انتخابی دھاندلی، مظاہرین پر طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ
(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۳۱جولائی
بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے زیر قبضہ کشمیر میں جاری کریک ڈاؤن کے دوران۴۰ سے زائد شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
نئی دہلی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے مبینہ استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور پاکستان کو اس کا جواب دہ بنائے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی انتظامیہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں پرامن شہریوں کے خلاف ’بے رحمانہ طاقت‘ کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں۴۰ سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
جیسوال نے دعویٰ کیا کہ وہاں ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پاکستانی انتظامیہ کے خلاف عوامی ردعمل کی عکاس ہے۔
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی۴۵ نشستوں پر انتخابات تین مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جن کا اختتام۱۰؍اگست کو ہوگا۔ اسمبلی کی مجموعی۵۳ نشستوں میں سے۴۵ پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ۸نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور علما کے لیے مخصوص ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے کے انتخابات۲۷ جولائی کو ہوئے، جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے۱۳ میں سے۹نشستیں حاصل کیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے باقی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ تاہم ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر مبینہ دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
بھارت نے ان انتخابات کو پاکستان کی جانب سے اپنے ’’غیر قانونی قبضے‘‘ کو چھپانے اور علاقے میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی قیادت میں احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ غیر مقامی افراد کے لیے مخصوص۱۲ نشستوں کے ذریعے اسلام آباد اپنی پسند کی حکومت قائم کرتا ہے، جس سے مقامی عوام کی نمائندگی متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اسلام آباد میں برسراقتدار جماعت ہی وہاں کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی بے اختیاری کے علاوہ معاشی مشکلات، شہری آزادیوں پر بڑھتی پابندیاں، گندم اور ضروری ادویات کی قلت اور طویل بجلی بندش کے خلاف بھی عوامی ناراضی میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین کے۳۸ نکاتی چارٹر میں مالی بدعنوانی اور حکمران طبقے کو حاصل غیر معمولی مراعات کو بھی ہدف بنایا گیا ہے، جبکہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اب تک۱۵۰؍افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انتخابات کے بعد علاقے میں انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ تشدد کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلے مرحلے کے دوران اس کے کم از کم۱۴ کارکن مارے گئے جبکہ دو درجن سے زائد زخمی ہوئے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ’’بھارت جیسے دشمن‘‘ قرار دیا اور ان سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا۔
اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’’پاکستانی وزیر دفاع کے بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ وہاں کی حکومت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔‘‘
جیسوال نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیراعظم پاکستان کے خصوصی معاون برائے سیاسی امور نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ جن مسلح عناصر کو ماضی میں بھارت کے خلاف تیار کیا گیا تھا، وہ اب خود پاکستانی ریاست کے خلاف سرگرم ہو چکے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام نے مبینہ غیر قانونی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کے لیے بین الاقوامی اداروں سے رجوع کیا ہے، اور بھارت عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لے اور اسے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جواب دہ ٹھہرائے۔










