بروسلز، 5 ستمبر (یو این آئی) یورپی یونین کی توسیع کی سربراہ مارتا کوس نے جنگی جرائم کے مرتکب رَتکو ملادچ کی موت کے بعد ان کی ’’پذیرائی‘‘ پر احتجاج کرتے ہوئے سربیا کا آئندہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
کوس نے جمعہ کو ایکس پر جاری بیان میں ملادچ کی موت کے بعد ہونے والی ’’پذیرائی‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل ’’ان اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا جن پر یورپی یونین میں شمولیت کا راستہ قائم ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس صورتحال کے پیشِ نظر میں نے اس وقت سربیا کا اپنا طے شدہ دورہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
ملادچ کی میت جمعرات کو دی ہیگ سے بلغراد لائی گئی، جہاں تدفین سے چند روز قبل اسے فوجی دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
’’بوسنیا کے قصاب‘‘ کے نام سے معروف ملادچ 27 اگست کو 84 برس کی عمر میں دی ہیگ میں عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔ انہیں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور بوسنیا کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب پر سزا سنائی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی عدالت کی جانب سے 2017 میں سزا سنائے جانے کے باوجود سربیا کے بعض عوامی اور سیاسی حلقوں میں ملادچ کو اب بھی ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ جمعرات کو ان کی میت جب بلغراد کی سڑکوں سے گزری تو حامیوں کو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
سربیا کے پاپولسٹ صدر الیگزینڈر ووچچ کے حوالے سے علاقائی ٹیلی ویژن چینل این ون نے بتایا کہ انہوں نے کوس کی وضاحت کو ’’بہت مختصر لیکن احمقانہ‘‘ قرار دیا۔
سربیا کی حکومت کے مطابق ملادچ کی تدفین سرکاری اور فوجی اعزازات کے ساتھ کی جائے گی۔
ووچچ نے یہ بھی کہا کہ حکومت ’’ہر قسم کی لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ معاونت‘‘ فراہم کرے گی اور انہیں توقع ہے کہ جنازے میں دسیوں ہزار افراد شرکت کریں گے۔
سربیا 2014 سے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، تاہم ووچچ کے دورِ حکومت میں حالیہ برسوں کے دوران یہ عمل تعطل کا شکار رہا ہے۔
ملادچ بوسنیا کی جنگ کے بدنام ترین فوجی کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے، جس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ ان کا نام جولائی 1995 میں ہونے والی سریبرینیتسا نسل کشی سے گہری وابستگی رکھتا ہے، جہاں ان کی افواج نے 8,000 سے زیادہ بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کر دیا تھا۔






