جموں و کشمیر میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک ہمہ گیر سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار نے اس خطرے کی سنگینی کو پوری طرح عیاں کر دیا ہے۔ جب سرکاری سطح پر یہ اعتراف سامنے آئے کہ صرف وادی کے دس اضلاع میں تقریباً ستر ہزار افراد منشیات کے استعمال میں مبتلا ہیں اور ان میں پچاس ہزار ہیروئن جیسی مہلک منشیات کے عادی ہیں، تو یہ محض اعداد نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے بکھرنے کی داستان ہے۔
یہ حقیقت کہ اب تک تقریباً انہتر ہزار متاثرہ نوجوانوں کو علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، بلاشبہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کی عکاس ہے۔ ضلع اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور منشیات مخالف مراکز میں او پی ڈی، ایمرجنسی خدمات اور متبادل ادویات کے پروگراموں کا اجرا ایک مثبت قدم ہے۔ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد گیارہ ہزار سے تجاوز کر جانا اس بات کی دلیل ہے کہ مسئلہ کتنا وسیع ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ متاثرین علاج کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ یہ رجحان امید کی ایک کرن ضرور فراہم کرتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا علاج اور بحالی کی موجودہ سہولیات اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کے لیے کافی ہیں؟ منشیات کا مسئلہ محض اسپتالوں اور کلینکوں میں حل نہیں ہو سکتا۔ اس کی جڑیں معاشی بے یقینی، بے روزگاری، سماجی تنہائی، ذہنی دباؤ اور بعض اوقات خاندانی ٹوٹ پھوٹ میں پیوست ہوتی ہیں۔ جب نوجوان خود کو بے سمت محسوس کرتا ہے تو وہ وقتی سکون کی تلاش میں اس راستے پر چل نکلتا ہے جو بالآخر اسے اندھیری کھائی میں دھکیل دیتا ہے۔
حکومت کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی مہمات، کمیونٹی سطح پر شعور بیداری اور ہیلپ لائن۱۰۴ کی فعالیت جیسے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ لیکن آگاہی مہم اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب وہ محض رسمی تقریبات تک محدود نہ رہے بلکہ مسلسل، منظم اور نتائج پر مبنی ہو۔ اساتذہ، والدین اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کو بھی اس جدوجہد کا فعال حصہ بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کے ساتھ مکالمہ ضروری ہے، محض نصیحت نہیں۔ انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ تنہا نہیں اور معاشرہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
سرینگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز سمیت مختلف اداروں میں تربیتی و بحالی پروگراموں کا اجرا ایک اہم پیش رفت ہے۔ ذہنی صحت اور منشیات کے استعمال کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ اگر ڈپریشن، اضطراب اور دیگر نفسیاتی مسائل کا بروقت علاج نہ ہو تو نوجوان آسانی سے منشیات کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذہنی صحت کے کلینکوں کا قیام اور ماہرینِ نفسیات کی دستیابی ناگزیر ہے۔ تاہم دیہی علاقوں میں ان سہولیات کی رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جسے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں بھی اسی قدر اہم ہیں۔ جموں پولیس کی جانب سے ایک منشیات فروش کی گرفتاری اور ہیروئن کی برآمدگی اس بات کی علامت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سرگرم عمل ہیں۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر یہ زہر نوجوانوں تک پہنچ کیسے رہا ہے؟ جب تک سپلائی چین کو مکمل طور پر توڑا نہیں جاتا، صرف چھوٹے موٹے اسمگلروں کی گرفتاری سے مسئلہ جڑ سے ختم نہیں ہوگا۔ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور بین الریاستی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
منشیات کے خلاف جنگ دراصل دو محاذوں پر لڑی جاتی ہے: ایک علاج و بحالی کا، دوسرا روک تھام اور انسداد کا۔ اگر ایک پہلو کمزور پڑ جائے تو پوری حکمت عملی غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ اس ضمن میں این سی او آر ڈی میٹنگز اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، مگر اس کے نتائج کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے بھی لایا جانا چاہیے تاکہ اعتماد بحال رہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ منشیات کے عادی افراد کو محض مجرم سمجھ کر جیل بھیج دینا مسئلے کا حل نہیں۔ انہیں مریض سمجھ کر علاج اور بحالی کا موقع دینا ہوگا۔ سماجی بدنامی اکثر متاثرہ نوجوانوں کو علاج سے دور رکھتی ہے۔ خاندانوں کو چاہیے کہ وہ شرمندگی کے خوف سے حقیقت کو چھپانے کے بجائے بروقت مدد حاصل کریں۔ معاشرے کو بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو روزگار اور مثبت سرگرمیوں کی فراہمی ہے۔ کھیلوں کے میدان، فنی تربیت کے مراکز، اسٹارٹ اپ مواقع اور ہنر مندی کے پروگرام نوجوانوں کو ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ جب نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا اور مستقبل روشن نظر آئے گا تو وہ تباہ کن راستوں سے دور رہے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات کے انسداد کی پالیسی کو روزگار، تعلیم اور کھیلوں کی پالیسیوں کے ساتھ مربوط کرے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی بیان بازی کا حصہ بنانے کے بجائے اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے۔ یہ نہ کسی ایک ضلع کا مسئلہ ہے اور نہ کسی ایک طبقے کا۔ یہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر آج ہم نے سنجیدگی سے اس کا مقابلہ نہ کیا تو کل اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
امید کی بات یہ ہے کہ سرکاری سطح پر مسئلے کا اعتراف ہو چکا ہے اور عملی اقدامات بھی جاری ہیں۔ مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اقدامات کو وسعت دی جائے، ان کی نگرانی مؤثر ہو اور نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ ہر اسکول، ہر کالج، ہر محلہ اور ہر گاؤں میں یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ منشیات تباہی کا راستہ ہے اور اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
جموں و کشمیر کے نوجوان اس خطے کا مستقبل ہیں۔ انہیں مایوسی، بے یقینی اور منشیات کے اندھیروں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی اداروں، والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی قیادت اور خود نوجوانوں کو مل کر اس وبا کے خلاف صف آرا ہونا ہوگا۔ اگر اجتماعی ارادہ مضبوط ہو تو کوئی بحران ناقابلِ حل نہیں رہتا۔ منشیات کے خلاف یہ جنگ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں—بشرطیکہ ہم سب اس ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کریں۔





