ابوظہبی، 5 ستمبر (یو این آئی) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان (ایم بی زیڈ) نے مصری حکومت مخالف کارکن اور شاعر عبدالرحمن یوسف القرضاوی کو صدارتی معافی دے دی ہے۔ سرکاری میڈیا نے اس کی تصدیق کی ہے۔
عبدالرحمن القرضاوی کو دسمبر 2024 میں لبنان میں گرفتار کیا گیا تھا اور جنوری 2025 میں متحدہ عرب امارات کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ان پر ایسے الزامات عائد کیے گئے تھے کہ انہوں نے ’’عوامی سلامتی کو مشتعل کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کے مقصد سے سرگرمیوں میں حصہ لیا‘‘۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے جمعہ کو بتایا کہ صدر نے القرضاوی کو معافی اس وقت دی جب ابوظہبی کی وفاقی عدالتِ استیناف کے سائبر کرائم ڈویژن نے 27 اگست کو انہیں 10 سال قید اور 200,000 درہم (55,000 ڈالر) جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
یہ واضح نہیں کہ القرضاوی کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے یا نہیں، تاہم وام نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ ’’صدارتی معافی پر عمل درآمد کے لیے ضروری کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔‘‘
عبدالرحمن القرضاوی، معروف سنی مسلم عالم دین یوسف القرضاوی کے صاحبزادے ہیں۔ یوسف القرضاوی عالم اسلام کے بااثر ترین مذہبی علما میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے 2011 کی عرب بہار کی تحریکوں کی حمایت کی تھی، جس کے باعث وہ مصر اور خلیجی خطے کے بعض حکمرانوں کی سخت ناراضی کا شکار رہے۔
عبدالرحمن القرضاوی کے اہل خانہ نے جنوری 2025 میں ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر لبنان نے انہیں کسی ایسے ملک کے حوالے کیا جو ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہا ہے تو اس سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی القرضاوی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں محض آزادیٔ اظہار کے حق کے استعمال پر گرفتار کیا گیا ہے۔






