واشنگٹن، 5 ستمبر (یو این آئی) ایک وفاقی جج نے جمعہ کو ایک پابندی میں توسیع کر دی، جس کے تحت امریکی پوسٹل سروس (یو ایس پی ایس) کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتظامی حکم سے متعلق نئے ضابطے پر عمل درآمد سے روک دیا گیا ہے، جس کا مقصد نومبر میں ہونے والے کانگریسی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ریاستیں نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹروں کو ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
بوسٹن کی امریکی ضلعی جج اندرا تلوانی نے ڈیموکریٹک پارٹی کی زیر قیادت ریاستوں اور ووٹنگ کے حقوق کی تنظیموں کی درخواست پر ابتدائی حکمِ امتناع جاری کیا۔ اس حکم نے اس عارضی پابندی کی جگہ لی جو جج نے اس سے قبل پوسٹل سروس کے منصوبے کے خلاف عائد کی تھی۔
اس فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور قانونی رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ ریاستیں وسط مدتی انتخابات کے لیے ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنے کا عمل شروع کر رہی ہیں۔
عدالت کے حکم نے پوسٹل سروس کو ان قواعد پر عمل درآمد سے روک دیا، جنہیں گزشتہ ماہ حتمی شکل دے کر شائع کیا گیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق نارتھ کیرولائنا جمعہ کو ابتدائی ڈاک بیلٹ بھیجنے والی پہلی ریاست بن گئی، جبکہ دیگر ریاستوں کی جانب سے بھی جلد یہ عمل شروع کیے جانے کی توقع ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی امریکی سپریم کورٹ سے تلوانی کے عارضی حکم کو ختم کرنے کی درخواست کر چکی ہے۔ جمعہ کو انتظامیہ نے جج کو مطلع کیا کہ وہ ان کے تازہ فیصلے کے خلاف امریکی فرسٹ سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں اپیل کرے گی۔
سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے مقرر کردہ جج تلوانی نے ریاستوں کے لیے اپنے انتخابی نظام میں تبدیلیاں کرنے کے دستیاب محدود وقت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا، ’’ریاستی قوانین کے تحت مدعی ریاستیں مقررہ مدت کے اندر لاکھوں بیلٹ ووٹروں کو ڈاک کے ذریعے بھیجنے کی پابند ہیں۔ جیسا کہ ذیل میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، وہ انتخابی عمل کے اس مرحلے میں تبدیلی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، جس سے اہل ووٹروں کو بڑے پیمانے پر حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کا تقریباً یقینی خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔‘‘
تلوانی نے مزید کہا کہ ریاستوں کے انتخابات سے متعلق اختیار کو صرف کانگریس ہی تبدیل یا محدود کرسکتی ہے، اور نتیجہ اخذ کیا کہ ’’ایگزیکٹو کے پاس ووٹنگ کے قواعد طے کرنے کا کوئی موروثی اختیار نہیں ہے۔‘‘
جج نے کہا کہ کانگریس نے کبھی بھی ووٹنگ سے متعلق اختیار پوسٹل سروس کو تفویض نہیں کیا اور قرار دیا کہ ایجنسی کا نیا ضابطہ ’’کانگریس کے وضع کردہ قانونی نظام سے متصادم اور غیر آئینی ہے۔‘‘






