جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں کا اجلاس آج سے ہو رہاہے۔ سرینگر کی فضا میں ایک بار پھر وہی پرانی گرمی محسوس کی جا رہی ہے۔ایوان کے اندر سیاسی جھڑپوں، نعروں اور الزام تراشیوں کی۔ اپوزیشن پارٹیاں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو گھیرنے کے لیے پوری تیاری میں ہیں، جبکہ حکومتی بینچیں دفاعی مورچوں میں کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ بظاہر یہ سب جمہوری عمل کا حصہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اجلاس واقعی عوام کے مسائل کا حل بن پائے گا، یا ایک بار پھر سیاسی تماشے میں بدل جائے گا؟
گزشتہ کئی برسوں سے یہی ہوتا آیا ہے کہ اسمبلی کے اجلاس محض الزام و جوابِ الزام کی گونج میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ عوام کی امیدیں، ان کے روزمرہ کے مسائل…روزگار، بجلی، پانی، مہنگائی، تعلیم، صحت‘ان مباحثوں کے شور میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ اس بار بھی امکان ہے کہ اپوزیشن انتخابی وعدوں، روزگار کے اعداد و شمار، ریاستی درجے اور ریزرویشن کے سوالات اٹھائے گی، جن پر حکومت کو جواب دینا ہی ہوگا۔ لیکن اگر اس سارے عمل کا نتیجہ صرف شور و غوغا، واک آؤٹ اور نعرے بازی تک محدود رہا، تو یہ اجلاس ایک اور ضائع شدہ موقع بن جائے گا۔
حکومت پر یہ ذمہ داری زیادہ ہے کہ وہ اس اجلاس کو بامقصد بنائے۔ کیونکہ اقتدار صرف کرسی کا نام نہیں، بلکہ جوابدہی کی ذمہ داری بھی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے دوران عوام سے کئی وعدے کیے تھے …۲۰۰ یونٹ مفت بجلی، ۱۲؍ ایل پی جی سلنڈر، ایک لاکھ نوکریاں۔ اب وقت ہے کہ ان وعدوں کا حساب عوام کے سامنے رکھا جائے۔ اگر یہ وعدے مکمل نہیں ہوئے، تو وجوہات شفاف انداز میں بیان کی جائیں۔ اگر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تو وہ بھی ایوان کے ریکارڈ پر آئے۔ سچ بولنے سے سیاسی نقصان نہیں ہوتا، بلکہ عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔
اسی طرح اپوزیشن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ محض ہنگامہ آرائی سے سیاستدانوں کی شہ سرخیاں تو بن سکتی ہیں، لیکن عوام کے زخم نہیں بھرے جا سکتے۔ سوال اٹھانا اپوزیشن کا حق ہے، مگر متبادل پیش کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت روزگار پر ناکام ہے، تو اپوزیشن بتائے کہ وہ کیا بہتر طریقہ اختیار کرتی۔ اگر بجلی یا گورننس میں خامی ہے، تو محض تنقید نہیں، عملی تجاویز بھی سامنے لائے۔ سیاست تب ہی بامعنی بنتی ہے جب اس میں تعمیری پہلو غالب ہوں۔
اس اجلاس میں تین اہم بل پیش کیے جانے ہیں‘پنچایتی راج ایکٹ میں ترمیم، جی ایس ٹی ایکٹ میں تبدیلی، اور شاپس اینڈ بزنس اسٹیبلشمنٹ بل۔ یہ تینوں بل عوامی زندگی سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔ اگر اراکین واقعی اپنے نمائندوں کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں ان بلوں پر سنجیدہ بحث کرنی چاہیے۔ محض مخالفت یا حمایت کے بیانات کافی نہیں۔ بلوں کی جزئیات پر غور، عوامی مفاد کے پہلوؤں کا جائزہ، اور زمینی حقائق سے میل کھانے والی تجاویز‘یہی وہ عمل ہے جو ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد رکھتا ہے۔
ریاستی درجے کی بحالی کا معاملہ بھی ایک اہم اور حساس موضوع ہے۔ اگرچہ اسمبلی سیکریٹریٹ نے سجاد لون کی قرارداد کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی درجہ عوام کے دلوں سے مٹ گیا ہے۔ ایوان کے ارکان کو چاہیے کہ اس مسئلے پر قانون کی حدود کے اندر رہ کر بات کریں، عوامی جذبات کو ذمہ داری سے پیش کریں، اور غیر ضروری سیاسی تماشہ نہ بنائیں۔
جمہوریت میں اختلاف رائے حسن ہے، لیکن اختلاف برائے مخالفت زہر۔ اسمبلی اگر محض سیاسی لڑائی کا میدان بن جائے تو عوام کا اعتماد پارلیمانی عمل سے اٹھ جاتا ہے۔ اس وقت جموں و کشمیر کے عوام کو سیاسی نعروں نہیں، عملی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ نوجوان روزگار کے منتظر ہیں، کسان فصلوں کی قیمتوں کے لیے پریشان ہیں، سرکاری ملازمین مستقل روزگار کی پالیسیوں کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات درکار ہیں۔ یہ سب موضوعات ایوان میں بحث کے لائق ہیں…بشرطے کہ ارادے سنجیدہ ہوں۔
بزنس ایڈوائزری کمیٹی آج(بدھ) اجلاس کر رہی ہے تاکہ ایوان میں مختلف امور پر وقت کی تقسیم طے کی جا سکے۔ بہتر ہوگا کہ اس بار وقت کا بڑا حصہ عوامی مفاد کے معاملات کے لیے مختص کیا جائے، نہ کہ ذاتی یا جماعتی تقاریر کے لیے۔ اسپیکر کی یہ ذمہ داری ہے کہ نظم و ضبط قائم رکھے، مگر اصل نظم اراکین کے رویے سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہر رکن یہ سوچ لے کہ اسے شور نہیں، کام کے ذریعے یاد رکھا جائے، تو ایوان خود بخود باوقار بن جائے گا۔
اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اسمبلی کا ہر اجلاس عوام کے پیسے سے چلتا ہے۔ ہر دن، ہر گھنٹہ، ہر لفظ ٹیکس دہندگان کے خون پسینے کی کمائی سے ادا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ایوان صرف الزام تراشی کا مرکز بن جائے تو یہ عوام کے اعتماد سے کھلواڑ ہے۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ترجیحات درست کریں۔ طاقت، کرسی اور شہ سرخیوں کے بجائے عوامی خدمت کو اپنا ہدف بنائیں۔
آنے والے چند دن جموں و کشمیر کی سیاسی فضا کے لیے اہم ہوں گے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے نمائندے اس اجلاس کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہیں یا پھر اسے محض ایک اور ضائع شدہ باب بنا دیتے ہیں۔ عوام اب وعدوں کے شور سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں…انہیں نتائج چاہیے، حل چاہیے، امید چاہیے۔
آخر میں بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے: ایوان کا اصل حسن اس کے شور میں نہیں، اس کے شعور میں ہے۔ اگر ہمارے منتخب نمائندے اس شعور کے ساتھ بیٹھیں کہ ان کی ہر بات، ہر فیصلہ، لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈالتا ہے، تو پھر یہ اجلاس واقعی تاریخی بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ بھی محض ایک شور گزار خزاں بن کر رہ جائے گا‘جس کے پتوں کی سرسراہٹ میں عوام کی آواز پھر دب جائے گی۔





