جموں و کشمیر میں ریزرویشن کا معاملہ اس وقت نیشنل کانفرنس کی حکومت کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی، انتظامی اور اخلاقی چیلنج بن چکا ہے۔ ایک ایسا مسئلہ جو ابتدا میں پالیسی کی تاخیر تک محدود دکھائی دیتا تھا، اب وہ حکمران جماعت کے اندرونی تضادات، جمہوری قدروں کے امتحان اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کی علامت بن گیا ہے۔ حالیہ واقعات نے نہ صرف حکومت کی حکمتِ عملی پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ریزرویشن جیسے حساس اور عوامی نوعیت کے مسئلے سے نمٹنے میں ابہام، تاخیر اور تضاد کس طرح سیاسی بحران کو جنم دیتا ہے۔
پہلگام میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ کہنا کہ حکومت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور کچھ عناصر جان بوجھ کر انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، بظاہر ایک سیاسی دفاع ضرور ہے، مگر یہ بیان زمینی حقائق سے مکمل ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔
اوپن میرٹ طلبہ کا احتجاج کسی سیاسی ایجنڈے کا مظہر نہیں بلکہ ایک دیرینہ پالیسی تاخیر اور عدم شفافیت کے خلاف ابھرا ہوا ردعمل ہے۔ ایسے میں احتجاج سے قبل سیاسی رہنماؤں اور طلبہ کو نظر بند کرنا، چاہے نیت کچھ بھی ہو، جمہوری فضا کو کمزور کرنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ حکومت کی ذمہ داری امن و امان کو برقرار رکھنا ہے، مگر جمہوریت میں اختلافِ رائے اور پرامن احتجاج کو دبانے کے بجائے اس سے مکالمہ کیا جاتا ہے۔ اسی نکتے کو نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور رکنِ اسمبلی تنویر صادق نے اجاگر کیا، جب انہوں نے سیاسی رہنماؤں اور طلبہ کارکنوں کو نظر بند کیے جانے کے اقدام کو غیر ضروری اور تشویشناک قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پْرامن دھرنے اور خیالات کے آزادانہ اظہار کا حق آئین فراہم کرتا ہے، اور اسے طاقت کے ذریعے دبانا جمہوری روح کے منافی ہے۔
یہاں نیشنل کانفرنس کی اندرونی تقسیم پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ایک طرف پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ہیں، جو نظر بندی کو ترقی کے تحفظ کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، اور دوسری طرف پارٹی کے ہی ایک طاقتور رکنِ اسمبلی اور ترجمان ہیں جو اسی اقدام کی کھلے عام مخالفت کر رہے ہیں۔ اس تضاد نے نہ صرف حکومت کے بیانیے کو کمزور کیا بلکہ عوام میں یہ تاثر بھی مضبوط کیا کہ خود حکمران جماعت ریزرویشن کے مسئلے پر کسی ایک واضح اور متفقہ موقف پر قائم نہیں۔
اس اندرونی کشمکش کا ایک اور پہلو آغا سید روح اللہ کا کردار ہے، جو اسی جماعت کے رکنِ پارلیمان ہوتے ہوئے اپنی حکومت کے خلاف کھل کر تنقید کر رہے ہیں اور طلبہ کے احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے تھے۔ ان کی نظر بندی نے اس بحث کو مزید ہوا دی کہ آیا حکومت اختلافی آوازوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ڈی پی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کی نظر بندی نے معاملے کو محض حکومتی انتظامی قدم کے بجائے ایک وسیع تر جمہوری سوال میں تبدیل کر دیا۔
اصل مسئلہ مگر ان تمام بیانات اور ردِعمل سے کہیں گہرا ہے۔ ریزرویشن پالیسی پر حکومت کی تاخیر، کابینہ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا دیر سے آنا، اور پھر اسے منظوری کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دینا…یہ سب اقدامات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ حکومت اس حساس مسئلے پر خود اعتمادی کے ساتھ فیصلے کرنے میں تذبذب کا شکار ہے۔ اوپن میرٹ طلبہ کا یہ خدشہ کہ مجوزہ سفارشات کے باوجود ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا، محض خدشہ نہیں بلکہ اس عدم اعتماد کا اظہار ہے جو پالیسی سازی کے پورے عمل پر چھا چکا ہے۔
اسی پس منظر میں آبادی کے تناسب سے ریزرویشن کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔ عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان کے ذریعے جیل میں بند رکنِ پارلیمان ارشد رشید کا خط ہو یا کانگریس کے طارق حمید قرہ کا بیان‘دونوں اس نکتے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ ریزرویشن ڈھانچہ آبادی، علاقائی توازن اور زمینی حقیقتوں کی صحیح عکاسی نہیں کرتا۔ آبادی کی بنیاد پر ریزرویشن کا تصور اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ یہ نہ صرف سماجی انصاف کے دعوے کو مضبوط بناتا ہے بلکہ اوپن میرٹ، پسماندہ علاقوں اور مختلف خطوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک عملی راہ بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ دلیل اپنی جگہ وزن رکھتی ہے کہ اگر ریزرویشن کو ضلع، ڈویڑن اور یوٹی سطح پر آبادی کے تناسب سے مرتب کیا جائے تو اس سے بہت سی دیرینہ شکایات کا ازالہ ممکن ہے۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ نوجوانوں میں یہ احساس بھی پیدا ہوگا کہ مواقع کسی مبہم یا سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس اور قابلِ فہم اصولوں کے تحت تقسیم ہو رہے ہیں۔ اسی طرح نیم فوجی دستوں میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے خصوصی ریزرویشن کی تجویز، روزگار کے تناظر میں ایک مثبت اور تعمیری راستہ دکھاتی ہے۔
نیشنل کانفرنس کی حکومت کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ احتجاج کو کیسے روکا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اعتماد کو کیسے بحال کیا جائے۔ اعتماد طاقت سے نہیں، بلکہ شفافیت، مکالمے اور واضح فیصلوں سے قائم ہوتا ہے۔ اگر حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ ریزرویشن کا مسئلہ پیچیدہ ہے، تو اس پیچیدگی کا حل بند دروازوں کے پیچھے نہیں بلکہ عوامی بحث اور وسیع تر مشاورت میں تلاش کرنا ہوگا۔
آخرکار، ریزرویشن محض کوٹہ یا فیصد کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست کے نوجوانوں کے مستقبل، ان کے احساسِ انصاف اور ان کے نظام پر اعتماد کا سوال ہے۔ اگر نیشنل کانفرنس اس مسئلے کو داخلی اختلافات، انتظامی تاخیر اور وقتی سیاسی دفاع کے دائرے میں محدود رکھتی ہے تو یہ بحران مزید گہرا ہوگا۔ لیکن اگر آبادی کے تناسب جیسے عملی اور قابلِ فہم اصولوں پر سنجیدگی سے غور کیا گیا، تو یہی بحران ایک منصفانہ اور دیرپا حل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔





