ایک بات تو ہے صاحب اور وہ یہ ہے کہ جب بڑی خوشیاں ناپید ہو جاتی ہیں… ان کا قحط پڑ جا تا ہے… یہ ہم ست روٹھ جاتی ہیں ‘ منہ پھیر لیتی ہیں تو… تو ایسے میں حضرت انسان چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی خوش ہو تا ہے… انہیں پر اکتفا کرتا ہے‘ انہی سے دل کو تسلی دیتا ہے … انہی سے سمجھوتہ کر لیتا ہے… دل کو مجبور کر تا ہے کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ہی اپنا مقدر سمجھ کر بڑی خوشیوں کی تمنا اور خواہش سے دستبردار ہو جائے ‘ سرنڈر کرے ۔ اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرا علیٰ ‘ عمر عبداللہ بھی اب چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی خوش ہو رہے ہیں یا خود کو خوش رکھ رہے ہیں… کہ …کہ ایک بات جو ان کی سمجھ میں آگئی ہے وہ یہ ہے کہ بڑی خوشیاں ان کے نصیب میں نہیں ہیں… بالکل بھی نہیں ہیں… وہ ان سے روٹھی ہی رہیں گی… اس لئے یہ جناب چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر تالی بجا تے ہیں… جیسے دربار مو کی بحالی … آج پیر ۳نومبرکو جموں میں دربار کھل گیا اور…اور دربار کھلنے سے وزیر اعلیٰ کا چہرہ جس طرح کھِل اٹھا تھا … وہ اگر کسی بات کی چغلی کھا رہا تھا تو… تو اس ایک بات کی کہ … کہ وزیر اعلیٰ اس چھوٹی سی خوشی پر بہت خوش ہیں… اتنا خوش شاید یہ ریاستی درجے کی بحالی پر بھی نہیں ہو تے… لیکن… لیکن چونکہ انہوں نے من ہی من میں ‘ دل ہی دل میں یہ بات‘ یہ حقیقت تسلیم کر لی ہے کہ… کہ ریاستی درجی بحال نہیں ہو گا … بالکل بھی نہیں ہو گا… کم از کم ان کے دور اقتدار میں نہیں ہو گا … اس لئے انہیں یہ خوشی … بڑی خوشی ملنے سے رہی … انہیں یہ خوشی ملنے والی نہیں ہے… سو یہ جناب چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہورہے ہیں… دربار کی بحالی پر تالی بجا رہے ہیں ۔ نہیں صاحب اللہ میاں کی قسم! ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے اور … اور ہو گا بھی کیوں کہ اگر کوئی شخص خوش ہو… بھلے ہی خوشی کی کوئی بات نہ ہو تو صاحب میرا کیا جاتا ہے… اس میں برا ہی کیا ہے… کچھ بھی نہیں ہے… ہونے دیجئے … وزیر اعلیٰ کو خوش ہو نے دیجئے … ریاستی درجے کی بحالی پر نہ سہی دربار مو کی بحال پر ہی … لیکن انہیں خو ش ہونے دیجئے ۔ ہے نا؟



