پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کو ملک میں غیر قانونی گرفتاریوں، من مانی حراست اور جبری گمشدگیوں پر تشویش
سرینگر/۲۹دسمبر
بھارت نے کرسمس کے موقع پر بھارت میں توڑ پھوڑ کے واقعات سے متعلق پاکستان کے تبصروں پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے معاملے میں پاکستان کا ریکارڈ ’’انتہائی ابتر‘‘ ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا’’ہم ایسے ملک کے تبصروں کو مسترد کرتے ہیں جس کا اس حوالے سے ابتر ریکارڈ خود اپنی گواہی دیتا ہے۔‘‘
جیسوال نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں مزید کہا’’پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کے خلاف خوفناک اور منظم مظالم ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ انگلی اٹھانے سے اس حقیقت کو نہیں چھپایا جا سکتا‘‘۔
اس سے قبل آج پاکستان نے کرسمس کے دوران بھارت میں رپورٹ ہونے والے توڑ پھوڑ کے واقعات کی نشاندہی کی تھی اور مسلمانوں کے خلاف تشدد پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اسلام آباد کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا’’بھارت میں اقلیتوں پر مظالم گہری تشویش کا باعث ہیں‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا’’کرسمس کے موقع پر پیش آنے والے حالیہ قابلِ مذمت توڑ پھوڑ کے واقعات، نیز مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی ریاستی سرپرستی میں چلنے والی مہمات، جن میں ان کے گھروں کی مسماری اور بار بار ہونے والی لنچنگ کے واقعات شامل ہیں، نے مسلمانوں میں خوف اور بیگانگی کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے‘‘۔
گزشتہ ماہ امریکی سنیٹر جم رِش نے بھی پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کا معاملہ اٹھایا تھا، جب پاکستان کے اعلیٰ ترین انسانی حقوق ادارے کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں تشویشناک اضافے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ میں ہندو اور عیسائی لڑکیوں کے جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں کے واقعات کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔
بھارت اس سے قبل بھی بین الاقوامی فورمز پر پاکستان میں مذہبی اقلیتوں ‘ ہندوؤں، سکھوں اور دیگر‘ کے ساتھ سلوک کا معاملہ اٹھاتا رہا ہے۔ یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھی اٹھایا جا چکا ہے۔
یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سفارتی کشیدگی کا حصہ ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے پر اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور اقوامِ متحدہ جیسے بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
بھارت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس کے داخلی امور پر دیے گئے تبصرے بلاجواز اور سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔
اس دوران ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے ملک میں غیر قانونی گرفتاریوں، من مانی حراست اور جبری گمشدگیوں کے مسلسل پیش آنے والے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک خطرناک رجحان اختیار کر چکے ہیں، جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
کمیشن کے مطابق ریاست کو اس سلسلے کو فوری طور پر روک دینا چاہیے کیونکہ یہ اقدامات نہ صرف آئینی اصولوں کے منافی ہیں بلکہ قانون کی بالادستی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کی اس سرکردہ تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پشاور یونیورسٹی کے طلبہ حبیب وزیر اور عدنان وزیر کی مبینہ گمشدگی اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح قانونی تقاضوں، عدالتی نگرانی اور بنیادی انسانی حقوق کو معمول کے مطابق نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
دونوں طلبہ ۱۲ نومبر ۲۰۲۵ کو حکومت کی جانب سے منعقد کیے گئے گرینڈ جرگے میں شرکت کے بعد لاپتہ ہوئے، جس نے اس واقعے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں سابق رکنِ قومی اسمبلی نثار پنہور اور ان کے بیٹے محسن پنہور کی مبینہ گمشدگی پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔
کمیشن کے مطابق اطلاعات ہیں کہ ۲۲ دسمبر ۲۰۲۵کو کراچی میں سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد انہیں اپنے ساتھ لے گئے، حالانکہ اس سے قبل نثار پنہور کی مختصر رہائی کے بعد یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انہیں کسی غیر قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کمیشن نے اس صورتحال کو اعتماد شکنی اور قانون سے انحراف قرار دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں خواتین اور کم عمر افراد کی حراست کے دیگر معاملات سے بھی جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں ایک معذور طالبہ اور سماجی کارکن ماہ جبین بلوچ سمیت کم از کم چھ دیگر افراد شامل ہیں، جنہیں نومبر اور دسمبر ۲۰۲۵ کے دوران مختلف کارروائیوں میں حراست میں لیا گیا۔ ایچ آر سی پی کے مطابق خواتین اور بچوں کو اس طرح نشانہ بنانا ایک نہایت تشویشناک پیش رفت ہے۔
کمیشن نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات آئین میں دی گئی بنیادی ضمانتوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں اور پوری برادریوں کو ناقابلِ تلافی ذہنی، سماجی اور نفسیاتی نقصان پہنچتا ہے۔
بیان میں زور دیا گیا ہے کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف افراد کو انصاف سے محروم کرتی ہیں بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔
ایچ آر سی پی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ریاست شفافیت کو یقینی بنائے، ان واقعات کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو بغیر کسی شرط کے انصاف تک رسائی فراہم کی جائے۔ کمیشن کے مطابق انسانی حقوق کا تحفظ کسی رعایت کا نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔(ندائے مشرق ڈیسک)










