کچھ لوگوں کو غصہ ہے کہ پاکستان نے عالمی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹور نامنٹ میں بھار ت کےخلاف میچ کا بائیکاٹ کیوں کیا …….انہیں بہت زیادہ غصہ ہے ۔ان کایہ بھی جاننا اور ماننا ہے کہ پاکستان جلد اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرکے بالآخر بھارت کے ساتھ اپنا میچ کھیلے گا اور سو فیصد کھیلے گا ۔اب کیا ایسا ہی ہو گا یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں ……. لیکن جو ایک بات ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے پر غصہ ہونے کے بجائے ہمیں اس پر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہئے …….اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اللہ میاں کی قسم ہمیں پھر غصہ نہیں آئے گا ……. الٹا پاکستانی کرکٹ ٹیم سے ہمدردی ہو جائےگی ۔پاکستان کرکٹ بورڈ یا ہمسایہ ملک کی حکومت بائیکاٹ کی دلیل میں بھلے ہی کچھ بھی کہے …….بنگلہ دیش کو بھی غیر ضروری طور پر بھی گھسیٹے……. لیکن صاحب اصل بات کچھ اور ہے اور…….اور وہ یہ ہے کہ پاکستان بچنا چاہتا ہے ‘ خود کو اس رسوائی اور ذلت سے بچانا چاہتا ہے ‘ جس کا اسے سامنا کرنا پڑتا ہے ……. جب جب بھی اسے بھارت کی ٹیم سے سامنا کرنا پڑتا ہے……. میچ ہارنے کے بعد اسے اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے …….پاکستان اس مشکل صورتحال سے بچنا چاہتا ہے ‘ وہ نہیں چاہتا ہے کہ ایک بار پھر اس کی ٹیم کاغذی شیر کی مانند بھارت کی کرکٹ ٹیم کے سامنے ڈھیر ہو جائے ……. اس لئے اس نے بنگلہ دیش کا بہانہ بناکر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور…….اور ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہئے …….اگر ہم سمجھیں گے تو پھر ہمیں غصہ نہیں آئے گا …….بالکل بھی نہیں آئے گا …….لیکن صاحب بات یہیں پر ختم نہیں ہو گی …….اور اس لئے نہیں ہو گا کہ ٹور نامنٹ کے پہلے میچ میں پاکستان اگر بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کر بھی لیتا ہے تو……. تو اس بات کے ڈھیر سارے امکانا ت ہیں کہ ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل میں دونوں ٹیموں کا پھر آمنا سامنا ہو جائےگا ……. کیا اس وقت بھی پاکستان ‘ بائیکاٹ کا سہارا لے گا کہ ……. کہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو……. تو ناک آؤٹ مرحلے میں وہ ٹور نامنٹ سے باہر جائےگا …….بغیر کھیلے باہر ہو جائےگا …….اب فیصلہ پاکستان نے لینا ہے کہ کیااسے کھیل کر باہر ہونا ہے یا پھر بغیر کھیلے اس عالمی مقابلے سے باہر ہونا ہے کہ ……. کہ جب بھی اور جہاں بھی پاکستان کا بھارت سے آمنا سامنا ہو گا…….ہونا تو وہی ہے جو ہوتا آیا ہے ۔ہے نا؟




