وادی میں حالیہ برفباری اور تیز ہواؤں نے ایک بار پھر وادی کے بجلی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ درخت اکھڑ گئے، کھمبے زمین بوس ہوئے، لائنیں ٹوٹ گئیں اور اندھیرے نے بستیوں کو گھیر لیا۔ ایسے میں اگر کہیں روشنی لوٹی تو وہ کسی فائل، کسی حکم نامے یا کسی پالیسی کی بدولت نہیں، بلکہ ان ہاتھوں کی بدولت آئی جو برف میں دھنسے، بجلی کے کھمبوں پر چڑھے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر تاروں کو جوڑا۔ یہی وہ لمحہ تھا جسے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سراہا، ایکس پر تصویر شیئر کی، اور لائن مینوں کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شاباشی کافی ہے؟جب تعریف کی اس اسکرین شاٹ سے نظریں ہٹا کر زمینی حقیقت دیکھی جائے تو منظر کہیں زیادہ تلخ ہے۔ وہی لائن مین، وہی فیلڈ ورکر، وہی روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدور، جن کی بہادری کی تصاویر گردش کر رہی ہیں، انہی میں سے اکثر کے پاس نہ مکمل حفاظتی سامان ہے، نہ انشورنس، نہ مستقل ملازمت کا تحفظ، اور نہ ہی اگر حادثہ ہو جائے تو ان کے اہلِ خانہ کیلئے کوئی واضح سہارا۔
گزشتہ ایک سال سے کچھ ہی زیادہ عرصے میں، پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور اس سے جڑی کارپوریشنز کے پی ڈی سی ایل اور جے پی ڈی سی ایل کے درجنوں فیلڈ ملازمین اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ جنوری۲۰۲۶میں بشنہ، جموں میں ایک ڈیلی ویجر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ اسی مہینے ماگام سب ڈویژن میں کے پی ڈی سی ایل کے لائن مین بشیر احمد ڈار ڈبل سرکٹ ہائی ٹینشن لائن پر کام کے دوران جاں بحق ہوا۔ اس سے پہلے، اکتوبر۲۰۲۵میں کشتواڑ کے دور افتادہ علاقے میں غلام نبی کھمبے سے گر کر مر گیا، جولائی۲۰۲۵ میں جانی پور، جموں میں راجندر سنگھ کرنٹ کی نذر ہوا، اور اپریل۲۰۲۵کے صرف پندرہ دنوں میں چار لائن مین دفن ہو گئے۔
یہ محض اعداد نہیں، یہ ایک مستقل بحران کی نشاندہی ہے۔حادثات کی وجوہات نئی نہیں۔ حفاظتی کٹس کی شدید کمی، انسولیٹڈ دستانوں، ہیلمٹ، بیلٹ اور مناسب سیڑھیوں کا نہ ہونا، فیلڈ اور گرڈ اسٹیشن کے درمیان تال میل کی ناکامی ‘ اکثر اہلِ خانہ کا الزام یہی ہوتا ہے کہ لائن مین کام کر رہا تھا اور اچانک بجلی بحال کر دی گئی۔ ان میں سے بڑی تعداد ڈیلی ویجرز، یا جنہیں اب پی ڈی ایل اور ٹی ڈی ایل کہا جاتا ہے، پر مشتمل ہے۔ وہ لوگ جو کم اجرت پر، بغیر انشورنس، بغیر سروس بُک اور بغیر مستقبل کے تحفظ کے، بجلی کے سب سے خطرناک کام انجام دیتے ہیں۔
یہ صرف موت کا سوال نہیں۔ درجنوں ایسے لوگ ہیں جو زندہ تو ہیں مگر زندگی سے کٹ چکے ہیں۔ سری نگر کے ایک محلے کا وہ کارکن، جس کے دونوں بازو کرنٹ لگنے سے جل گئے اور کاٹنے پڑے، اس نظام کی سفاکی کی زندہ مثال ہے۔ نہ وردی، نہ حفاظتی سامان۔ محلے والوں سے کہا کہ بجلی بند کر دیں۔ غلط لائن بند ہوئی، اور ایک لمحے میں اس کی زندگی بدل گئی۔ آج وہ اپنے بچوں پر انحصار کرتا ہے، اس کی بیوی گھروں میں برتن دھو کر گزارا کرتی ہے، اور سرکاری دفتروں میں اس کی فائل کہیں دب کر رہ گئی ہے۔
ان حادثات کے بعد ہر بار ایک ہی مطالبہ دہرایا جاتا ہے:انکوائری، معاوضہ، اور اصلاحات۔ مگر عملی طور پر کیا بدلا؟
