کہتے ہیں کہ موت کے بعد گناہوں کا حساب دینا ہو گا …….وہ گناہ جو انسان نے موت سے پہلے کئے ہو تے ہیں …….اپنی زندگی میں کئے ہو تے ہیں ‘ ان گناہوں ‘ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے گناہوں ‘ کا حساب دینا ہو گا یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کا حساب لیا جائےگا …….اور ایسا اُس دنیا میں ہو گا …….فیصلے کے دن ہو گا …….جب سب سے بڑی عدالت میں ہمارا مقدمہ چلایا جائےگا‘ ہماری فائل کھول دی جائے گی ‘ ہماری چارج شیٹ پڑھی جائے گی اور ……. اور ہمارے اچھے اور برے کا فیصلہ ہو گا ۔یہ تو رہی اُس دنیا کی بات کہ ……. کہ فی الحال ہم اس دنیا کی بات کرتے ہیں …….ایسی دنیا کی جسے سمجھنا بالکل بھی آسان نہیں ہے …….کم از کم ہم جیسے نا سمجھ لوگوں کیلئے تو بالکل بھی آسان نہیں ہے ۔ ممبئی کے نائب وزیر اعلیٰ ‘ اجیت پوار آج صبح ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے …….ان کی غیر متوقع موت پر لوگ افسوس کررہے ہیں اور ہمیں بھی افسوس ہے ……. لیکن …….ساتھ میں انہیں ایک عظیم سیاستدان میں قرار دے رہے ہیں‘ کہا جارہا ہے کہ بھارت ماں نے اپنے ایک عظیم بیٹے کو کھودیا ہے ……. ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہمیں ایسی باتوں پر حیرت بھی نہیں ہو تی اگر……. جی ہاں اگر مرحوم کو بھارت کا عظیم بیٹا قرار دینے والے ان کی حیات میں بھی انہیں ایسا ہی قرار دیتے ……. لیکن صاحب ایسا نہیں ہے …….اور اس لئے نہیں ہے کہ جب اجیت پوار نے اپنے محسن اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(این سی پی) کے بانی و سربراہ اور ان کے چچا شرد پوار کی پیٹھ میں چرا گھونپ کر بی جے پی اور شیو سینا سے ہاتھ ملایا تو ……. تو جو لوگ انہیں آج اچھے الفاظ میں یاد کررہے ہیں ‘ انہیں خراج عقیدت ادا کررہے ہیں …….وہی لوگ انہیں موقع پرست ‘ مفاد پرست‘ منافق اورابن الوقت سیاستدان اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے تھے وہ آج مرحوم کے ان ’گناہوں ‘ کو بھول کر انہیں خراج عقیدت ادا کررہے ہیں …….یہ کیا ہے‘ اسے ہم کیا نام دیں یہ ہم نہیںجانتے ہیں کہ جو ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس دنیا کے اصول اسی دنیا میں چلتے ہیں اُس دنیا میں نہیں جو ہمیشہ رہنے والی ہے کہ …….کہ اُس دنیا میں گناہوں کو فراموش نہیں کیا جاتا ہے ‘ انہیں بھولا نہیں جاتا ہے …….اسی طرح جس طرح وہاں نیکیوں کو بھولا نہیںکیا جائےگا‘ فراموش نہیں کیا جائے گا …….چاہے وہ نیکی کتنی ہی چھوٹی یا بڑی کیوں نہ ہو ۔ہے نا؟




