خرطوم، 5 ستمبر (یو این آئی) سوڈان کے جنوبی کردوفان صوبے میں ایک باغی گروپ کی جانب سے رہائشی علاقوں پر حملے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔
طبی تنظیم سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ (ایس پی ایل ایم۔ این) پر ڈلنگ شہر میں توپ خانے سے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
تنظیم نے کہا کہ شہری علاقوں پر شدید گولہ باری بین الاقوامی انسانی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور پہلے ہی سنگین انسانی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔
بیان میں کہا گیا، ’’سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے فوری کارروائی کرے اور ایس پی ایل ایم-این (الحلو دھڑے) کی قیادت پر مؤثر دباؤ ڈالے تاکہ وہ شہریوں اور رہائشی علاقوں کے خلاف حملے بند کرے۔‘‘
ایس پی ایل ایم۔ این، ایس پی ایل ایم کا ایک علیحدہ ہونے والا دھڑا ہے۔ ایس پی ایل ایم پڑوسی ملک جنوبی سوڈان کی حکمران جماعت ہے۔ اس گروپ کے سربراہ عبدالعزیز الحلو نے اپنے جنگجوؤں کو نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ساتھ منسلک کر رکھا ہے اور سوڈان میں آر ایس ایف کی قیادت میں قائم متوازی حکومت میں شامل ہوگئے ہیں۔
طبی تنظیم نے اس سے چند گھنٹے قبل جاری ایک الگ بیان میں کہا تھا کہ ایس پی ایل ایم-این کی فورسز نے جمعرات کو کاؤڈا شہر کے قریب دیبی اور لوویری کے علاقوں پر حملے کیے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 21 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
نیٹ ورک کے مطابق ان حملوں میں خاص طور پر اوتورو قبیلے کو نشانہ بنایا گیا، جو نوبا پہاڑوں میں ایک اقلیتی گروہ ہے۔
یہ ہلاکتیں رواں سال کے آغاز میں زمین کے تنازعات کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہوئی ہیں، جس سے سوڈان میں فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری وسیع تر خانہ جنگی میں موجود نسلی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
حالیہ لڑائی گزشتہ ماہ آر ایس ایف کی حمایت سے شروع کیے گئے جنگ بندی کے اقدام کے باوجود ہوئی۔ الحلو نے اس معاہدے کی حمایت نہیں کی اور ان کی فورسز نے 20 سے 26 اگست کے درمیان کم از کم 10 اوتورو دیہات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری بے گھر ہوگئے۔
یہ کشیدگی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک آزاد تحقیقاتی مشن کی وسیع تر وارننگز کے درمیان سامنے آئی ہے۔ مشن نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ بیرونی مداخلت، بشمول بیرونی رسد کے نیٹ ورکس، غیر ملکی اہلکاروں اور فوجی ڈرونز کی موجودگی، تنازع کو ہوا دے رہی ہے اور ملک بھر میں شہریوں کے خلاف تشدد میں اضافہ کر رہی ہے۔
اپریل 2023 میں سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک، تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر اور ملک کے بعض حصے قحط کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق سوڈان میں تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ افراد، جو ملک کی آبادی کا لگ بھگ دو تہائی ہیں، اب فوری انسانی امداد کے محتاج ہیں۔





