ملک کی مختلف ریاستوں میں حالیہ دنوں پیش آئے افسوسناک واقعات نے ایک بار پھر صحت عامہ کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کھانسی کے شربت پینے سے کم از کم ایک درجن بچوں کی جان چلی گئی۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ دوائی میں موجود زہریلے کیمیکل نے ان معصوم جانوں کو نگل لیا۔ یہ محض ایک المیہ نہیں، بلکہ ایک خطرناک انتباہ ہے … ایک ایسا انتباہ جسے جموں و کشمیر جیسے خطے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، جہاں سردیوں میں کھانسی اور سانس کی بیماریاں عام ہیں اور جہاں دوا بغیر کسی نسخے کے خرید لینا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔
یہ المیہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر دوا ہی موت کا سبب بننے لگے، تو عوام کس پر بھروسہ کرے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کشمیر میں دواؤں کی خرید و فروخت پر سرکاری سطح پر کوئی مؤثر نگرانی نہیں۔ بیشتر میڈیکل اسٹورز سے دوا کسی بھی شخص کو، بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے، باآسانی دستیاب ہو جاتی ہے۔ دوا فروش محض منافع کے لیے گولی، شربت یا انجکشن کسی کو بھی تھما دیتے ہیں، چاہے وہ دوا متعلقہ مریض کے لیے مناسب ہو یا نہیں۔
سردیوں کے ایام میں جب وادی بھر میں کھانسی، زکام اور سانس کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں، والدین اپنے بچوں کے لیے دواخانے کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے، بلکہ سیدھا میڈیکل شاپ پر جا کر کوئی سا بھی ’کھانسی کی دوائی/ شربت‘ خرید لیتے ہیں۔ والدین کی نیت بھلے نیک ہو، مگر لاعلمی بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو جاتی ہے۔ یہی خطرہ اس وقت کشمیر پر بھی منڈلا رہا ہے۔
جموں و کشمیر کی حکومت کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں جن دوائیوں نے بچوں کی جان لی، کہیں وہی شربت وادی کی مارکیٹ میں بھی دستیاب نہ ہوں۔ محکمہ صحت اور فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول آرگنائزیشن کو فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے بازاروں میں فروخت ہونے والی تمام کھانسی کی دواؤں کے نمونے حاصل کر کے ان کی لیبارٹری جانچ کرنی چاہیے۔ خاص طور پر اْن کمپنیوں کی مصنوعات کو جانچ کے دائرے میں لایا جائے جن پر دوسرے صوبوں میں سوالات اٹھے ہیں۔
یہ بات اب تسلیم شدہ ہے کہ ہندوستان میں دوا سازی کا شعبہ کئی دہائیوں سے مضبوط ضرور ہوا ہے، مگر نگرانی کے نظام میں خامیاں موجود ہیں۔ چھوٹی کمپنیوں میں معیار کی جانچ کے انتظامات اکثر ناکافی ہوتے ہیں، اور بعض اوقات غیر قانونی طور پر تیار کردہ دوائیں مارکیٹ میں پہنچ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک میں دوا کی فروخت اور استعمال کے اصولوں پر سختی ناگزیر ہے، خاص طور پر وہاں جہاں عوام کی صحت کا دار و مدار دوا فروش کی نیت اور تربیت پر ہے۔
کشمیر میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بغیر نسخے کے دوا کی فروخت پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ دوا فروشوں کو پابند کیا جائے کہ وہ صرف مستند ڈاکٹر کے نسخے پر ہی دوا فروخت کریں۔ خاص طور پر بچوں کی دواؤں کے معاملے میں اس اصول سے کسی کو بھی استثنا نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں بلکہ ایک بنیادی حفاظتی اقدام ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہی اصول لاگو ہے۔
اسی کے ساتھ، حکومت کو عوامی بیداری کی مہم شروع کرنی چاہیے۔ ریڈیو، ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے والدین کو بتایا جائے کہ کھانسی کا ہر شربت ایک جیسا نہیں ہوتا، اور کسی غیر معروف کمپنی کی دوا بچوں کو دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اسپتالوں میں بھی پوسٹرز اور ہینڈ بِلز کے ذریعے یہ آگاہی پھیلائی جا سکتی ہے کہ صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی دوا استعمال کی جائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ دوا فروشوں کی باقاعدہ تربیت کی جائے۔ ایک رجسٹرڈ میڈیکل شاپ چلانے کے لیے تربیت یافتہ فارماسسٹ کی موجودگی لازمی قرار دی جائے، تاکہ دوا دینے والا کم از کم یہ سمجھ سکے کہ کون سی دوا کس عمر یا بیماری کے لیے محفوظ ہے۔
جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری ضرور آئی ہے، مگر نگرانی کے نظام میں اب بھی خلا باقی ہے۔ دیہی علاقوں میں دوا فروشوں کی بڑی تعداد غیر تربیت یافتہ ہے۔ یہی طبقہ سب سے زیادہ غیر معیاری دواؤں کی فروخت کرتا ہے۔ اگر حکومت واقعی بچوں کی صحت کو ترجیح دیتی ہے، تو اسے دوا فروشی کے اس بے قابو نظام کو قابو میں لانا ہوگا۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دوا خود ایک طاقت ہے ‘جو زندگی بھی دے سکتی ہے اور موت بھی۔ اسی لیے اس کے استعمال اور فراہمی پر مکمل نگرانی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر آج جموں و کشمیر نے اس سمت میں ٹھوس قدم نہ اٹھایا، تو آنے والے دنوں میں کوئی حادثہ وادی میں بھی دہرا سکتا ہے۔
یہ المیہ محض کسی ایک ریاست کا نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے ایک وارننگ ہے۔ جب تک حکومت دوا کے معیار، فروخت، اور نگرانی کے نظام کو شفاف اور سخت نہیں بنائے گی، تب تک ایسے واقعات کے امکانات ختم نہیں ہوں گے۔
آخر میں، ایک سادہ مگر ضروری حقیقت یاد رکھنی چاہیے:بچوں کی جان کے بدلے کوئی نفع، کوئی لاپرواہی اور کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔





