سرینگر/۲۲ دسمبر
معروف براڈکاسٹر، سینئر صحافی اور نامور مصنف عبدالاحد فرہاد کے انتقال سے جموں و کشمیر کا ادبی، صحافتی اور نشریاتی حلقہ سوگوار ہے۔ انہوں نے جموں میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال پر ساتھیوں، ادیبوں، براڈکاسٹروں اور ادبی تنظیموں کی جانب سے گہرے رنج و غم اور تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عبدالاحد فرہاد کا تعلق ریڈیو کشمیر اور آل انڈیا ریڈیو (اے آئی آر) سرینگر سے گہرا رہا، جہاں انہوں نے ایک ممتاز براڈکاسٹر اور نیوز اینکر کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ اپنی شائستہ آواز، فکری گہرائی اور انسانی رویے کی وجہ سے وہ کئی نسلوں کے براڈکاسٹروں اور قلم کاروں کے لیے رہنما اور مشفق استاد کی حیثیت رکھتے تھے۔
مہجور فاؤنڈیشن نے اپنے تعزیتی بیان میں عبدالاحد فرہاد کو ’’ایک شاندار براڈکاسٹر، صحافی اور کثیر التصانیف مصنف‘‘ قرار دیا۔ معروف براڈکاسٹر عبدل مہجور نے کہا کہ ان کے انتقال سے کشمیر کے ثقافتی اور فکری منظرنامے میں ایک گہرا خلا پیدا ہو گیا ہے۔
ریڈیو کشمیر اور دوردرشن کے سابق ڈائریکٹر رفیق مسعودی نے ان کے انتقال پر کہا’’میرا فرہاد صاحب سے تعلق چار دہائیوں پر محیط ہے۔ بچوں کے پروگراموں کے دنوں سے لے کر ریڈیو کشمیر میں بطور ساتھی، وہ ہمیشہ میری رہنمائی کرتے رہے۔ سحری پروگرام، خاندانی پروگرام اور صوفی بزرگوں پر مبنی پروگراموں میں ان کی تجاویز نہایت قیمتی ہوتیں۔۲۰۰۶ میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ پروگراموں پر نظر رکھتے اور رہنمائی دیتے رہے۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں مغفرت عطا فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام دے‘‘۔
معروف براڈکاسٹر اور مصنف حسین ظفر نے ایک پْراثر خراجِ عقیدت میں کہا کہ عبدالاحد فرہاد ایک ایسی رہنما شخصیت تھے جن کے الفاظ میں دانائی اور شفقت جھلکتی تھی، اور ان کی رحلت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
سابق آل انڈیا ریڈیو کے براڈ کا سٹر مقصود اْوڑی نے شہربین پروگرام کے دوران فرہاد صاحب کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کئی مہینوں تک ایک ساتھ کام کیا اور ریڈیو کشمیر کے یادگار دن گزارے۔ انہوں نے کہا، ’’اگرچہ وہ ۲۰۰۲ کے آس پاس ریٹائر ہو گئے تھے، مگر ہم گزشتہ برس تک رابطے میں رہے۔ ان کا انتقال ذاتی نقصان ہے‘‘۔
صحافی اور تجزیہ نگار منوج کول نے کہا کہ عبدالاحد فرہاد کی نشریات اور ادب میں خدمات کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا، کیونکہ ان کے کام نے خطے کی صحافت پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
براڈکاسٹر شمشاد کرالواڑی نے انہیں اپنا رہنما، بھائی اور ’’صوفی روایت کا امین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کے جانے سے ایک عہد ختم ہو گیا ہے، مگر ان کی روحانی اور فکری روشنی آئندہ نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
حلقۂ ادب سوناواری حاجن کی جانب سے نمائندہ قیوم ودیرا نے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے عبدالاحد فرہاد کو ایک اے گریڈ ادیب، براڈکاسٹر اور نہایت منکسرالمزاج انسان قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا ’’اللہ تعالیٰ انہیں مغفرت عطا فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام نصیب کرے۔‘‘
متعدد دیگر سماجی، ادبی اور ثقافتی تنظیموں نے بھی عبدالاحد فرہاد کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے کشمیر کی ادبی اور نشریاتی برادری کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
عبدالاحد فرہاد کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ انکساری، تربیت و رہنمائی اور کشمیری ثقافت، زبان اور صوفی روایت سے گہری وابستگی کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ویب ڈیسک










