نہیں صاحب ہم اتنے بھی نا سمجھ نہیں ہیں جو یہ نہ سمجھیں کہ ایران میں کیا ہو رہا ہے اور کیا نہیں ہو رہا ہے …….لیکن صاحب ساتھ میں ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ ……. کہ ہم اتنے بھی سمجھدار نہیں ہیں اور بالکل بھی نہیں ہیں جو یہ سمجھیں ‘ کلی طور پر سمجھیں کہ ایران میں جو ہو رہاہے کیوں ہو رہا ہے …….اتنی سمجھ اللہ میاں نے ہمیں عطا نہیں کی ہے ……. بالکل بھی نہیں کی ہے ۔ لیکن ہم جیسے سب کہاں ؟اپنے کشمیر میں ایسے بھی لوگ ہیں جوبڑے سمجھدار ہیں ‘اتنے سمجھدار کہ ان کی سمجھ میں سب آرہا ہے وہ سب کچھ جو ایران میں ہو رہا ہے ……. ایران جو اس کے ردعمل میں کررہا ہے ……. خلیجی ممالک میں کررہا ہے ‘ سعودی عرب میں کررہا ہے ……. یہ سب باتیں ان کی سمجھ میں آ رہی ہیں ……. یہ اتنے سمجھدار ہیں کہ ان سب معاملات کو سمجھنا ان کیلئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ……. نہیں ہو تا تو کشمیر کی سڑکوں اور گلی کوچوں پر ‘ نائی کی دکان پر ‘ کاندو کے تندور پر ‘ مسجد کے حمام پر لوگ ……. کشمیر کے لوگ اس صورتحال پر اپنی رائے ‘ اپنا تجزیہ پیش نہیں کرتے ……. یا پیش نہیں کر پاتے ۔ایسے تجزیے کہ ایران ‘ اسرائیل اور امریکہ تک اگر یہ پہنچ جائیں تو ……. تو وہ بھی دھنگ ہو کر رہ جائیں گے ۔ بات عام……. کشمیر کے عام لوگوں کی نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہے بلکہ کشمیر کے خاص لوگوں کی بھی ہے……. ان لوگوں کی جن کا کام ہی لکھنا اور پڑھنا ہے ……. یہ حضرات بھی ایران صورتحال پر ایسا ویسا کچھ لکھ اور کہہ رہے ہیں کہ ……. کہ جی کرتا ہے کہ انہیں سیدھا تہران ‘تل ابیب اور واشنگٹن میں کسی اخبار کا ایڈیٹر ان چیف کا عہدہ سونپ دیں ……. واللہ کیا نظر ہے ان کی ‘ کیا تجزیہ ہے ان کا ۔ ہم تو زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں یا کہنا نہیں چاہتے ہیں سوائے اس ایک بات کے کہ صاحب !جو ہو رہاہے اس سے آپ کے جذبات یقیناً چھلنی ہیں اور اگر آپ اگر ان چھلنی جذبات کا پر امن اظہا ر کرتے ہیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں ……. لیکن ایران میں کیا ہو رہاہے اور کیوں ہو رہا ہے ‘ صاحب اس پر اپنی رائے اور تجزیے اپنے پاس ہی رکھیں تو اچھا ہے کہ ……. کہ ابھی ہم سب ‘ جی ہاں ہم سب عالمی امور میں اتنے بھی ماہر نہیں ہو ئے ہیں ‘ اتنے بھی سمجھدار نہیں ہیں جو ہم یہ سب کچھ سمجھ سکیںیا ہماری اس نا سمجھ ‘ سمجھ کو کچھ سمجھ آ سکے ۔ ہے نا؟




