کیف، 5 ستمبر (یو این آئی) روس نے جنوب مشرقی یوکرین کے دنیپروپیٹرووسک خطے کے شہر کامیانسکے پر حملہ کیا، جس میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ بات خطے کے گورنر اولیکساندر ہانژا نے بتائی۔
یہ حملہ ہفتے کی صبح اس وقت ہوا جب امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ماسکو جانے سے چند گھنٹے قبل یوکرینی مسلح افواج کے بعض یونٹس کو تین روزہ جنگ بندی پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ وٹکوف اور کشنر ہفتے کو ماسکو جبکہ اتوار کو کیف کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ ’’جنگ ختم کرنے‘‘ کی تجویز لے کر جارہے ہیں۔
یوکرینی میڈیا ادارے یوکرائنسکا پراودا نے رپورٹ کیا کہ یوکرینی افواج کے لیے یہ ’’وقفہ‘‘ 5 ستمبر کی نصف شب سے شروع ہو کر 8 ستمبر کی رات 11 بج کر 59 منٹ تک جاری رہنا تھا۔
یوکرین کے رکن پارلیمنٹ اولیکسی ہونچارنکو نے جمعہ کی رات اپنے ٹیلی گرام چینل پر لکھا، ’’فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کا حکم موصول ہوگیا ہے۔ جنگ بندی ہر جگہ جاری ہے، زمین پر، فضا میں اور سمندر میں۔‘‘
تاہم انٹرفیکس یوکرین نیوز ایجنسی کے مطابق اس حکم کے باوجود روسی حملے رات بھر یوکرین میں جاری رہے۔ اس کے نتیجے میں یوکرین کی مسلح افواج نے وضاحت کی کہ انہیں محاذ پر عارضی جنگ بندی کا حکم دینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ روس نے اپنی جارحانہ کارروائیاں بند نہیں کی تھیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کو ایکس پر کہا، ’’روسیوں نے دنیپرو کے علاقے میں کامیانسکے کے ایک شہری ادارے کو نشانہ بنایا۔‘‘
زیلنسکی نے مزید کہا، ’’رات کے دوران ہمارے ہوائی اڈوں، کیف اور بوریسپل، پر بھی روس کی جانب سے نمائشی حملے کیے گئے۔ واضح طور پر ہوائی اڈوں پر روسی حملے ان بات چیت اور تیاریوں کا ردعمل ہیں جن کا تعلق امریکی فریق کی جانب سے یوکرین جانے اور کیف ایئرپورٹ یا بوریسپل ایئرپورٹ پر طیارہ اتارنے کے امکان سے ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہم نے روس کے اس اقدام کا نوٹس لے لیا ہے اور اگلے ہفتے روسی فضائی حدود کے حوالے سے اپنی کارروائیوں میں اسی کے مطابق تبدیلی کریں گے۔‘‘
دریں اثنا، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ہفتے کو بتایا کہ زاپوریژیا جوہری بجلی گھر کو بیرونی بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے ضروری مرمت کا کام ممکن بنانے کی غرض سے ایک علیحدہ مقامی جنگ بندی کرائی گئی ہے۔
یوکرین میں واقع روس کے زیر کنٹرول یہ جوہری بجلی گھر 20 اگست سے بیرونی بجلی سے محروم ہے اور اپنے اہم حفاظتی نظام کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹرز پر انحصار کر رہا ہے۔
کامیانسکے کے علاوہ یوکرین کے دیگر علاقوں میں بھی رات بھر روسی حملوں میں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یوکرین کی ریاستی ایمرجنسی سروس کے پریس دفتر کے مطابق بحیرۂ اسود کے ساحلی علاقے اوڈیسا میں تین افراد زخمی ہوئے، جن میں 17 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔
جنوبی یوکرین کے شہر میکولائیف میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شاپنگ سینٹر میں 17 سالہ لڑکی زخمی ہوگئی۔
کیف کے علاقے میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت پر روسی حملے کے بعد دو خواتین زخمی ہوئیں اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ بات کیف کی علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتائی۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران یوکرین میں شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ روس جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز استعمال کر رہا ہے، جو مسافر طیارے کی تقریباً نصف رفتار سے پرواز کرتے ہیں اور پروپیلر سے چلنے والے ڈرونز کے مقابلے میں انہیں روکنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
دریں اثنا، روسی وزارتِ دفاع نے ہفتے کو بتایا کہ روسی فوج نے رات بھر یوکرین کے 53 فکسڈ ونگ ڈرونز کو روک کر تباہ کردیا، جن میں کئی ڈرونز ماسکو کے علاقے کے اوپر بھی مار گرائے گئے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران یوکرین نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز تیار کیے ہیں جن کے ذریعے روس کے تیل کے شعبے کو بارہا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یوکرین کا مقصد روسی معیشت کو نقصان پہنچانا اور آن لائن خوردہ فروشوں کے گوداموں کو نشانہ بنا کر روسی عوام کو جنگ کے اثرات محسوس کرانا ہے۔
جمعہ کو ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدہ اس لیے ممکن نہیں ہوسکا کہ ان کے بقول متحارب فریقوں کے درمیان ’’شخصی مسئلہ‘‘ موجود ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’صدر زیلنسکی اور صدر پوتن ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ان کے درمیان شدید عداوت ہے اور یہ راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔‘‘
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق وٹکوف اور کشنر ہفتے اور اتوار کو ماسکو میں ہوں گے۔ یہ جنوری کے بعد ان کا روس کا پہلا دورہ ہوگا۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ دونوں امریکی ایلچی اتوار کو یوکرین پہنچیں گے، جو ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کا اس ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔





