جمعرات, ستمبر 10, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

وزارت ماحولیا ت کی ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کو ہری جھنڈی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-18
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

اتحاد کا مطلب نظریاتی یکسانیت نہیں

جب منبر و محراب تقسیم کا ذریعہ بننے لگیں

وفاقی وزارتِ ماحولیات کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے جموں و کشمیر کے ضلع رامبن میں دریائے چناب پر۱۸۵۶ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے مجوزہ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کو ’’انوائرمینٹل کلیئرنس‘‘ دے دی ہے، یعنی اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کو غیر مضر قرار دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف توانائی کے ماہرین کو متوجہ کیا ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لیے ایک نئی امید بھی جگا دی ہے … وہ امید جو برسوں سے زیرِ زمین دبی ہوئی تھی، سندھ طاس معاہدے کی پابندیوں کے نیچے۔
یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کر رکھا ہے … وہی معاہدہ جو۱۹۶۰ میں دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کی تقسیم کے لیے ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت مغربی دریا… سندھ، جہلم اور چناب ، پاکستان کو اور مشرقی دریا… راوی، بیاس اور ستلج، بھارت کو دیے گئے۔ اگرچہ اس معاہدے نے جنوبی ایشیا میں پانی کے بحران کو طویل عرصے تک روکے رکھا، مگر جموں و کشمیر کے تناظر میں یہ ایک دو دھاری تلوار ثابت ہوا۔
جموں و کشمیر، جس کی سرزمین ان ہی مغربی دریاؤں کا منبع ہے، کو اپنے ہی پانیوں پر حقِ استفادہ کے معاملے میں مسلسل محدود رکھا گیا۔ اس خطے میں توانائی کی کمی، صنعتی جمود، اور ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر ، یہ سب اسی معاہدے کی بندشوں کا نتیجہ رہے۔ وادی کے بیشتر حصوں میں آج بھی بجلی کی قلت ایک روزمرہ حقیقت ہے، حالانکہ خطہ خود برف، گلیشیئر اور دریاؤں سے مالا مال ہے۔
ساولکوٹ منصوبہ، جو ۱۹۸۰ کی دہائی سے تعطل کا شکار تھا، انہی رکاوٹوں کی علامت رہا ہے۔ وفاقی وزارتِ ماحولیات کی حالیہ منظوری کو اس لیے تاریخی موڑ کہا جا سکتا ہے کہ اب یہ منصوبہ کاغذی حدود سے نکل کر عملی شکل اختیار کرنے جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی ابھر رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی جموں و کشمیر کے لیے نقصان نہیں بلکہ موقع بن سکتی ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف ’’رن آف دی ریور‘‘ یعنی محدود نوعیت کے ہائیڈرو پراجیکٹس بنانے کی اجازت تھی۔ اس پابندی نے جموں و کشمیر کی حکومتوں کو بڑے ڈیم، ذخائر یا توانائی کے تجارتی منصوبے بنانے سے روک رکھا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے دہلی پر انحصار کرتی رہی، جبکہ اس کی اپنی سرزمین سے بہنے والا پانی دوسرے صوبوں کے لیے بجلی پیدا کرتا رہا۔
اب جبکہ معاہدہ معطل ہے، جموں و کشمیر پہلی بار اپنے پانیوں پر پالیسی خودمختاری حاصل کرنے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ساولکوٹ، رتلے اور پاکلدول جیسے بڑے منصوبے اب کسی ’’بین الاقوامی اعتراض‘‘ کے انتظار کے بغیر مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ ان منصوبوں کی مشترکہ پیداوار تقریباً ۳۶۰۰ میگا واٹ بجلی تک پہنچے گی ، جو جموں و کشمیر کی موجودہ توانائی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خطہ نہ صرف خودکفیل ہو سکتا ہے بلکہ بجلی برآمد کر کے معاشی خودانحصاری کی جانب بھی قدم بڑھا سکتا ہے۔
یہ فائدہ صرف توانائی تک محدود نہیں۔ بڑے پن بجلی منصوبے تعمیراتی شعبے، مقامی روزگار، بنیادی ڈھانچے اور صنعت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ چناب کے کنارے بسے اضلاع میں سڑکیں، پل، رہائش اور تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی، جس سے مقامی معیشت میں رفتار اور اعتماد دونوں آئیں گے۔
قطع نظرپاکستان کی جانب سے اس منصوبے پر اعتراضات ‘ داخلی تناظر میں دیکھا جائے تو وفاقء وزارت ماحولیات کا یہ فیصلہ دہلی کے لیے یہ صرف ایک توانائی منصوبہ نہیں بلکہ اس کا پیغام یہ ہے کہ جموں و کشمیر کو ترقی کی راہ پر برابر کا شریک بنایا جا رہا ہے… نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ معاشی اور ماحولیاتی سطح پر بھی۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں ماحولیاتی احتیاط اور مقامی مفادات کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ دریا کے بہاؤ میں مداخلت ہمیشہ ماحول اور مقامی آبادیوں کے لیے چیلنج ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر منصوبے کے ساتھ مقامی لوگوں کے لیے ری سیٹلمنٹ، معاوضہ اور ماحولیاتی نگرانی کے موثر نظام بھی وضع کرے، تاکہ ترقی کا بوجھ عوام کے کندھوں پر نہ پڑے بلکہ ان کے ہاتھوں میں روزگار اور تحفظ کی صورت میں محسوس ہو۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اگر ایک نیا آغاز سمجھا جائے تو ملک کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ اس خطے کی پن بجلی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جائے تاکہ جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک بھی استفادہ حاصل کر سکے ۔
ساولکوٹ جیسے منصوبے دراصل اس خودمختاری کے استعارے ہیں ‘ وہ یاد دہانی کہ قدرت نے جموں و کشمیر کو وسائل کی فراوانی دی ہے، اور اب فیصلہ ملک کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ ان وسائل کو محض سیاسی تنازعات میں الجھا کر کھو دے یا انہیں اپنی تعمیرِ نو کی بنیاد بنائے۔
اگر منصوبہ بندی شفاف ہو، ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جائے، اور مقامی آبادی کو ترقی میں شریک کیا جائے، تو ساولکوٹ صرف ایک پاور پراجیکٹ نہیں رہے گا ‘ بلکہ یہ اس عہد کی علامت بنے گا جس میں جموں و کشمیر آخرکار اپنے ہی پانیوں سے اپنی روشنی پیدا کرے گا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

تیل کی درآمد پر ہندوستان کا واضح موقف، صارفین مفاد کا تحفظ اولین ترجیح: وزارت خارجہ

Next Post

سجاد صاحب !ادب سے بے ادبی کیجئے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

اتحاد کا مطلب نظریاتی یکسانیت نہیں

2026-09-10
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جب منبر و محراب تقسیم کا ذریعہ بننے لگیں

2026-09-09
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

2026-09-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جل جیون مشن:آخر مسئلہ کیا ہے ؟        

2026-09-05 - Updated on 2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

  احتجاج اور جوابی احتجاج کے بیچ پستا عام آدمی    

2026-09-03
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

انٹرنز کا وظیفہ: جائز مطالبہ، مگر مریض اولین ترجیح

2026-09-02
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر کی ازسرنو ترتیب

2026-09-01
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

سجاد صاحب !ادب سے بے ادبی کیجئے

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.