نئی دہلی/۲۴دسمبر
مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کے لحاظ سے گزرا ہوا سال ہندوستان کے لیے اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا۔ جہاں ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے امریکہ کے ساتھ دو دہائیوں پرانے تعلقات کی بنیادیں ہلا دیں، وہیں پرانے دوست روس کے ساتھ تعلقات کو نئی مضبوطی ملی۔ پڑوسی ممالک میں چین کے ساتھ گزشتہ پانچ سال سے جاری تعطل دور ہوا اور افغانستان کے ساتھ بھی رشتوں میں گرمجوشی آئی، جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید ابتر ہو گئے اور بنگلہ دیش بھی پاکستان کے ساتھ قربتیں بڑھاتے ہوئے ہندوستان مخالف راہ پر چل پڑا ہے ۔
وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے دنیا کے مختلف حصوں تک ہندوستان کے تعلقات کا دائرہ بڑھانے اور طویل عرصے سے قائم تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے متعدد ممالک کے دو طرفہ دورے کیے اور تمام بڑے کثیر جہتی فورمز، بین الاقوامی گروپوں اور کانفرنسوں میں شرکت کی۔ مسٹر مودی نے اس سال فرانس، امریکہ، جاپان، چین، برطانیہ، برازیل، کینیڈا، مالدیپ، جنوبی افریقہ، اردن، ایتھیوپیا اور عمان جیسے ممالک کا دورہ کیا۔
دنیا کے کئی اہم رہنماؤں نے سال کے دوران ہندوستان کا دورہ کیا، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، نیوزی لینڈ، سری لنکا، سنگاپور، ماریشس، بھوٹان اور فجی کے وزرائے اعظم اور انڈونیشیا، فلپائن، پیراگوئے ، انگولا اور چلی کے صدور شامل ہیں۔
سب سے بڑی عالمی طاقت امریکہ کے ساتھ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری مضبوط اور اسٹریٹجک تعلقات میں دراڑ آنا اس سال ہندوستان کے لیے سب سے بڑا دھچکا رہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی بنیادیں ہلا دیں۔
’آپریشن سندور‘کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرانے کے مسٹر ٹرمپ کے بار بار کے دعوؤں سے بھی دونوں ممالک کے رشتوں میں تلخی آئی۔ مودی اور مسٹر ٹرمپ اگرچہ ٹیلی فون پر مسلسل رابطے میں ہیں، لیکن گزشتہ دس ماہ سے امکانات کے باوجود دونوں کے درمیان ذاتی ملاقات نہیں ہو سکی ہے اور ٹیرف کے مسئلے کا بھی حل نہیں نکل سکا ہے ۔ امریکہ نے ایچ ون بی ویزا سے متعلق قوانین میں جو تبدیلیاں کی ہیں، ان کا سب سے زیادہ اثر ہندوستانی شہریوں پر پڑنے کا امکان ہے ۔
دوسری بڑی طاقت روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے یہ سال کہیں بہتر رہا اور گزشتہ چند برسوں سے تعلقات میں پائی جانے والی سستی اس بار گرمجوشی میں بدل گئی۔ دونوں ممالک نے وقت کی کسوٹی پر پرکھی ہوئی دوستی کو کئی معاہدوں سے نئی طاقت دی۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دورئہ ہند نے مشترکہ وعدوں کی تصدیق کی کہ بحران کے وقت میں روس اور ہندوستان ایک دوسرے کے قابل بھروسہ دوست کے طور پر کھڑے رہتے ہیں۔
مشرقی لداخ میں گلوان وادی میں پانچ سال قبل ہندوستان اور چین کے فوجیوں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپ کے بعد پیدا ہونے والے تعطل کا ختم ہونا اس سال کی بڑی کامیابی رہی۔ مسٹر مودی کی چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے بعد دو طرفہ تعلقات آہستہ آہستہ پٹری پر آ رہے ہیں۔
اس کے نتیجے میں حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر طویل عرصے تک آمنے سامنے رہنے والے فوجی پیچھے ہٹ گئے ہیں اور سرحد پر امن و استحکام قائم ہوا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان پانچ سال بعد ایک بار پھر براہ راست پروازیں شروع ہوئی ہیں اور چین نے کیلاش مانسروور یاترا کا آسان اور چھوٹا راستہ کھول دیا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان روایتی تجارتی راستے کھولنے کے بارے میں بھی بات چیت چل رہی ہے ۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے اقتدار پر قابض ہونے کے چار سال بعد ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات میں پھر سے گرمجوشی آئی ہے ۔ ہندوستان نے دور رس اثرات کی حامل پالیسی کے تحت ایک بار پھر کابل میں اپنے سفارت خانے کو فعال کر دیا ہے ۔ اس سال افغان وزراء کے دورئہ ہند اور افغانستان کی ترقی کے لیے ہندوستان کے عزم نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا نیا باب شروع کیا ہے ۔
دوسری جانب، ایک منفی پیش رفت میں پڑوس میں ایک قابل اعتماد شراکت دار بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں تلخی آنا اس سال ہندوستان کے لیے بڑا دھچکا ہے ۔ وہاں پرتشدد تحریک کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہندوستان کی برسوں کی کوششوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے ۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے پھر سے مضبوط ہونے اور وہاں کی عبوری حکومت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے بنگلہ دیش کے ہندوستان دشمنی کی راہ پر چلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔
روایتی حریف پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی یہ سال اچھا نہیں رہا اور پہلگام دہشت گردانہ حملے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نچلی ترین سطح پر پہنچا دیا ہے ۔ ہندوستان نے پہلگام حملے کے جواب میں ’آپریشن سندور‘چلا کر پاکستان کو فوجی محاذ پر سزا دینے کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی زک پہنچاتے ہوئے ۱۹۶۰کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے ۔
ہندوستان نے اٹاری بارڈر چوکی کو بھی بند کر دیا ہے ، ساتھ ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ’خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے‘اور ہندوستان دہشت گردی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گا۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد اور ان کی حمایت کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرے گا۔
آپریشن سندور کے بعد دہشت گردی کے خلاف تمام ممالک کو متحد کرنے اور اس آپریشن کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرنے کے لیے ہندوستان نے کئی ممالک میں کل جماعتی وفود بھی بھیجے تھے ۔ اسے سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا اور کئی ممالک نے ہندوستان کے موقف کی حمایت کی۔
دیگر پڑوسی ممالک نیپال، سری لنکا اور بھوٹان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات اس سال پہلے کی طرح ہی مضبوط رہے ہیں۔ ان ممالک کے ساتھ ہندوستان کے اقتصادی تعلقات دو طرفہ رشتوں کی بنیاد رہے ہیں۔
خلیجی ممالک کے ساتھ بھی ہندوستان کے تعلقات اس سال مضبوطی کی سمت بڑھے ہیں۔ ان ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا دائرہ وسیع ہوا ہے ۔ افریقی ممالک کے ساتھ بھی ہندوستان کے تعلقات تیزی سے بہتری کی طرف گامزن ہیں اور ان ممالک کے ساتھ ہندوستان کی تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
(یو این آئی)










