سرینگر/۲۲دسمبر
ایک نادر موسمی واقعے میں سعودی عرب کے شمالی حصوں میں گزشتہ جمعرات کو غیر متوقع طور پر برف باری ریکارڈ کی گئی۔ شدید گرمی اور خشک صحراؤں کے لیے مشہور اس صحرائی ملک میں برف باری کی اطلاعات تبوق اور حائل کے پہاڑی علاقوں، بالخصوص اردن کی سرحد کے قریب جبل اللوز سے موصول ہوئیں۔
الجزیرہ اور گلف ٹائمز سمیت مختلف نیوز اداروں نے اس کی تصدیق کی۔
اس غیر معمولی موسم نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر آمادہ کیا اور وہ اس نادر منظر سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھورے ریت کے ٹیلے برف باری کے بعد سفید منظر میں بدل گئے، جہاں لوگ روایتی موسیقی پر رقص کرتے اور دوستوں و اہلِ خانہ کے ساتھ اس نایاب موسم کا جشن مناتے نظر آئے۔
سعودی گزٹ نے اتوار کے روز رپورٹ کیا کہ تبوق، توریف، قریات، دوادمی اور طائف میں درجہ حرارت کم ہو کر ۲ ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جبکہ سکاکا اور حائل میں درجہ حرارت تقریباً ۳ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں سرد موسم آئندہ دنوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
گلف نیوز کے مطابق سعودی نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی نے پہلے ہی شدید سرد موسم، درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور تبوق و حائل کے بلند علاقوں میں برف باری کے امکان سے خبردار کیا تھا۔
رپورٹ میں ماہرینِ موسمیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں پھیلنے والے گہرے کم دباؤ کے نظام سے جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث شدید بارشیں، سرد ہوائیں اور ایسے علاقوں میں بھی برف باری ہوئی جہاں عام طور پر اس طرح کا موسم متوقع نہیں ہوتا۔
تاہم گلف نیوز نے سعودی ماہرِ فلکیات محمد بن ردّہ الثقفی کے حوالے سے بتایا کہ شمالی سعودی عرب میں ہر موسمِ سرما میں وقتاً فوقتاً برف باری ہوتی رہتی ہے، اگرچہ اس کا کوئی مقررہ فلکیاتی چکر نہیں ہوتا۔ الثقفی، جو طائف آسٹرونومیکل سن ڈائل کے ماہر اور عرب یونین فار اسپیس اینڈ آسٹرونومی سائنسز کے رکن ہیں، کے مطابق اس تکرار کا انحصار زیادہ تر بدلتے ہوئے موسمی اور فضائی حالات پر ہوتا ہے۔
گزشتہ ہفتے خطے میں غیر معمولی موسم دیکھنے میں آیا، جب دبئی میں شدید بارشوں نے سڑکوں کو زیرِ آب کر دیا اور دفاتر کو ملازمین سے گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دینی پڑی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں لوگوں کو گھٹنوں تک پانی میں چلتے دیکھا گیا، جبکہ شدید بارشوں کے بعد درجۂ حرارت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔










