جموں و کشمیر میں سیاحت وادی کی شناخت، اس کی تہذیب اور اس کے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا اہم ستون رہی ہے۔ جب ڈل جھیل کے کنارے واقع ایشیا کے سب سے بڑے ٹیولپ گارڈن کو دوبارہ سیاحوں کے لیے کھولا گیا تو یہ محض ایک باغ کی رونق کی بحالی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے شعبے کی نئی شروعات تھی جو گزشتہ برس کے شدید دھچکوں سے ابھی تک سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اس افتتاح کو امید کی علامت قرار دینا دراصل اسی وسیع تر تناظر کی عکاسی کرتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر میں نسبتاً پرامن ماحول نے سیاحت کو ایک نئی بلندی تک پہنچایا تھا۔ ہوٹل، ہاؤس بوٹس، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور مقامی کاروبار سبھی اس سے مستفید ہو رہے تھے۔ لاکھوں افراد براہ راست یا بالواسطہ اس صنعت سے وابستہ ہیں، جن کی روزی روٹی اسی پر منحصر ہے۔ تاہم گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ اس کے اثرات نے پورے سیاحتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے بعد حفاظتی خدشات کے پیش نظر سیاحتی مقامات کو بند کرنا پڑا، جس نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ اس خطے میں سیاحت کا مستقبل امن و استحکام سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
ایسے میں ٹیولپ گارڈن کا دوبارہ کھلنا ایک علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ وادی اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض مقامات کو کھول دینا کافی ہے؟ یا اصل چیلنج اس اعتماد کو بحال کرنا ہے جو کسی بھی سیاحتی صنعت کی بنیاد ہوتا ہے؟
سیاحت صرف خوبصورت مناظر یا خوشگوار موسم کا نام نہیں بلکہ یہ احساسِ تحفظ، سہولت اور اعتماد کا مجموعہ ہے۔ جب کوئی سیاح کسی مقام کا انتخاب کرتا ہے تو وہ صرف فطری حسن نہیں دیکھتا بلکہ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہاں کا ماحول کتنا محفوظ اور مستحکم ہے۔ گزشتہ سال کے واقعات نے اس اعتماد کو متاثر کیا ہے، اور اس کی بحالی وقت اور مستقل کوششوں کا تقاضا کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے فلوری کلچر کو ایک تجارتی سرگرمی بنانے کی بات بھی قابل توجہ ہے۔ اگر ٹیولپ اور دیگر پھولوں کی پیداوار کو برآمدی سطح تک لے جایا جائے تو یہ نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ تاہم اس کے لیے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر کولڈ چین سسٹم، کی فراہمی ناگزیر ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جہاں حکومتی سنجیدگی اور عملی اقدامات کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ محض منصوبہ بندی یا بیانات سے آگے بڑھ کر زمینی سطح پر سہولیات فراہم کرنا ہی اس شعبے کو حقیقی معنوں میں ترقی دے سکتا ہے۔
اسی طرح مقامی سطح پر ٹیولپ کے بلب تیار کرنے کی کوشش بھی ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے نہ صرف درآمدی اخراجات کم ہوں گے بلکہ مقامی زرعی تحقیق اور صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ اقدامات اگر تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں تو جموں و کشمیر فلوری کلچر کے میدان میں ایک منفرد مقام حاصل کر سکتا ہے۔
تاہم سیاحت کی بحالی کا سب سے اہم پہلو سکیورٹی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات کا یقین دلایا ہے کہ تمام سیاحتی مقامات پر سکیورٹی ادارے اپنی موجودگی یقینی بنائیں گے۔ یہ یقین دہانی ضروری ضرور ہے، لیکن اس کا عملی مظاہرہ ہی اصل امتحان ہوگا۔ سیاحوں کا اعتماد اسی وقت بحال ہوگا جب وہ خود کو محفوظ محسوس کریں گے، نہ کہ صرف سرکاری دعوؤں پر انحصار کریں گے۔
دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اس سال باغ کو مقررہ وقت سے پہلے کھولنا پڑا کیونکہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پھول جلد کھل گئے۔ یہ ایک طرف قدرتی حسن کا مظہر ہے تو دوسری طرف ماحولیاتی تبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اگر موسم کے یہ غیر معمولی رجحانات جاری رہے تو مستقبل میں سیاحتی سیزن کی منصوبہ بندی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماحولیاتی پہلوؤں کو بھی سیاحتی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
افتتاحی دن عوامی جوش و خروش اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر امید ابھی زندہ ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ سیاحت دوبارہ اپنے عروج پر پہنچے، کیونکہ یہ صرف معیشت نہیں بلکہ سماجی استحکام کا بھی ذریعہ ہے۔ جب سیاحت فروغ پاتی ہے تو مقامی لوگوں کے لیے مواقع بڑھتے ہیں، بے روزگاری کم ہوتی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی کو تقویت ملتی ہے۔
لیکن اس سب کے درمیان ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: سیاحت کا شعبہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ بھی اس پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس لیے پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ صرف وقتی اقدامات پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اپنائی جائے جس میں سکیورٹی، انفراسٹرکچر، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی شراکت داری کو یکجا کیا جائے۔
جموں و کشمیر کے لیے یہ وقت ایک نئے امتحان کا ہے۔ ایک طرف ماضی کے زخم ہیں، دوسری طرف مستقبل کی امیدیں۔ ٹیولپ گارڈن کی رنگینی یقیناً دلکش ہے، لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ رنگینی پورے سال کی سیاحت میں نظر آئے، جب ہوٹل بھرے ہوں، بازار آباد ہوں اور لوگوں کے چہروں پر اعتماد کی جھلک ہو۔
سیاحت کی یہ نئی صبح ایک موقع بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ اگر اس موقع کو دانشمندی، سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ استعمال کیا گیا تو وادی ایک بار پھر عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ صرف ایک وقتی جوش تک محدود رہا تو گزشتہ سال کی طرح ایک اور دھچکا برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
آخرکار، سیاحت کی بحالی کا مطلب صرف دروازے کھولنا نہیں بلکہ دلوں میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط اور پائیدار سیاحتی صنعت قائم ہو سکتی ہے۔ اور شاید اسی میں جموں و کشمیر کی اصل کامیابی پوشیدہ ہے۔





