جموں و کشمیر کی اسمبلی میں پیش کیے گئے تازہ اعداد و شمار اس خوف کی عکاسی کرتے ہیں جو اس خطے کے لوگوں کو اپنی روز مرہ زندگی میں لاحق ہے ۔ دو برسوں یعنی۲۰۲۴؍اور۲۰۲۵کے دوران دو لاکھ سے زائد افراد کے کتے کے کاٹنے کا شکار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اوسطاً ہر دن سیکڑوں شہری اس خطرے سے دوچار رہے۔ یہ محض صحتِ عامہ کا مسئلہ نہیں بلکہ شہری نظم و نسق، قانونی پالیسی اور سماجی رویّوں کا مجموعی بحران بن چکا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صورتحال محض چند علاقوں تک محدود نہیں۔ جموں ضلع میں سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سری نگر، بارہمولہ اور اننت ناگ بھی اس فہرست میں نمایاں ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ دیہی یا شہری کسی ایک جغرافیے تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے خطے کی اجتماعی حقیقت بن چکا ہے۔ ایک طرف بچے اسکول جاتے ہوئے خوفزدہ ہیں، دوسری طرف بزرگ سڑک پار کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے میں ریاستی اداروں کے لیے یہ معاملہ انتظامی ترجیح بن جانا چاہیے تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
دلچسپ مگر تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حکومتی رپورٹ کے مطابق جموں میونسپل حدود میں آوارہ کتوں کی آبادی میں اضافہ رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ سری نگر میں۲۰۲۳کے سائنسی سروے کے مطابق تقریباً چونسٹھ ہزار آوارہ کتے موجود تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آبادی میں اضافہ نہیں ہوا تو کاٹنے کے واقعات میں اضافہ کیوں ہوا؟ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ مسئلہ صرف تعداد کا نہیں بلکہ نظم و نسق، نگرانی اور شہری ماحول کا بھی ہے۔ کچرے کے ڈھیر، غیر محفوظ گلیاں اور ناقص ویسٹ مینجمنٹ آوارہ کتوں کے لیے قدرتی پناہ گاہیں بن جاتے ہیں۔
یہاں اصل الجھن انسانی ہمدردی اور انسانی تحفظ کے درمیان توازن کی ہے۔ برسوں سے’کیچ، اسٹریلائز، ریلیز‘ یعنی پکڑو، بانجھ بناؤ اور واپس چھوڑ دو کی پالیسی کو واحد قانونی راستہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ مگر جب یہی پالیسی عملی طور پر شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام نظر آئے تو اس پر نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ سپریم کورٹ کی حالیہ کارروائیوں نے اسی بحث کو نئی سمت دی ہے۔ عدالت نے پہلی بار واضح طور پر انسانی جان کو مرکز میں رکھتے ہوئے ریاستوں کو جوابدہ ٹھہرانے کا عندیہ دیا ہے۔
عدالت کے ریمارکس کہ عوامی مقامات پر کتوں کو کھانا کھلانے والے افراد ان کی ذمہ داری بھی قبول کریں، ایک غیر معمولی قانونی تصور ہے۔ یہ دراصل سماجی رویّے کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش ہے۔ ہمارے معاشرے میں جانوروں سے محبت ایک مثبت جذبہ سمجھا جاتا ہے، مگر جب یہی جذبہ دوسروں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے تو اسے ذاتی آزادی نہیں کہا جا سکتا۔ گلی میں کھانا ڈال کر خود گھر چلے جانا اور باقی محلے کو خطرے میں چھوڑ دینا دراصل ہمدردی نہیں بلکہ ذمہ داری سے فرار ہے۔
ریاستی حکومتوں کو بھاری معاوضے کی وارننگ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آوارہ کتوں کا مسئلہ محض بلدیاتی اداروں کی سستی یا مالی قلت کا جواز نہیں بن سکے گا۔ اگر کسی بچے یا شہری کی جان جاتی ہے تو اسے انتظامی ناکامی تصور کیا جائے گا۔ اس سے مقامی اداروں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ محض کاغذی منصوبوں کے بجائے عملی اقدامات کریں۔
