یہ بات کبھی ذہن میں بھی نہیں آسکتی تھی کہ کشمیر جیسی وادی… وہ خطہ جو پہاڑوں کی آغوش میں بسا ہے، جہاں سبزہ چادر کی طرح بچھا ہوا ہے، جہاں گیت گاتے جھرنے اپنے پانی کے ساتھ موسیقی بکھیرتے ہیں، جہاں فلک بوس پہاڑ آسمانوں کو چھوتے ہیں اور جہاں نیلگوں پانی شہد سے زیادہ میٹھا محسوس ہوتا ہے‘ایک دن آلودگی کے بادلوں میں گم ہونے لگے گا۔ یہ تو وہ سرزمین تھی جسے لوگ فطری خوبصورتی، پاکیزگی اور شفاف فضا کے لیے یاد کرتے تھے۔
دیوہیکل چناروں کی سرسراہٹ، بہتے جھرنوں کی آواز، صبح کی ہوا کی تازگی، شام کی خنکی‘ سب کچھ اس وادی کی پہچان تھا۔ ایسے کشمیر میں آلودگی کا بڑھ جانا صرف حیرانی کی بات نہیں، ایک دھچکے کی مانند ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ کشمیر کی فضا آج خطرناک حد تک آلودہ ہو چکی ہے اور اس آلودگی کی رفتار تشویش ناک طور پر بڑھ رہی ہے۔
گزشتہ چند دنوں کے اعداد و شمار نے وادی کے ماحول پر گہری تشویش کی لکیر کھینچ دی۔ کئی مقامات پر ایئر کوالٹی انڈیکس۲۸۸ تک جا پہنچا، جبکہ سرینگر میں گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے دوران ۱۴۷ سے ۱۷۲ کے درمیان ریکارڈ کیا گیا، جو ’غیر صحت بخش‘ یا ’بدتر‘ کیٹیگری میں آتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں حساس افراد ہی نہیں بلکہ صحت مند لوگ بھی اس کے اثرات محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
پی ایم ۱۰؍ اور پی ایم ۵ء۲ جیسے خطرناک ذرات عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ معیار سے کئی گنا تجاوز کر چکے ہیں۔ ان ذرات کا سائز اتنا باریک ہوتا ہے کہ یہ سیدھے پھیپھڑوں میں جا کر جمع ہو جاتے ہیں اور سانس کی کیفیت کو بْری طرح متاثر کرتے ہیں۔ جس وادی کی ہوا کبھی شفا کا درجہ رکھتی تھی، آج اسی ہوا میں بیماری کے جراثیم بکھرنے لگے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ سب ہوا کیسے؟ آخر اس جنت نظیر وادی کو کس نے آلودگی کی دلدل میں دھکیل دیا؟ اس کے پیچھے کئی عوامل ہیں، جن میں سب سے اہم سردیوں کا سخت موسم ہے۔ جیسے ہی درجہ حرارت منفی چار ڈگری تک گرتا ہے، وادی کے گھروں میں روایتی بخاریوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ لکڑی جلانا پرانی روایت ہے مگر اس کا دھواں اب آبادی کے بڑھنے اور جگہ کے محدود ہونے کے باعث فضا میں پھنسنے لگا ہے۔ گیس اور بجلی کے غیر مستقل ذرائع بھی لوگوں کو لکڑی پر انحصار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ٹریفک جام، کاربن کا اخراج، کچرے کو جلانے کی عادت، تعمیراتی سرگرمیوں سے اڑنے والی گرد‘ یہ سب آلودگی کے ایسے عوامل ہیں جو رفتہ رفتہ ہوا کو زہر آلود کرتے جا رہے ہیں۔
مگر سب سے بڑا مسئلہ موسم کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال ہے۔ کشمیر کی ہلکی، ٹھنڈی، تازہ ہوا اپنی الگ پہچان رکھتی تھی۔ مگر اب وہی ہوا کمزور پڑ گئی ہے۔ ہوا کی رفتار اتنی سست ہے کہ آلودہ ذرات اوپر اٹھ کر تحلیل ہونے کے بجائے نیچے ہی معلق رہ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وادی میں جمود کی تہہ بن گئی ہے، جیسے آسمان نے وادی پر ایک ڈھکن رکھ دیا ہو اور اس ڈھکن کے نیچے دھواں، گردوغبار اور مضر ذرات جمع ہوتے جائیں۔ نہ ہوا انہیں کہیں لے جاتی ہے، نہ بارش انہیں صاف کرتی ہے۔ جو مغربی ہوائیں کشمیر میں برفباری اور بارش لاتی تھیں، وہ بھی اس وقت کمزور ہیں اور اس وجہ سے فضا کو صاف رکھنے کا قدرتی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
اس بدترین صورتِ حال کا تقابل جب دہلی جیسے بڑے میٹرو شہروں سے کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ کشمیر اب دہلی سے زیادہ فاصلے پر نہیں رہا۔ دہلی کا اے کیو آئی اوسطاً ۳۱۰ ہے، جبکہ کشمیر کے کئی علاقے اس کے خطرناک حد تک قریب آ گئے ہیں۔ یہ ایک علامتی حقیقت ہے کہ آلودگی اب کسی ایک علاقے یا بڑے شہر کا مسئلہ نہیں رہا؛ یہ ایک وسیع تر ماحولیاتی بحران ہے جو پہاڑوں، میدانی علاقوں، دریا کناروں اور حتیٰ کہ ان خطوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جو کبھی آلودگی سے محفوظ سمجھے جاتے تھے۔ اگر آج کشمیر جیسے علاقے کی ہوا اس قدر خراب ہو سکتی ہے، تو یہ مستقبل کے لیے ایک گہری پیش گوئی ہے کہ ماحولیات کی جنگ اب ہر سطح پر لڑنی ضروری ہو گئی ہے۔
آلودگی کے اثرات سب سے پہلے انسانی صحت کو نشانہ بناتے ہیں۔ سانس کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں، دمہ کے مریض مشکلات میں مبتلا ہیں، الرجی عام ہو رہی ہے، اور بچے اور بوڑھے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹرز کھل کر کہہ چکے ہیں کہ فضا کی موجودہ صورت حال میں فوری بہتری کا کوئی امکان نہیں، کیونکہ کوئی مضبوط بارش یا برفباری متوقع نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو، خاص طور پر حساس افراد کو، اگلے کئی دنوں تک احتیاط کے ساتھ رہنا ہوگا۔
اس صورتحال میں ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ہر شہری کا کردار نہایت اہم ہے۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ کچرے کو جلا کر ختم کرنے کے بجائے مناسب ضابطے اپنانے ہوں گے۔ گاڑیوں کے بے جا استعمال میں کمی لانی ہوگی۔ حرارتی نظام کو جدید طریقوں سے چلانے کی طرف جانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ماحولیات کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے ترجیح دینا ہوگی۔ ہم میں سے ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اگر ہم نے آج اپنی فضا کو صاف رکھنے کے لیے کوشش نہ کی تو آنے والی نسلوں کو ہم وہ کشمیر نہیں دے سکیں گے جو ہمیں ملا تھا۔
کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، ایک تہذیب، ایک ورثہ، ایک تاریخ ہے۔ اس وادی کا حسن صرف پہاڑوں، جھیلوں اور درختوں میں نہیں، بلکہ اس کی ہوا میں ہے۔ اگر یہ ہوا ہی زہریلی ہو گئی تو پھر باقی تمام حسن بے معنی ہو جائے گا۔ وقت کم ہے، خطرہ بڑھ رہا ہے، اور فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں تو کل یہ وادی اپنی سانسیں، اپنا رنگ اور اپنی زندگی کھو دے گی۔ کشمیر کو بچانے کا امکان اب بھی موجود ہے، مگر اس کیلئے اجتماعی کوشش، سنجیدگی اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔





