جموں و کشمیر اس وقت ایک ایسے ریزرویشن بحران سے گزر رہا ہے جو محض قواعد و ضوابط کا معاملہ نہیں، بلکہ سیاسی وجود، عوامی اعتماد اور حکومتی ساکھ کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ چیف منسٹر عمر عبداللہ کی حکومت اس وقت چاروں طرف سے دباؤ میں ہے۔نوجوان سڑکوں پر، اپوزیشن تیزی سے جارحانہ، اور اپنی ہی جماعت کے اندر سے ایسے سوال اٹھ رہے ہیں جو حکومت کی سیاسی گرفت کمزور کرنے کے لیے کافی ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت میں کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی نے جو رپورٹ منظور کی ہے، وہ اگرچہ ایک راستہ ضرور دکھاتی ہے، مگر اس بحران کا اصل پس منظر بہت وسیع اور گہرا ہے۔ یہ مسئلہ صرف نشستوں کی تقسیم کا نہیں، بلکہ لوگوں کے احساسِ محرومی اور حکومت کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کا ہے۔
مارچ ۲۰۲۴ میں پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر میں ایس ٹی فہرست کو وسیع کرتے ہوئے ۱۰ فیصد کوٹہ کو بڑھا کر۲۰ فیصد کر دیا۔ اسی دوران او بی سی فہرست میں ۱۵ نئے گروہوں کو شامل کیا گیا، جس سے ریزرویشن کا پورا نقشہ یک لخت بدل کر رہ گیا۔ پہلے جو مجموعی ریزرویشن ۴۳ فیصد تھا، وہ بڑھ کر ۷۰ فیصد تک جا پہنچا…یعنی اوپن میرٹ کے حصے میں صرف ۳۰ فیصد نشستیں رہ گئیں۔ یہاں تک تو معاملہ قانونی طور پر شاید قابلِ بحث رہتا، مگر جب ریاست کی اکثریتی آبادی اوپن میرٹ زمرے میں آتی ہو، تو اتنی بڑی کٹوتی سیاسی اور سماجی سطح پر ایک بھونچال پیدا کرنے کے لیے کافی تھی۔
یہی ہوا۔ نوجوانوں نے احتجاج شروع کر دیا، اور اس احتجاج کی عالمی اہمیت تب دوچند ہو گئی جب نیشنل کانفرنس کے اپنے ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی بھی مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب حکمران جماعت نے پہلی بار محسوس کیا کہ معاملہ قابو سے باہر بھی جا سکتا ہے۔
مسئلے کی سیاسی نزاکت یہ ہے کہ عمر عبداللہ برسوں سے آبادی کے تناسب کے مطابق ریزرویشن کا وعدہ دہراتے رہے ہیں۔ لیکن جیسے ہی پارلیمنٹ نے ایس ٹی ریزرویشن میں دوگنا اضافہ کیا، اور او بی سی فہرست پھیلائی، ریاستی حکومت کے ہاتھ تقریباً بندھ گئے۔ کیونکہ پارلیمنٹ سے آنے والے فیصلے کو کوئی ریاستی حکومت تبدیل نہیں کر سکتی۔ یوں حکومت کے پاس صرف آر بی اے اور ای ڈبلیو ایس کیٹیگریز باقی رہ گئیں جنہیں مقامی سطح پر ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے اسی حقیقت کا فائدہ اٹھایا اور سفارش کی کہ آر بی اے اور ای ڈبلیو ایس کے حصے میں کچھ کمی کر کے اوپن میرٹ کیلئے جگہ بنائی جائے…تاکہ کم از کم ۵۰ فیصد نشستیں عام زمرے کو واپس مل سکیں۔
ایک اہم حقیقت یہ بھی کمیٹی نے سامنے رکھی کہ آر بی اے کا بڑا حصہ جغرافیائی لحاظ سے اب لداخ میں رہ گیا ہے، جو ۲۰۱۹ کے بعد جموں و کشمیر کا حصہ نہیں رہا۔ یوں آر بی اے پر مبنی پرانی فہرست کو جوں کا توں برقرار رکھنا غیر منطقی بھی ہے اور عملی طور پر ناقابلِ دفاع بھی۔ لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا، بلکہ اصل سیاسی بحرانی نقطہ یہ ہے کہ کوئی بھی کمی کس کے حصے سے کی جائے گی؟ ای ٹی کوٹا تو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ وہ پارلیمانی قانون سازی سے بندھا ہوا ہے۔ ایس سی کوٹا بھی آئینی تحفظ رکھتا ہے۔ یوں حکومت کے ہاتھ بہت ہی محدود کھیل باقی رہ جاتا ہے جسے بڑی احتیاط سے چلانا ہوگا۔
یہی وہ سیاسی دلدل ہے جس میں عمر عبداللہ حکومت قدم رکھ چکی ہے۔ ایک طرف نوجوانوں کا بڑھتا ہوا غصہ ہے، دوسری طرف وہ طبقات ہیں جنہیں پہلے ہی لگتا ہے کہ ریاستی نظام انہیں حق سے زیادہ یا کم دے رہا ہے۔ ایسے وقت میں حکومت کے لیے کسی بھی سمت کا فیصلہ سیاسی خطرے سے خالی نہیں۔ اگر حکومت اوپن میرٹ میں اضافہ کرتی ہے تو آر بی اے اور ای ڈبلیو ایس طبقات میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر تبدیلی نہ کی جائے تو نوجوان مزید اشتعال میں آسکتے ہیں۔ اور اگر ایس ٹی یا او بی سی کے مسئلے کی طرف پارلیمنٹ میں کوئی سفارش کی جائے تو مرکز کے ساتھ ٹکراؤ کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی گتھی ہے جس میں ہر فیصلہ بیک وقت ضروری بھی ہے اور خطرناک بھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس پورے معاملے نے عوام کے ایک بڑے طبقے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ریزرویشن واقعی سماجی انصاف کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے یا پھر سیاسی مفاد کیلنڈر کو ترتیب دینے کا ایک مضبوط ذریعہ بن گئی ہے۔ ریاست میں روزگار کے محدود مواقع، سرکاری نوکریوں کی کشش اور معاشی بییقینی نے ریزرویشن کے مسئلے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس لیے جب مجموعی ریزرویشن۷۰ فیصد تک پہنچا تو نوجوانوں نے اسے اپنے مستقبل پر حملہ تصور کیا…اور یہ احساس مکمل طور پر بے بنیاد نہیں۔ ریزرویشن کا مقصد محروم طبقات کو آگے لانا ضرور ہے، مگر اگر یہ خود اکثریت کے لیے محرومی پیدا کر دے تو اپنے بنیادی مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔
عمر عبداللہ کے لیے یہ بحران کسی بھی زاویے سے آسان نہیں۔ ان کی حکومت کے لیے اس بحران کا حل محض ایک انتظامی اصلاح نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کی بازیابی کا امتحان ہے۔ ذیلی کمیٹی کی سفارشات یقیناً ایک منطقی قدم ہیں لیکن یہ مسئلے کا آخری حل نہیں۔ حکومت کو نہ صرف ان سفارشات کو عملی شکل دینی ہوگی بلکہ ایک وسیع تر اصلاحی فریم ورک بھی طے کرنا ہوگا جو مستقبل میں ریزرویشن کے تنازع کو دوبارہ پید ا نہ ہونے دے۔ اس تنازع نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ریاست کو ایک شفاف، جدید، آبادی پر مبنی اور سماجی محرومی کو حقیقی بنیاد بنانے والی پالیسی کی ضرورت ہے…ورنہ عدم توازن اور اضطراب آنے والے برسوں میں مزید گہرا ہو جائے گا۔
جموں و کشمیر اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جس میں کوئی بھی سیاسی لغزش آنے والی نسلوں کی پالیسی سمت کا تعین کرے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات کو ایک وسیع تر اصلاحی کوشش کا پہلا قدم سمجھے۔ کیونکہ اگر یہ عدم توازن برقرار رہا تو نہ احتجاج رکے گا، نہ بیچینی کم ہوگی، اور نہ ہی لوگوں کا حکومت پر اعتماد بحال ہو سکے گا۔
یہ بحران حکومت کو یہ یاد دلانے آیا ہے کہ ریزرویشن محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں‘یہ عوام کے احساسِ انصاف کا مسئلہ ہے۔ اور جب عوام کو انصاف نظر نہ آئے، تو کوئی بھی حکومت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اس کی بنیادیں لرز جاتی ہیں۔