جموں و کشمیر الیکٹریکل انجینئرز گریجویٹس ایسوسی ایشن کے مطابق، جنوری۲۰۲۵سے اب تک گیارہ کے پی ڈی سی ایل ملازمین ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک جونیئر انجینئر اور ایک ٹیکنیشن بھی شامل ہے۔ ان میں پانچ سے سات ڈیلی ویجر تھے، جن کے اہلِ خانہ کو آج تک کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ انشورنس اسکیم جو جے کے بینک کے ذریعے چلتی ہے، ڈیلی ویجرز پر لاگو ہی نہیں ہوتی۔۲۰۱۹سے پہلے جو فلاحی اسکیم موجود تھی، وہ آج محض پالیسی دستاویزات میں زندہ ہے، حقیقت میں نہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق۲۰۱۹کے بعد جاری ہونے والے قانونی احکامات واضح طور پر کہتے ہیں کہ پی ڈی ڈی کے ڈیلی لیبررز کو انٹری لیول پوسٹس پر ریگولرائز کیا جا سکتا ہے۔ فائدہ دو طرفہ ہے:محکمہ میں خالی آسامیوں کا حل اور ہزاروں کارکنوں کو روزگار کا تحفظ۔ مگر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔۲۲۰۲ میں۲۰۶ڈیلی ویجر ریگولر ہوئے، زیادہ تر جموں میں۔ کشمیر میں یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہی۔
۲۰۲سے اب تک کم از کم۹۶ فیلڈ ورکر ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں، اور چار سو سے زیادہ مستقل معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ پہلے ایسے معاملات میں اہلِ خانہ کو ملازمت دی جاتی تھی، مگر۲۰۲۳کے ایک حکم نامے نے۲۰۱۷سے۲۰۲۳کے درمیان کی تمام ہمدردانہ تقرریاں واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اب غمزدہ خاندان کاغذی کارروائی کے بعد بمشکل ایک وقتی معاوضہ پاتے ہیں، وہ بھی غیر یقینی۔
ایسے میں وزیر اعلیٰ کی شاباشی اپنی جگہ، مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ کیا تصویر شیئر کرنا، یا ایک سطر کی تعریف، ان جانوں کا نعم البدل ہو سکتی ہے جو ہر طوفان، ہر برفباری اور ہر ایمرجنسی میں خطرہ مول لیتی ہیں؟ کیا وہ لائن مین، جو برف میں راستہ بناتا ہے، اس بات کا حق دار نہیں کہ اس کے پاس مکمل حفاظتی سامان ہو، مستقل ملازمت ہو، انشورنس ہو، اور اگر بدترین ہو جائے تو اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو؟
کے پی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ایک جامع پالیسی زیرِ غور ہے، بورڈ نے تجویز قبول کر لی ہے، صرف جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی منظوری باقی ہے۔ مگر فیلڈ میں کام کرنے والوں کیلئے “زیرِ غور” ایک کھوکھلا لفظ بن چکا ہے۔ ان کیلئے ہر دن ڈیوٹی پر نکلنا، زندگی اور موت کے درمیان ایک نیا امتحان ہے۔
یہ اداریہ کسی ایک حکومت، کسی ایک افسر یا کسی ایک ادارے پر الزام تراشی کیلئے نہیں۔ یہ ایک سادہ، مگر کڑوا سوال اٹھاتا ہے:جب بجلی بحال ہوتی ہے، تو کیا ہمیں یاد ہے کہ اس روشنی کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟ اگر واقعی ان لائن مینوں کی محنت قابلِ تحسین ہے، تو اس کا اظہار صرف الفاظ سے نہیں، فیصلوں سے ہونا چاہیے۔
ریگولرائزیشن، انشورنس، سخت ایس او پیز، لاک آؤٹ سسٹم کا نفاذ، اور متاثرہ خاندانوں کیلئے باعزت معاوضہ یہ مطالبات کوئی اضافی مراعات نہیں، یہ بنیادی انسانی تحفظات ہیں۔ شاباشی اس وقت بامعنی ہوگی، جب وہ خالی جیبوں، خالی فائلوں اور خالی وعدوں کے ساتھ نہ ہو۔ورنہ ہر اگلی برفباری کے بعد ہم پھر کسی تصویر پر تالیاں بجاتے رہیں گے، اور کسی نئے جنازے پر خاموش ہو جائیں گے۔