تاہم عدالت کا ایک اور حکم زیادہ دور رس اثرات کا حامل ہے: اسکولوں، اسپتالوں اور اسٹیشنوں جیسے حساس مقامات سے کتوں کو ہٹا کر واپس اسی جگہ نہ چھوڑنے کی ہدایت۔ یہ دراصل برسوں سے جاری پالیسی میں بنیادی تبدیلی ہے۔ اس سے پہلے یہی کہا جاتا تھا کہ کتوں کو اسی علاقے میں واپس چھوڑنا لازمی ہے تاکہ وہ علاقہ اپنا سمجھ کر پرسکون رہیں۔ مگر عملی تجربہ اس نظریے کی ناکامی ثابت کر چکا ہے، کیونکہ سب سے زیادہ کاٹنے کے واقعات انہی گنجان مقامات پر رپورٹ ہوتے رہے۔
جموں و کشمیر میں مسئلے کی سنگینی کی ایک وجہ جغرافیہ اور موسم بھی ہیں۔ سردیوں میں خوراک کی کمی آوارہ کتوں کو زیادہ جارحانہ بنا دیتی ہے جبکہ سیاحتی علاقوں میں انسانی سرگرمیوں کے ساتھ ان کا ٹکراؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے یہاں یکساں قومی پالیسی ہمیشہ مؤثر نہیں رہ سکتی۔ خطے کے لیے مخصوص حکمت عملی درکار ہے جس میں سیاحتی زون، تعلیمی زون اور رہائشی زون الگ الگ طریقے سے منظم کیے جائیں۔
سری نگر میں نئے ABC-ARV مرکز کے قیام اور جراثیم کشی و ویکسینیشن کی استعداد بڑھانے کا منصوبہ مثبت قدم ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف نس بندی مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ جب تک کچرے کے نظام، شہری منصوبہ بندی اور خوراک کے ذرائع کو کنٹرول نہیں کیا جائے گا تب تک کتوں کی افزائش جاری رہے گی۔ دنیا کے کئی شہروں نے یہی سیکھا کہ آوارہ کتوں کی آبادی دراصل شہری گندگی کی عکاس ہوتی ہے۔
یہاں ایک اہم سماجی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آوارہ کتوں کے معاملے پر معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے:ایک وہ جو انسانی جان کے تحفظ کو مقدم سمجھتا ہے اور دوسرا وہ جو حیوانی حقوق کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ اصل حل ان دونوں کے بیچ کہیں موجود ہے۔ اگر صرف مارنے کی پالیسی اپنائی جائے تو اخلاقی اور قانونی تنازع پیدا ہوگا، اور اگر صرف چھوڑ دینے کی پالیسی ہو تو انسانی جان خطرے میں پڑے گی۔ ریاست کو جذبات نہیں بلکہ سائنسی شواہد کی بنیاد پر راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
جموں و کشمیر کے لیے قابلِ عمل راستہ ایک جامع شہری تحفظ پروگرام ہو سکتا ہے جس میں تین ستون ہوں:مؤثر ویسٹ مینجمنٹ، بڑے پیمانے پر ویکسینیشن اور خطرناک مقامات پر مکمل علیحدگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی شمولیت ضروری ہے۔ محلے کی سطح پر رجسٹرڈ فیڈنگ زون مقرر کیے جائیں جہاں ذمہ دار افراد کی نگرانی ہو، جبکہ رہائشی گلیوں میں کھانا ڈالنے پر پابندی ہو۔ یوں نہ جانور بھوکے رہیں گے نہ شہری غیر محفوظ۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی تہذیب کا معیار اس کے کمزور ترین فریق کے ساتھ برتاؤ سے جانچا جاتا ہے۔ یہاں کمزور دو ہیں:ایک انسان جو دفاع نہیں کر سکتا اور دوسرا جانور جو سمجھ نہیں سکتا۔ ریاست کی دانشمندی اسی میں ہے کہ دونوں کی حفاظت ایک ساتھ ممکن بنائے۔ اس کے لیے محض بیانات نہیں بلکہ مستقل پالیسی، بجٹ اور نگرانی درکار ہے۔
اگر موجودہ اعداد و شمار کو محض رپورٹ سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو اگلے برس یہ تعداد مزید بڑھے گی اور تب بحث حقوق کی نہیں سانحوں کی ہوگی۔ مگر اگر اسے ایک انتباہ سمجھ کر جامع حکمت عملی بنائی گئی تو جموں و کشمیر ایک ایسا ماڈل پیش کر سکتا ہے جہاں انسان بھی محفوظ ہو اور جانور بھی بے یار و مددگار نہ رہیں۔ اصل امتحان اب نیت کا نہیں عمل کا ہے اور وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔





