جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

مرکز کا بجٹ، کشمیر کی معیشت اور خود انحصاری کی ناگزیر جستجو

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-03
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارامن کی جانب سے پیش کردہ یونین بجٹ 2026-27 بظاہر ایک تسلسل کا بجٹ ہے، جو ملک گیر سطح پر استحکام، انفراسٹرکچر اور مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر جب اس بجٹ کو جموں و کشمیر کے مخصوص تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر قدرے پیچیدہ اور سوالات سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔
مرکز نے مالی سال 2026-27 کے لیے جموں و کشمیر کو 43,290 کروڑ روپے کی منتقلی تجویز کی ہے، جو موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے کے مقابلے میں تقریباً 4.72 فیصد زیادہ ہے۔ بادی النظر میں یہ اضافہ مثبت محسوس ہوتا ہے، تاہم اصل سوال رقم کے حجم سے زیادہ اس انحصار کی نوعیت اور اس کے طویل مدتی اثرات کا ہے۔
یہ حقیقت اب کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہی کہ جموں و کشمیر کا مالی ڈھانچہ گہرے طور پر دہلی سے آنے والی رقوم پر کھڑا ہے۔ 2025-26 کے مکمل بجٹ اعداد و شمار اس انحصار کو پوری طرح بے نقاب کرتے ہیں۔ تقریباً 1,06,641 کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات کے مقابلے میں مقامی آمدنی محض 31,905 کروڑ روپے تک محدود ہے۔ یوں ہر سو روپے کے خرچ پر خطے کی اپنی کمائی صرف تیس روپے کے آس پاس رہ جاتی ہے، جبکہ باقی رقم مرکز کی منتقلی اور قرضوں سے پوری کی جاتی ہے۔
مرکز کی جانب سے دی جانے والی تازہ رقم میں سب سے بڑا حصہ ’’سنٹرل اسسٹنس‘‘ کا ہے، جو 42,650 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کے لیے مختص رقم میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو قدرتی آفات سے متاثرہ خطے کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپی کہانی کہیں زیادہ گہری اور تشویش ناک ہے۔
اگر اخراجات کی ساخت پر نگاہ ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ ترقیاتی سرگرمیوں کے بجائے روزمرہ کے انتظامی تقاضوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ تنخواہیں، پنشن، بجلی سبسڈی، ادویات اور دیگر جاری اخراجات مجموعی خرچ کا بڑا حصہ نگل جاتے ہیں۔ صرف تنخواہیں آمدنی کا تقریباً 26 فیصد، پنشن 17 فیصد اور سود کی ادائیگی 12 فیصد کھا جاتی ہے۔ یوں آدھی سے زیادہ آمدنی محض نظام کو چلائے رکھنے میں صرف ہو جاتی ہے، جبکہ نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے گنجائش محدود رہ جاتی ہے۔
یہ صورتحال کسی ایک سال کی پیداوار نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ایک رجحان کا نتیجہ ہے۔ ماضی میں کئی برس ایسے بھی گزرے جب ریاستی آمدنی کا 70 سے 80 فیصد حصہ براہ راست مرکز سے آتا رہا۔ 2005-06 سے 2018-19 کے دوران جموں و کشمیر کو مرکزی ریاستی گرانٹس کا تقریباً 10.5 فیصد حصہ ملا، حالانکہ آبادی کے اعتبار سے خطہ ملک کا محض ایک فیصد ہے۔ آج بھی تقریباً 65 فیصد آمدنی دہلی سے آتی ہے۔
اس مالی انحصار کی جڑیں مقامی معیشت کی ساخت میں پیوست ہیں۔ سیب، سیاحت، دستکاری، چھوٹا کاروبار اور سرکاری ملازمتیں اگرچہ روزگار فراہم کرتی ہیں، مگر ان سے حاصل ہونے والا ٹیکس اور سرپلس صنعتی ریاستوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کے برعکس خطے کے اخراجات زیادہ ہیں۔ پہاڑی جغرافیہ، طویل سردیاں، سرحدی حالات اور بکھری آبادی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کو مہنگا بنا دیتی ہیں۔
