ڈھاکہ، 5 ستمبر (یو این آئی) بنگلہ دیش دہائیوں کی سب سے شدید خسرہ کی وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے مارچ سے اب تک 986 بچوں کی جان جا چکی ہے۔
وزارتِ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، خسرہ کے مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 1.8 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ روزانہ 1,000 سے زائد نئے مشتبہ کیسز درج کیے جا رہے ہیں۔ دارالحکومت کے اہم بچوں کے اسپتالوں کے خسرہ وارڈ مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔ یہاں داخل زیادہ تر بچوں کی عمر چھ ماہ سے پانچ سال کے درمیان ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتال پہنچنے والے کئی بچے غذائی قلت کی وجہ سے پہلے ہی کمزور ہیں، جس سے ان کا جسم اس انتہائی متعدی وائرس کا مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف اور نمونیا جیسی پیچیدگیوں کی وجہ سے کئی بچوں کو مسلسل آکسیجن پر رکھنا پڑ رہا ہے۔
بنگلہ دیش نے پہلے ویکسینیشن میں بڑی پیش رفت کی تھی، لیکن 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے تختہ پلٹ کے بعد سیاسی عدم استحکام، اور 2025 میں ہیلتھ ورکرز کی ہڑتال کی وجہ سے ویکسینیشن مہم ملتوی ہوتی گئی۔ اس وجہ سے بڑی تعداد میں بچے ویکسین کی خوراک سے محروم رہ گئے، جس سے یہ وبا تیزی سے پھیلی۔
وبا پر قابو پانے کے لیے حکومت نے اب بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم شروع کی ہے۔






