کشمیر صدیوں سے برف، سردیوں اور سفید مناظر کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ یہاں کی معیشت، زراعت، پانی کے ذخائر، حتیٰ کہ ثقافت اور طرزِ زندگی بھی موسمِ سرما اور برفباری کے فطری چکر سے جڑی ہوئی رہی ہے۔ مگر اب یہ توازن خاموشی سے بگڑ رہا ہے۔ جنوری کا پہلا ہفتہ گزر چکا ہے، چِلّہ کلاں‘جو کشمیر کی شدید ترین سردیوں کی علامت سمجھا جاتا ہے‘کا نصف عرصہ بھی ختم ہو چکا ہے، لیکن وہ برفباری دیکھنے کو نہیں ملی جس کی توقع، روایت اور ضرورت تینوں موجود تھیں۔
یہ کوئی ایک سال کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ ایک تسلسل ہے، ایک خطرناک رجحان، جو ہر گزرتے برس کے ساتھ واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وادی کے میدانی علاقوں میں برفباری کا تقریباً ناپید ہو جانا اب ایک غیر معمولی واقعہ نہیں رہا، بلکہ ایک نئی معمولی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ اس سال بھی یہی منظرنامہ سامنے ہے:بالائی پہاڑی علاقوں میں اگرچہ معمولی مقدار میں برف پڑی، مگر سری نگر اور اس کے اطراف کے میدانی علاقے نہ برف سے آشنا ہوئے، نہ ہی ایسی خاطر خواہ بارش ہوئی جس سے زمین، درخت اور انسان سکون کا سانس لے سکیں۔
یہ تبدیلی محض موسم کی بے اعتدالی نہیں، بلکہ ماحولیاتی بحران کی ایک واضح علامت ہے۔ ماہرینِ ماحولیات، بالخصوص پروفیسر شکیل رومشو جیسے سائنسدان، اس بات پر متفق ہیں کہ کشمیر میں موسمِ سرما کی بارشوں کا برف کے بجائے بارش میں تبدیل ہونا، اور مجموعی طور پر سردیوں میں بارش و برفباری میں کمی، براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ وہ موسم، جو کبھی مکمل طور پر برفباری پر مشتمل ہوتا تھا، اب بارش، خشک سردی اور غیر یقینی کیفیت میں بدل چکا ہے۔
چِلّہ کلاں، جو روایتاً شدید سردی اور مسلسل برفباری کا دور سمجھا جاتا تھا، اب اپنی پہچان کھوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں اس عرصے کے دوران وادی میں برف کی موٹی تہیں جم جایا کرتی تھیں، دریاؤں اور نالوں میں پانی ذخیرہ ہو جاتا تھا، اور یہی ذخیرہ گرمیوں میں زندگی کا سہارا بنتا تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ چلہ کلاں کا نصف گزر جانے کے باوجود نہ تو میدانی علاقوں میں برف نظر آئی، نہ ہی بارشوں کی ایسی شدت کہ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہو سکے۔
اس کے اثرات محض موسم تک محدود نہیں۔ برف دراصل کشمیر کا قدرتی واٹر ریزروائر ہے۔ کم برفباری کا سیدھا مطلب ہے کہ آنے والے مہینوں میں پانی کی قلت کا خطرہ بڑھے گا۔دریا‘ چشمے، نالے اور آبپاشی کے نظام سب اسی برف پر انحصار کرتے ہیں۔ جب برف کم ہو گی تو بہار اور گرمیوں میں پانی کی روانی غیر متوازن ہو گی—کہیں اچانک سیلاب، کہیں طویل خشک سالی۔
زرعی شعبہ اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہے۔ سیب، اخروٹ، بادام اور دیگر باغبانی کی فصلیں مخصوص سردی اور برفباری کی محتاج ہیں۔ کم برف اور زیادہ گرم سردیاں نہ صرف پیداوار کو متاثر کرتی ہیں بلکہ بیماریوں اور کیڑوں کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنتی ہیں۔ کسان پہلے ہی غیر یقینی موسمی حالات سے دوچار ہیں، اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو زرعی معیشت شدید دباؤ میں آ سکتی ہے۔
آبی بجلی کا شعبہ بھی اس ماحولیاتی تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ کم برف اور تیز برف پگھلاؤ کا مطلب ہے کہ بجلی کی پیداوار سال کے مخصوص مہینوں تک محدود ہو سکتی ہے، جس سے توانائی کا عدم توازن پیدا ہو گا۔ یہ مسئلہ مستقبل میں نہ صرف معاشی بلکہ سماجی بحران کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔
پروفیسر شکیل رومشو کی جانب سے گزشتہ ایک دہائی کے دوران کیے گئے فیلڈ مشاہدات اس خدشے کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ جموں، کشمیر اور لداخ کے علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ جب برف کم جمع ہو اور درجہ حرارت زیادہ ہو تو گلیشیئر اپنی بحالی کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ یہ عمل خاموش ضرور ہے، مگر اس کے نتائج انتہائی سنگین ہیں—ہمالیائی ماحولیاتی نظام اور اس پر انحصار کرنے والی انسانی آبادی کے لیے۔
تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کشمیر کا اوسط درجہ حرارت گزشتہ صدی کے مقابلے میں 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، جو عالمی اوسط اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ پہاڑی اور نازک ماحولیاتی خطے عالمی حدت کے اثرات کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں، اور کشمیر اس کی ایک واضح مثال بنتا جا رہا ہے۔
یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا ہم اس تبدیلی کو محض موسمی اتار چڑھاؤ سمجھ کر نظر انداز کرتے رہیں گے، یا اسے ایک سنجیدہ انتباہ مان کر پالیسی، طرزِ زندگی اور ترقی کے ماڈلز پر نظرِ ثانی کریں گے؟ ماحولیاتی تبدیلی کوئی دور کا خطرہ نہیں رہی؛ یہ ہمارے دروازے پر دستک دے چکی ہے—خشک سردیوں، کم ہوتی برفباری، سکڑتے گلیشیئرز اور غیر یقینی مستقبل کی صورت میں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، پالیسی ساز، ماہرین اور عام شہری اس مسئلے کو محض موسمی گفتگو تک محدود نہ رکھیں۔ پانی کے بہتر انتظام، موسمیاتی تحقیق، ماحول دوست ترقی، اور عوامی شعور بیداری اب اختیار نہیں بلکہ مجبوری بن چکے ہیں۔ اگر آج ہم نے سنجیدگی نہ دکھائی تو آنے والی نسلوں کو نہ وہ کشمیر ملے گا جسے ہم جانتے ہیں، نہ وہ وسائل جن پر یہ خطہ صدیوں سے قائم رہا ہے۔
چِلّہ کلاں کی خاموشی محض موسم کی خاموشی نہیں‘یہ ایک وارننگ ہے۔ ایک سوالیہ نشان، جو ہم سب سے جواب مانگ رہا ہے۔





