لیفٹیننٹ گورنر سنہا کادہشت گردی کے نیٹ ورک کے خاتمے، زیرو ٹالرنس پالیسی اور غیر روایتی جنگی چیلنجز سے نمٹنے پر زور
’سرکاری نظام میں دہشت گردوں کے ہمدرد عناصر کی جو منظم دراندازی ہوئی تھی، اسے فیصلہ کن انداز میں ختم کر دیا گیا ہے‘
(ایجنسیاں)
سرینگر؍۳۱جولائی
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں رونما ہونے والی تبدیلی عوامی اعتماد کی بحالی، شہریوں کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے اور طویل عرصے سے عدم استحکام کی نذر ہونے والے وقار کی بحالی کے لیے مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر جمعہ کو لوک بھون میں آرمی وار کالج، مہو (مدھیہ پردیش) کے ہائر کمانڈ کورس۵۵میں شریک افسران اور فیکلٹی ارکان سے خطاب کر رہے تھے۔
سنہا نے اپنے خطاب میں موجودہ دور کے جغرافیائی سیاسی اور جغرافیائی تزویراتی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے حکومت کے تمام اداروں کی مشترکہ حکمت عملی پر مبنی جامع انسدادِ دہشت گردی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔
ایل جی نے کہا کہ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ حکمرانی دور بیٹھ کر نہیں چلائی جا سکتی بلکہ مؤثر انتظامیہ کو دور دراز دیہات کے ہر گھر تک پہنچ کر معاشرے کے سب سے پسماندہ طبقے کی خدمت پوری ذمہ داری اور عزم کے ساتھ کرنی چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ موجودہ دور میں سکیورٹی فورسز کو غیر روایتی جنگ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق آج کے حالات میں روایتی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کے تجزیے اور الگورتھم پر مبنی درستگی بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
سنہانے کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے ڈھانچے اور دہشت گردی کو زندہ رکھنے والے عناصر کے خلاف انتہائی مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں کی گئی ہیں۔
ایل جی نے کہا، ’’گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سرکاری نظام میں دہشت گردوں کے ہمدرد عناصر کی جو منظم دراندازی ہوئی تھی، اسے فیصلہ کن انداز میں ختم کر دیا گیا ہے، جس سے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا واضح پیغام گیا ہے۔ اب عوام کا پیسہ ایسے عناصر کی سرپرستی کے لیے استعمال نہیں ہوگا جو خاموشی سے ملک کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔‘‘
تقریب میں آرمی وار کالج کے کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل اجے چندپوریا، کالج کے فیکلٹی ارکان اور سکیورٹی فورسز کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔










