نئی دہلی، 11 مارچ (یو این آئی) وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز کہا کہ لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی دیانتداری پر سوال اٹھانا انتہائی قابلِ مذمت ہے ایوان کو چلانے کے لیے کچھ اصول بنائے گئے ہیں اور کسی کو بھی اصولوں کے خلاف بولنے کا حق نہیں ہے ایوان میں اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ تقریباً چار دہائیوں کے بعد لوک سبھا اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آئی ہے۔ پارلیمانی سیاست اور ایوان کے لیے یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ اسپیکر کسی جماعت کے نہیں بلکہ پورے ایوان کے ہوتے ہیں اور وہ ایوان کے تمام ارکان کے محافظ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 13 گھنٹے تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث ہوئی اور 42 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے اس میں حصہ لیا۔ ایوان میں اسپیکر کا فیصلہ حتمی سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے برعکس اپوزیشن نے ان کی دیانتداری پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ لوک سبھا ملک کی سب سے بڑی پنچایت ہے اور دنیا بھر میں ہماری جمہوریت کی ساکھ ہے۔ جب اس پنچایت کے سربراہ کی ساکھ پر سوال اٹھتا ہے، تو ہمارے جمہوری عمل پر سوال اٹھتا ہے۔ آئین نے اسپیکر کے عہدے کو ثالثی کا رول دیا ہے لیکن اسی پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ باہمی اعتماد سے چلتا ہے۔ ایوان کو چلانے کے لیے کچھ اصول بنائے گئے ہیں اور کسی کو بھی اصولوں کے خلاف بولنے کا حق نہیں ہے۔ اگر اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی تو اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے روکے اور ایسی کہی گئی باتوں کو کارروائی سے حذف کرے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اسپیکر کا فیصلہ موافق نہ ہونے کے باوجود ان کی دیانتداری پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے سے اختلاف کا اظہار کیا جا سکتا ہے، لیکن دیانتداری پر سوال اٹھانا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم زیادہ وقت تک اپوزیشن میں رہے، لیکن بی جے پی کبھی بھی اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد نہیں لائی۔ ہم نے ہمیشہ اسپیکر کے عہدے کے وقار کی حفاظت کرنے کا کام کیا ہے۔ کبھی بھی اسپیکر کی دیانتداری پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے، یہ ہماری پارٹی کا نظریہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ہر کوئی اسپیکر کی اہمیت سے واقف ہے۔ ان کی کارروائی کے فیصلوں میں سپریم کورٹ بھی مداخلت نہیں کرتی، تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنا کام انجام دے سکیں۔ ان کا فرض نظم و ضبط اور شائستگی برقرار رکھنا ہے۔ اگر کوئی بھی شخص کچھ بھی بولے گا، تو اسپیکر انہیں بولنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ کانگریس کے سینئر ارکان اپنے لیڈر کو کیوں نہیں سکھاتے، تاکہ انہیں اصولوں کے بارے میں علم ہو سکے۔ اپوزیشن ایوان کے بیچوں بیچ آکر کاغذ پھاڑ کر اسپیکر پر پھینک کر انہیں بے بس بنانا چاہتی ہے۔ رول 375 کے تحت سنگین بدنظمی کی وجہ سے ایوان کو ملتوی کرنا پڑتا ہے۔ ایوان کے اندر اپوزیشن کی خاتون ارکان کا وزیراعظم کی نشست تک آنا کہاں تک مناسب ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ رول 380 کے تحت اسپیکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ غیر پارلیمانی ریمارکس کو کارروائی سے حذف کر سکیں۔ غیر پارلیمانی الفاظ کی فہرست کسی ایک حکومت کے دور میں تیار نہیں کی گئی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ آئین نے سب کو حقوق دیے ہیں لیکن کسی کو خصوصی استحقاق حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تحریکِ عدم اعتماد لاتے وقت اس حوالے سے سنجیدہ ہی نہیں تھی کہ نوٹس کس طرح دیا جائے گا۔ اسپیکر نے خود نوٹس کی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع دیا، یہ ان کی بڑائی ہے۔ اپوزیشن ارکان اصولوں کو مانتے ہی نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں بولنے ہی نہیں دیا جاتا۔ ایوان ضوابط سے چلتا ہے اور جو ضابطوں کے مطابق نہیں بولے گا، اس کا مائیک بند کیا ہی جانا چاہیے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ ہم نے اپوزیشن ارکان کی پوری تقاریر سنی ہیں، جن میں 80 فیصد تقاریر صرف حکومت کی مخالفت کے لیے ہیں۔ حکومت کی مخالفت کرنے کے لیے وہ جمہوریت کے وقار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی رہنے کا معاملہ اٹھانے کا کانگریس کو کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ کانگریس نے اپنی ہی پارٹی کا ڈپٹی اسپیکر بنایا تھا۔ ہم نے کم از کم ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی رکھا، لیکن کانگریس نے تو حکمران جماعت سے ہی اس عہدے کو بھر دیا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مسٹر برلا نے وقتاً فوقتاً دیر رات تک ارکان کو ‘وقفہ صفر’ میں اپنے معاملات اٹھانے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے ایوان کے اندر 14 زبانوں میں بولنے کا انتظام کرایا۔ ان کے دورِ اقتدار میں پارلیمنٹ کو ڈیجیٹل بنایا گیا۔ ہم پوری پارلیمنٹ کو ‘پیپر لیس’ کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے امیج کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ایوان میں اپوزیشن لیڈروں کو بولنے نہیں دیا جاتا۔ بی جے پی نے کبھی اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش نہیں کی۔ اپوزیشن کی آواز تو 1975 میں دبائی گئی تھی جب پوری اپوزیشن جیل میں تھی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس اپوزیشن لیڈر کی آواز دبانے کا الزام لگاتی ہے، لیکن جب بولنے کا موقع ہوتا ہے، تب وہ بیرونِ ملک ہوتے ہیں۔ لوک سبھا کو بدنام کرنے کے لیے غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لے کر آئی ہے، اس میں بھی اپوزیشن لیڈر نے نہیں بولا ہے۔ وہ بولنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ جب بولتے ہیں تو ضابطوں کے خلاف بولتے ہیں۔ اگر اپوزیشن لیڈر کو کسی موضوع پر بولنے سے روک دیا گیا اور وہ بار بار اسی موضوع پر بولتے ہیں، تو انہیں ٹوکنا ہی پڑے گا۔ اپوزیشن لیڈر چاہتے ہیں کہ ان کی پریس کانفرنس پر بحث ہو لیکن اسپیکر نے اس کی اجازت نہ دے کر بڑا احسان کیا ہے۔ کسی کو ضابطے توڑ کر بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس دوران کانگریس کے ارکان نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد اسپیکر کے خلاف ہے، نہ کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ مسٹر گاندھی نے 16ویں اور 17ویں لوک سبھا کے دوران صدر کے خطاب کی بحث میں حصہ نہیں لیا اور کہتے ہیں کہ بولنے نہیں دیا جاتا۔ کئی اہم بلوں پر بحث میں اپوزیشن لیڈر نے حصہ نہیں لیا۔ جب بھی اہم اجلاس آتا ہے، اپوزیشن لیڈر غیر ملکی دورے پر ہوتے ہیں۔ جب وہ بیرونِ ملک رہیں گے تو یہاں بولنے کا موقع کیسے دیا جائے گا؟










