ہم تو صاحب صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہمسایہ ملک کو سمجھائے … یہ سمجھائے کہ کیوں وہ بار بار اور ہر بار اقوام متحدہ میں اپنی عزت کا کچرہ کرنے پر بضد ہو تا ہے… کیوں وہ اپنی بے عزتی اور خجالت کراتا رہتاہے … بار بار اور ہر بار کراتارہتا ہے… بس ہم صرف اتنا چاہتے ہیں… اس سے زیادہ کچھ نہیں‘ بالکل بھی نہیں … اور ویسے بھی یہ کوئی بڑا سا مطالبہ یا بڑی سے خواہش نہیں ہے ہے جسے پورا نہ کیا جائے… یقینا اسے پورا کیا جا سکتا ہے… اگر کوئی اُس پار کے احمقوں کو یہ سمجھائیے کہ وہ اقوام متحدہ میں جب بھی اپنا چھوٹا سا منہ کھولے تو بھارت اور کشمیر کے بارے میں کچھ نہ بولے… کچھ بھی نہ بولے کہ… کہ پھر جب اس کے جواب میں بھارت اپنا منہ کھولتا ہے اور… اور کچھ بولتا ہے تو… تو اللہ میاں کی قسم ہمیں شرم آتی ہے… ہم پانی پانی ہو جاتے ہیں… اور اس لئے ہو تے ہیں کہ بھارت ‘اقوام متحدہ میں پاکستان وہ حال بے حال کرتا ہے جو بھارت کی کرکٹ ٹیم کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا نہیں کرتی ہے… اس سے بھی زیادہ حال بے حال اس کا کیا جاتا ہے… اگر ہم اس کی جگہ ہوتے تو اللہ میاں کی قسم ہم بھارت کے ب اور کشمیر کے ک کا بھی ذکر نہ کرتے … لیکن نہ جانے اُس پار کے لوگ کس مٹی کے بنے ہو ئے ہیں… دنیا تو اسے دہشت گردی کا مرکز کہتی ہے ‘ ہم تو اسے بے شرموں کا کہیں گے کہ… کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اور… اور اگلی بار پھر سے یہ بھارت اور کشمیر دونوں کی بات کرتا ہے… حقِ جواب میں پھر اس کی رہی سہی عزت کا جنازہ اٹھایا جاتا ہے… لیکن… لیکن یہ ہے کہ بے شرموں کی طرح اپنی حرکتوں سے باز ہی نہیں آرہا ہے… بالکل بھی نہیں آرہا ہے… اسی لئے تو ہم چاہتے ہیں کہ کوئی اسے سمجھائے کہ اقوام متحدہ میں یہ اپنی نوٹنکی بند کرے … ہمیشہ کیلئے بند کردے کہ اللہ میاں کی قسم اسے کوئی شرم آتی ہے یا نہیں… اور ہمیں یقین ہے کہ اس بے شرم کو کوئی شرم نہیں آتی ہے… بالکل اسی طرح جس طرح اسکے کرکٹ کے کھلاڑیوں کو بار بار بھارت سے شکست کھانے پر کوئی شرم نہیں آتی ہے… لیکن ہمیں آتی ہے… ہمیں شرم آتی ہے اور… اور اس لئے آتی ہے کیوں ہم بے شرم نہیں ہیں… بالکل بھی نہیں ہیں ۔ ہے نا؟




