تہران، 8 دسمبر (یو این آئی)
ایرانی حکام نے ہفتے کے روز کش جزیرے پر ہونے والی ایک میراتھن کے دو منتظمین کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے ، اس سے قبل مقابلے کی ایسی خواتین کی تصاویر سامنے آئی تھیں، جنہوں نے حجاب کے بغیر مقابلے میں حصہ لیا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی’ کے مطابق اسلامی جمہوریہ کے عدالتی حکام کو قدامت پسندوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے ، کیوں کہ وہ خواتین کے لیے لازمی حجاب کے قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور مغربی اثر و رسوخ کے بڑھنے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
ایران میں حالیہ برسوں میں خواتین نے ، خاص طور پر 2022 میں ہونے والے ملک گیر احتجاجات کے بعد حجاب کے قانون کو بڑھتے ہوئے نظرانداز کیا ہے ، جب کہ سپریم لیڈر کے دفتر کو پچھلے ہفتے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں مارے جانے والی ایک بے حجاب خاتون کی تصویر شائع کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جمعہ کو ہونے والی میراتھن کی تصاویر میں دکھایا گیا کہ متعدد دوڑنے والے شرکا اسلامی جمہوریہ کے خواتین کے لیے سخت لباس کے قواعد کی پیروی نہیں کر رہے تھے ، جو 1980 کی دہائی کے اوائل میں قانون کے طور پر نافذ کیے گئے تھے ۔
عدلیہ کی مِیزان آن لائن ویب سائٹ نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ مقابلے کے دو اہم منتظمین کو وارنٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ، یہ میراتھن کے ایک دن بعد کی خبر تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گرفتار ہونے والوں میں سے کش فری زون کا ایک افسر ہے اور دوسرا وہ شخص ہے جو اس دوڑ کا انتظام کرنے والی نجی کمپنی میں کام کرتا ہے ۔
مقامی میڈیا کے مطابق تقریباً 5 ہزار افراد نے اس دوڑ میں شرکت کی۔
عدلیہ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ دوڑ کے منتظمین کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ کھولا گیا ہے ۔