اس پس منظر میں راہل سہائے، چیئرمین انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز جموں و کشمیر (انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز جموں و کشمیر) کا ردعمل خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ مجموعی طور پر ترقی پسند اور ملک کے لیے پائیدار ہے، مگر ایک تنازعات سے متاثرہ خطے کے طور پر جموں و کشمیر کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ خاص طور پر ایم ایس ایم ای اور مقامی صنعت کے لیے کسی مخصوص پیکیج یا رعایتی کریڈٹ فریم ورک کا فقدان واضح ہے۔
یہ شکایت بے جا نہیں۔ جموں و کشمیر جیسے خطے میں جہاں سکیورٹی صورتحال کا پہلا اور براہ راست اثر مقامی کاروبار پر پڑتا ہے، وہاں ایک الگ اور حسبِ حال صنعتی پالیسی ناگزیر ہے۔ قومی سطح پر ایس ایم ای گروتھ فنڈ یا ٹی ریڈز جیسے اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کا فائدہ تبھی پہنچتا ہے جب خطے کے حالات، خطرات اور زمینی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر خصوصی سہولتیں دی جائیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مرکز کتنا پیسہ دے رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ یہ پیسہ کس حد تک خطے کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے رہا ہے۔ بجٹ کے اعداد و شمار ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ موجودہ ماڈل میں زیادہ تر رقم حال کو سنبھالنے پر خرچ ہو رہی ہے، مستقبل کو مضبوط بنانے پر نہیں۔
خود انحصاری کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اس کے لیے چند بنیادی فیصلے ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے مقامی معیشت کو رسمی دائرے میں لانے کی ضرورت ہے، تاکہ ٹیکس نیٹ وسیع ہو اور آمدنی بڑھے۔ سیاحت، ٹرانسپورٹ، ہوم اسٹے، دستکاری اور خدمات کے شعبے میں آسان رجسٹریشن، سادہ قوانین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیا جائے، تاکہ چھوٹے کاروباری بوجھ کے بغیر نظام کا حصہ بن سکیں۔
دوسرا، آمدنی بڑھانے کے لیے بڑے لیکیجز کو نشانہ بنایا جائے، نہ کہ چھوٹے دکانداروں اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو۔ بجلی بلوں، جائیداد ٹیکس، پارکنگ فیس اور دیگر صارف چارجز کی بہتر وصولی ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہے، بشرطیکہ اس میں شفافیت اور انصاف کو ملحوظ رکھا جائے۔
تیسرا، اخراجات میں اصلاح ناگزیر ہے۔ پنشن فہرستوں کی صفائی، بھرتیوں میں ضبط، اور ای گورننس کے استعمال سے تنخواہوں اور پنشن کے بوجھ کو آہستہ آہستہ کم کیا جا سکتا ہے۔ ایسے پروگرام جو برسوں سے نتائج دیے بغیر چل رہے ہیں، انہیں مرحلہ وار ختم کر کے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے جو روزگار اور آمدنی پیدا کریں۔
طویل مدتی طاقت انہی سرمایہ کاریوں سے آئے گی جو خود کو واپس ادا کریں۔ سیاحت میں صفائی، پارکنگ، کیبل کار، ونٹر اسپورٹس اور بہتر سہولیات، باغبانی میں کولڈ اسٹوریج اور پروسیسنگ یونٹس، دستکاری میں برانڈنگ اور آن لائن مارکیٹنگ، آئی ٹی اور چھوٹی صنعت میں مشترکہ ورک اسپیس اور مستحکم بجلی—یہ سب وہ شعبے ہیں جو خطے کو مستقل آمدنی دے سکتے ہیں۔
آج جموں و کشمیر کی تقریباً 35 فیصد آمدنی مقامی ہے۔ اگلے دس سے پندرہ برسوں میں اگر یہ شرح 50 فیصد تک پہنچ جائے تو یہی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ ہر بجٹ میں یہ نظر آنا چاہیے کہ کتنے نئے کاروبار رسمی نظام میں آئے، کتنے منصوبے مکمل ہو کر آمدنی دینے لگے اور مالی خلا کس حد تک کم ہوا۔
یونین بجٹ 2026-27 یہ واضح کرتا ہے کہ دہلی آج بھی کشمیر کے حال کو سہارا دے رہا ہے۔ مگر اصل امتحان مستقبل کی تعمیر کا ہے‘ایک ایسا مستقبل جہاں سرکاری اخراجات کا بڑا حصہ اسی سرزمین پر پیدا ہونے والی آمدنی سے پورا ہو۔ یہی وہ موڑ ہوگا جو مالی خود مختاری اور حقیقی استحکام کی علامت بنے گا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سیتا رمن آج عام بجٹ پیش کریں گی 

Next Post

بائیکاٹ …….؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

بائیکاٹ .......؟

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.