ہمارے ایک جان پہچان والے ہیں… یہ سجن ہمیشہ شکایت کرتے رہتے ہیں… کسی کو نہیں بخشتے، کسی کو بھی نہیں۔ کبھی ان کے نشانے پر محلے کا کاندرو (نانوائی) ہوتا ہے تو کبھی پج (قصاب)۔ ان سے ان کی یہی شکایت رہتی ہے کہ کاندرو روٹیوں کا وزن مقررہ یا طے شدہ مقدار سے کم رکھتا ہے اور پج من چاہے ریٹ پر بھی اچھا گوشت نہیں دیتا… ان کی پج سے بھی کم تولنے کی شکایت کوئی نئی بات نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے…بالکل بھی نہیں ہے…کہ ان کے نشانے پر صرف کاندرو اور پج ہیں… ایسا نہیں ہے۔ گور (دودھ والا) بھی ہوتا ہے؛ اس پر الزام رہتا ہے کہ وہ دودھ میں پانی نہیں بلکہ پانی میں دودھ ملاتا ہے… ژامن (پنیر) صویابین کی بناتا ہے اور زامت دود (دہی) کھٹا ہوتا ہے۔ ترکاریاں خریدنے کے بعد ان کی زبان قصائی کی چھری سے بھی تیز چلتی ہے، کیونکہ ان کا جاننا اور ماننا ہے کہ کشمیر میں لوگوں کو اگر کوئی ضروری اشیا سب سے مہنگے داموں پر ملتی ہیں تو وہ ترکاریاں اور پھل ہیں…جو مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معیاری، گلی سڑی بھی ہوتی ہیں۔ان سجن کی زیادہ تر شکایات صحیح ہوتی ہیں، جن سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی—بالکل بھی نہیں ہوتی۔ ہم بہ حیثیت ایک قوم روپے پیسے کمانے کے چکر میں غلط اور صحیح میں فرق بھول گئے ہیں…سو فیصد بھول گئے ہیں۔ معاشی ترقی کی فکر میں ہم معاشرتی تنزل کی ایک ایسی داستان رقم کر رہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو، اللہ میاں کی قسم، ہماری داستان بھی داستانوں میں نہیں رہے گی…بالکل بھی نہیں رہے گی۔ لیکن ہمیں اس کی فکر نہیں ہے، اس کی پرواہ نہیں ہے…اور اس لیے نہیں ہے کہ ہمیں کامیاب جو ہونا ہے، روپے پیسے اور نام جو کمانا ہے… کسی بھی قیمت پر…جی ہاں، کسی بھی قیمت پر۔خیر! لوٹ آتے ہیں اس سجن پر۔ یہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور آئندہ ایک دو سال میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اپنی ملازمت میں انہوں نے کبھی رشوت لی ہے یا نہیں…ہم مان کر چلتے ہیں کہ انہوں نے کبھی رشوت نہیں لی، بالکل بھی نہیں لی۔ لیکن ہم جانتے ہیں…اور سو فیصد جانتے ہیں…کہ انہیں روزانہ جتنے گھنٹے دفتر میں ہونا چاہیے، وہ نہیں ہوتے…بالکل بھی نہیں ہوتے۔ لیکن تنخواہ برابر لیتے ہیں، اتنی جتنی سرکار نے انہیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر یہ سرکار کو اپنا اتنا وقت نہیں دیتے جتنا انہوں نے وعدہ کیا ہے… تو صاحب! کاندرو، پج، دودھ اور سبزی فروش…جن کی یہ ہمیشہ شکایت کرتے رہتے ہیں…اُن میں اور اس سجن میں کوئی فرق ہے؟ بالکل بھی نہیں ہے… ہے نا؟



