اب صاحب ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور…….اور اس لئے نہیں ہو سکتا ہے کہ اگر ہم اعتراض کریں بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور صاحب اس لئے نہیں پڑے گا کہ دنیا کا ماننا اور جاننا ہے کہ دنیا امید پر ہی قائم ہے …….دنیا ہی نہیں بلکہ اس میں رہ رہے لوگ بھی …….وہ بھی امید پر ہی زندہ ہیں …….اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ‘ عمرعبداللہ صاحب بھی …….یہ بھی امید سے ہیں ‘ نہیں صاحب اُس’امید سے‘ نہیں بلکہ اس امید سے کہ آنے والے دنوں ‘ ہفتوں اور مہینوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا……. یہ بات وزیر اعلیٰ صاحب نے ہمیں کان میں نہیں بتائی بلکہ اسمبلی میں ایل جی صاحب کے خطاب پر شریکہ کی تحریک پر ہوئی بحث کے جواب میں وزیر اعلیٰ صاحب کی باتوں میں اگر کچھ تھا تو……. تو امید تھی اور کچھ نہیں ……. بالکل بھی نہیں ۔ بہت سارے لوگ ‘انہیں اس پر تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کی تقریر میں ٹھوس کچھ نہیں تھا ……. کچھ بھی نہیں تھا ……. لیکن صاحب ہم نہیں ‘ ہم ایسا نہیں کریں گے ‘ ہم وزیر اعلیٰ صاحب کی تنقید نہیں کر سکتے ہیں اور……. اور اس لئے نہیںکر سکتے ہیں کہ ہمارا بھی جاننا اور ماننا ہے کہ دنیا سچ میں امید پر زندہ ہے …….اس لئے وزیرا علیٰ صاحب کوامید ہے کہ وہ دن جلد آنے والا ہے جب بزنس رولز کو حتمی شکل دی جائےگی …….اور ایک بار جب بزنس رولز کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو …….تو ممکن ہے کہ اس سے ان کی راہیں آسان بن جائیں گی ۔وزیر اعلیٰ صاحب کو یہ بھی امید ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم مودی جی کو جو مشورہ دیا…….یہ مشورہ کہ ملک میں یو ٹی نظام کو ختم ہی کیا جائے …….وہ اس مشورے کو قبول کریں گے …….اپنے ایک گھنٹہ طویل خطاب میں وزیر اعلیٰ صاحب نے اور بھی بہت کچھ کہا ……. لیکن ……. لیکن ایک بات سے مکر گئے اور صاف مکر گئے ……. اس بات سے کہ افسران ان کو تعاون نہیں دے رہے ہیں …….یقینا وزیرا علیٰ نے ایسی بات کہی تھی اور ہم ……. ہم نے ہی نہیں بلکہ آپ نے بھی اپنے کانوں سے یہ بات سنی ہو گی ……. لیکن آج یہ جناب اس سے صاف مکر گئے …….اور ممکن ہے کہ اس لئے مکر گئے کہ انہیں اب امید ہے ……. اس بات کی امید کہ اب وہ دن بھی آہی جائے گا جب یہی افسران اور بیوروکریٹ ان کی ہر ایک بات سن لیں گے ‘ سن ہی نہیں لیں گے بلکہ مان بھی لیں گے …….امید ہے کہ ایک دن واقعی ایسا ہو گا کہ ……. کہ کم بخت یہ دنیا امید پر ہی تو زندہ ہے ۔ ہے نا؟




