا گیا اور پانچ ماہ کے وقفے کے باوجود اسے سابقہ سروس کے۲ء۵ سال ترقی کے لیے شمار کیے گئے، جس سے اسے۱۶ء۲۵لاکھ روپے کا غیر ضروری فائدہ ہوا۔
ایک اور لیکچرار کی کارپوریٹ سروس کو غیر معمولی رخصت کے دوران انکریمنٹس اور سی اے ایس کے لیے شمار کیا گیا، جس سے۱۹ء۶۳لاکھ روپے کی اضافی ادائیگی ہوئی۔ایک سیکشن آفیسر کو۲۰۰۷ میں ایک غیر موجود عہدے پر عارضی طور پر تعینات کیا گیا اور بعد میں بغیر منظوری کے اسے میڈیا آفیسر کے طور پر مستقل کر دیا گیا۔
ایک کنٹریکچول ملازم کو۲۰۰۹میں افسر مقرر کیا گیا، جس میں زیادہ اہل امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ ایک زائد العمر امیدوار کو۲۰۱۳ میں لینڈ اسکیپ ڈیولپمنٹ آفیسر مقرر کیا گیا، جس میں عمر کی رعایت بے ضابطہ طور پر دی گئی۔
یونیورسٹی نے۲۰۰۲سے۲۰۱۱کے دوران۶۰۷ عارضی اور کنٹریکچول ملازمین بغیر اسامیوں کے تعینات کیے، جس پر۲۰۱۲کی ایک تحقیقات میں بدنیتی اور طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔مزید یہ کہ۲۰۱۴ میں۱۶ ٹائپسٹ اسامیوں کو کمپیوٹر اسسٹنٹ میں تبدیل کیا گیا، جس کے بعد۱۰؍ افراد کو تعینات کیا گیا اور چار ڈیلی ویجز ملازمین کو بھی مستقل کیا گیا۔
اسی طرح۲۶؍ اسسٹنٹ پروفیسرز کو پی ایچ ڈی پر غلط قواعد کے تحت اضافی انکریمنٹس دیے گئے، جس سے غیر ضروری مالی فوائد حاصل ہوئے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یونیورسٹی میں حکمرانی کو بہتر بنانے، یو جی سی کے اصولوں کی پابندی یقینی بنانے اور تعلیمی معیار برقرار رکھنے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔اس کے ساتھ ہی نان ٹیچنگ عملے کے لیے ترقی کا یکساں نظام اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ عدم مساوات کو ختم کیا جا سکے اور ادارے میں مساوی ترقی کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔










