ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

گاندربل واقعہ کی تحقیقات کا صحیح فیصلہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-04
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جموں و کشمیر کی حالیہ تاریخ میں ۲۰۱۹ ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سال کے بعد جہاں سیاسی، انتظامی اور سیکورٹی سطح پر کئی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں، وہیں ایک نمایاں پہلو شہری ہلاکتوں میں واضح کمی یا تقریباً مکمل ٹھہراؤ کا بھی سامنے آیا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف زمینی صورتحال کو متاثر کیا بلکہ عام لوگوں کے ذہنوں میں تحفظ کے احساس کو بھی ایک نئی شکل دی۔ ماضی میں جہاں عام شہری اکثر دو طرفہ تشدد کا شکار بنتے تھے، وہیں اب حالات میں ایک قابلِ ذکر فرق محسوس کیا جا رہا ہے۔

۲۰۱۹ سے قبل کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کشمیر میں تشدد کی نوعیت زیادہ پیچیدہ اور غیر متوقع تھی۔ دہشت گرد تنظیمیں عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتی تھیں، جبکہ بعض مواقع پر سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران بھی شہری ہلاکتیں ہو جاتی تھیں۔ ایسے واقعات نہ صرف انسانی المیے کا باعث بنتے تھے بلکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے تھے۔ کئی مرتبہ ان واقعات کی تحقیقات کا اعلان تو کیا جاتا تھا، مگر ان کے نتائج شاذ و نادر ہی منظر عام پر آتے تھے، جس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہو جاتے تھے۔

متعلقہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

تاہم ۲۰۱۹ کے بعد ایک مختلف تصویر سامنے آئی۔ سیکورٹی آپریشنز میں احتیاط، انٹیلی جنس کی بہتری اور جدید حکمت عملیوں کے باعث شہری ہلاکتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عام لوگوں کی زندگی میں معمول کی واپسی، بازاروں کی رونق، تعلیمی اداروں کی فعالیت اور سیاحت میں اضافہ، سب اسی بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کے عکاس ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس عرصے میں ایک حد تک ’نارملسی‘ کا احساس پیدا ہوا ہے، جو ماضی میں ایک خواب محسوس ہوتا تھا۔

لیکن اس مثبت تصویر کے درمیان گاندربل کے علاقے ارہامہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک سنجیدہ سوال بھی اٹھاتا ہے۔ یکم اپریل کو ہونے والی ایک معرکہ آرائی میں ایک مقامی شہری، راشد احمد مغل، کی ہلاکت ہوئی۔ اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک عام شہری تھا اور اس کا کسی دہشت گرد سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ایسے حساس مواقع پر ریاستی ردعمل انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس تناظر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے فوری طور پر ایک غیر جانبدارانہ مجسٹریل انکوائری کا حکم دینا ایک مثبت اور اطمینان بخش قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس انکوائری میں واقعہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور حقائق کو سامنے لایا جائے گا۔ مزید یہ کہ تحقیقات کو ایک مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جو ماضی کے برعکس ایک سنجیدہ عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہاں اصل سوال صرف ایک واقعہ کی حقیقت معلوم کرنا نہیں، بلکہ اس پورے عمل کی شفافیت اور ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔ کشمیر جیسے حساس خطے میں اعتماد ایک نازک شے ہے، جو برسوں میں بنتا ہے اور ایک لمحے میں ٹوٹ سکتا ہے۔ اگر اس انکوائری کو دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ مکمل کیا جاتا ہے اور اس کے نتائج بلا تاخیر عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف انصاف کی فراہمی ہوگی بلکہ عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بھی بنے گا۔

ماضی کا تجربہ اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ کئی ایسے واقعات ہیں جہاں تحقیقات کا اعلان تو ہوا، مگر ان کے نتائج یا تو تاخیر کا شکار ہوئے یا مکمل طور پر منظر عام پر نہیں آئے۔ اس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ انصاف کا عمل محض ایک رسمی کارروائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاندربل واقعہ کی انکوائری کو ایک امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے‘ایک ایسا امتحان جس میں نہ صرف موجودہ انتظامیہ بلکہ پورا نظام اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا رہا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سیکورٹی چیلنجز مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ دراندازی، مقامی سطح پر دہشت گردی اور سرحد پار سے حمایت جیسے عوامل اب بھی موجود ہیں۔ ایسے میں سیکورٹی فورسز کو نہایت پیچیدہ حالات میں کام کرنا پڑتا ہے، جہاں ایک لمحے کی غلطی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں پیشہ ورانہ مہارت، احتیاط اور انسانی جان کی قدر کو اولین ترجیح دینا ضروری ہو جاتا ہے۔

گاندربل کا واقعہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ امن کا عمل محض اعداد و شمار سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اگرچہ مجموعی طور پر شہری ہلاکتوں میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن ایک بھی بے گناہ جان کا ضیاع اس کامیابی کو سوالیہ نشان بنا سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ایسے واقعہ کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس سے سیکھنے کی کوشش کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچا جا سکے۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ایک ’روایت شکن‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور ان سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس انکوائری کو ایک مثال بنائیں گے۔ اگر وہ اس عمل کو شفاف، بروقت اور نتیجہ خیز بناتے ہیں، تو یہ نہ صرف موجودہ واقعہ کے متاثرین کے لیے انصاف ہوگا بلکہ پورے خطے میں ایک مثبت پیغام بھی جائے گا کہ ریاستی ادارے جوابدہ ہیں اور انصاف محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔

آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ کشمیر میں ۲۰۱۹ کے بعد آنے والی تبدیلیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کا تسلسل اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب انصاف کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ گاندربل کا واقعہ ایک آزمائش ہے‘نہ صرف انتظامیہ کے لیے بلکہ اس بیانیے کے لیے بھی جو ایک پرامن اور مستحکم کشمیر کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس آزمائش میں ہم کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

اگر اس بار حقائق واقعی سامنے آتے ہیں، اور ذمہ داروں کا تعین کر کے مناسب کارروائی کی جاتی ہے، تو یہ ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ایک ایسا دور جہاں انصاف تاخیر کا شکار نہیں بلکہ بروقت اور نظر آنے والا عمل ہو۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

گاندربل واقعہ کی مجسٹریل جانچ کا حکم

Next Post

کوئی فرق نہیں ہے !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

کوئی فرق نہیں ہے !

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.