سمجھتے ہیں اور سو فیصد سمجھتے ہیں … وہ جو وزیرا علیٰ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں… یہ کہہ کر رہے ہیں کہ… کہ آغا روح اللہ اور میاں الطاف میں زمین اور آسمان کا فرق ہے… یقینا دونوں میں فرق ہے…عمر کا فرق اور شاید طرز عمل کا بھی اور شاید یہی بات وزیر اعلیٰ ہمیں سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں… اس لئے کررہے ہیں کیوں کہ جو اشوز روح اٹھا رہے ہیںانہی اشوز پر میاں الطاف بھی بات کررہے ہیں… یا بات کرنے لگے ہیں… لیکن عمر عبداللہ کو میاں صاحب سے کوئی اعتراض نہیں ہے… الٹا کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کہا صحیح کہا کہ میرے والد صاحب بھی ایسا ہی کچھ کہتے ہیں … اور اس ناطے عمر صاحب ،میاں الطاف کو اپنے والد جیسا ہی سمجھتے ہیں… ایسی کوئی بات ‘ ایسی کوئی رعایت وزیر اعلیٰ صاحب ‘ روح اللہ کو دینے کیلئے تیار نہیں ہیں… بالکل بھی نہیں ہیں… کیوں نہیں ہیں‘اسی بات کو ہمیں سمجھنا چاہئے … یا سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ وہ کیا ہے کہ روح اللہ کو جو باتیں بند دروازوں کے پیچھے پارٹی کے سامنے رکھنی چاہئے تھیں وہ باتیں یہ جناب سڑکوں پر کررہے ہیں… میڈیا میں کررہے ہیں… ہر ایرے غیر نتھو خیرے سے کررہے ہیں اور… اور پہلے دن سے کررہے ہیں… لیکن ہاں روح اللہ صاحب جو بھی باتیں کررہے ہیں صحیح کررہے ہیں… لیکن سیانے لوگوں کاکہنا ہے کہ صحیح بات کو بھی اگر صحیح انداز میں ‘ صحیح ڈھنگ سے اور صحیح طریقے نہ کیا جائے تو… تو یہ بھی غلط ہی معلوم ہو تی ہے… اور شاید یہی غلطی روح اللہ صاحب کی ہے… اور شاید اسی لئے وزیر اعلیٰ نے میاں الطاف کو مشورہ دیا ہے کہ اگرا نہیں کچھ بھی کہنا ہو وہ بلا کسی جھجھک کے ان سے بند دروازے کے پیچھے کر سکتے ہیں تا کہ کوئی تیسرا یہ بات جان نہ لے… لیکن … لیکن صاحب یہاں ایک بات ہے… یقینا ہے اور وہ یہ کہ کیا انہوں نے یہ پیشکش … بند دروازے کے پیچھے بات کرنے کی پیشکش کبھی روح اللہ کو تھی … بند دروازے کے پیچھے بات کی پیشکش یا پھران پر دروازے …روز اول سے دروازے ہی بند کر دئے تھے… اسی طرح جس طرح روح اللہ نے پہلے دن سے ہی اپنی ہی پارٹی ‘ اپنی ہی حکومت اور قیادت کیخلاف کرنا شروع کر دی تھیں… سڑکوں اور چوراہوں پر ۔ ہے نا؟



