جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حال ہی میں ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس مقصد کے حصول کیلئے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کے امکان کو بھی قطعی طور پر رد کر دیا ہے۔ بلاشبہ ریاستی درجے کی بحالی ایک ایسا مسئلہ ہے جو جموں و کشمیر کی سیاست کے مرکزی دھارے میں ہے اور عوامی امنگوں سے جڑا ہوا ہے۔ لوگ اپنے ریاستی تشخص کی بحالی کو نہ صرف سیاسی وقار بلکہ اپنے مستقبل کی ضمانت بھی سمجھتے ہیں۔
عمر عبداللہ کے اس موقف سے ان کی سیاسی وابستگی اور عزم ضرور جھلکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی شدت سے اٹھتا ہے کہ اْن عوامی وعدوں کا کیا ہوا جو انہوں نے اسمبلی انتخابات کے دوران کشمیری عوام کے سامنے رکھے تھے؟ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ، ہر خاندان کو سال میں بارہ رسوئی گیس سلنڈروں کی فراہمی اور ایک لاکھ سرکاری نوکریاں دینے کے عہد… یہ سب وہ نعرے تھے جنہوں نے نوجوانوں اور عام شہریوں میں امید کی کرن پیدا کی تھی۔
عمر عبداللہ اپنی حکومت کا ایک سال مکمل کرنے جا رہے ہیں۔ ایک برس کسی بھی حکومت کیلئے یہ دکھانے کا وقت ہوتا ہے کہ وہ کس سمت میں بڑھ رہی ہے اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے کس قدر سنجیدہ ہے۔ بدقسمتی سے ان بڑے انتخابی وعدوں میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ بجلی کی قیمتیں ویسے ہی عوام کیلئے بوجھ بنی ہوئی ہیں، مہنگائی کی مار میں رسوئی گیس سلنڈر عوام کی دسترس سے باہر ہو رہا ہے اور روزگار کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نوجوان طبقہ مایوسی کی کیفیت سے دوچار ہے، کیونکہ ایک لاکھ سرکاری نوکریوں کا وعدہ ان کیلئے امید کا سہارا تھا۔
ایک برس کا عرصہ اگرچہ طویل نہیں کہ سب کچھ مکمل طور پر بدل جائے، لیکن اتنا وقت ضرور ہوتا ہے کہ کم از کم ان وعدوں پر عمل درآمد کا کوئی واضح لائحہ عمل یا عملی قدم دکھائی دے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکومت نے اپنے اعلانات کو محض انتخابی نعرے کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ واقعی ان پر سنجیدگی سے کام شروع کیا ہے۔
یہ درست ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کے جذبات اور سیاسی مطالبات کے عین مطابق ہے۔ اس پر پرامن جدوجہد ہر لحاظ سے ایک درست اور جمہوری راستہ ہے۔ لیکن ایک عوامی نمائندے اور حکومت کے سربراہ کے طور پر عمر عبداللہ کی ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ ہے۔ عوامی مسائل اور روزمرہ کی مشکلات کو پس پشت ڈال کر صرف ایک بڑے سیاسی مسئلے کو ایجنڈے پر رکھنا کسی طرح بھی متوازن طرزِ حکمرانی نہیں کہلا سکتا۔
ریاستی درجے کی بحالی کی جدوجہد اپنی جگہ مگر بجلی، روزگار، مہنگائی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل بھی عوام کے لئے اتنے ہی اہم ہیں۔ اگر حکومت ان مسائل پر خاموش تماشائی بنی رہے تو لوگ اپنے رہنماؤں کی سیاسی دعوے داریوں سے مایوس ہو جائیں گے۔
جمہوریت میں عوامی وعدے محض انتخابی حربہ نہیں بلکہ حکمرانی کا عہد نامہ ہوتے ہیں۔ ووٹر جب کسی رہنما کو ووٹ دیتا ہے تو وہ دراصل ان وعدوں کی بنیاد پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ اگر یہ وعدے پورے نہ ہوں تو عوام کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جمہوری قیادتیں اپنے انتخابی منشور کو مقدس دستاویز سمجھتی ہیں اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنی پوری توانائی صرف کرتی ہیں۔
عمر عبداللہ اور ان کی حکومت کیلئے یہ ایک کڑا امتحان ہے۔ ریاستی درجے کی بحالی کا بیانیہ اگر عوامی فلاح کے اقدامات کے ساتھ نہیں جڑتا تو یہ محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گا۔ لوگوں کو نہ صرف اپنے تشخص کی بحالی درکار ہے بلکہ وہ اپنے گھروں میں سستی بجلی، رسوئی کے لئے مناسب قیمت پر گیس اور اپنے بچوں کیلئے روزگار بھی چاہتے ہیں۔
ایک لاکھ نوکریوں کا وعدہ خاص طور پر جموں و کشمیر کے نوجوانوں کیلئے امید کی کرن تھا۔ خطے کے نوجوان پہلے ہی محدود روزگار کے مواقع اور پرائیویٹ سیکٹر کی کمزوری سے پریشان ہیں۔ بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ریاست یا بیرون ملک روزگار کی تلاش میں ہجرت پر مجبور ہیں۔ ایسے میں اگر سرکار نوکریوں کا وعدہ پورا نہ کرے تو یہ مایوسی اور عدم اعتماد کو بڑھا دے گا۔ اس صورتحال کے سنگین سیاسی اور سماجی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
عمر عبداللہ کیلئے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ عوامی اعتماد کو کیسے بحال کرتے ہیں۔ ریاستی درجے کی بحالی کی سیاست اہم ہے مگر یہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے جس کے نتائج فوری طور پر نظر آنا ممکن نہیں۔ اس دوران عوام کے بنیادی مسائل کا فوری حل نکالنا لازمی ہے۔ اگر حکومت ان محاذوں پر ناکام رہی تو نہ صرف اس کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ مستقبل میں اس کی سیاسی جدوجہد کو بھی عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکے گی۔
ایک کامیاب حکمرانی کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ بڑے سیاسی بیانیے اور عوامی مسائل کے عملی حل کے درمیان توازن قائم کرے۔ صرف نعرے یا دعوے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔ عملی اقدامات، پالیسیوں کی شکل میں اقدامات اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے کوئی قیادت اپنے آپ کو عوام کی نظر میں معتبر بنا سکتی ہے۔
عمر عبداللہ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ وہ ایک ایسے وقت میں حکومت کر رہے ہیں جب عوام پہلے ہی مسلسل مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ لوگوں کی زندگی اجیرن کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت ان کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی تو ریاستی درجے کی بحالی کی پرامن جدوجہد بھی عوام کیلئے زیادہ معنی نہیں رکھے گی۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ریاستی درجے کی بحالی کی جدوجہد یقیناً اہم ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن ایک عوامی رہنما اور وزیر اعلیٰ کی اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ عوام کے روزمرہ مسائل کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے حل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ مفت بجلی، سال میں ۱۲گیس سلنڈروں کی فراہمی اور ایک لاکھ نوکریوں کا وعدہ وہ اہداف ہیں جنہیں پورا کرنا اب عمر عبداللہ کیلئے ایک لازمی امتحان ہے۔
اگر وہ سیاسی نعرے اور عوامی فلاح کے اقدامات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوئے تو نہ صرف ان کی قیادت کو نئی طاقت ملے گی بلکہ عوام بھی اپنی حکومت پر اعتماد بحال کر سکیں گے۔ بصورت دیگر، یہ اندیشہ موجود ہے کہ عوامی وعدے محض انتخابی جملے بن کر رہ جائیں اور عوام کا اعتماد مزید مجروح ہو۔





