دنیا کی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب صدیوں کے زخم بھرنے کی امید پیدا ہوتی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے ایک نئے امن منصوبے کا اعلان بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ عرب ممالک اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اس کا خیر مقدم ایک خوش آئند اشارہ ہے کہ شاید اب خطے کے سب سے المناک مسئلے کے حل کے دروازے کھل سکیں۔ لیکن اس امید کی کرن کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے نہ صرف سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے بلکہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے اب تک کی جارحانہ کارروائیوں کی کھلی مذمت بھی لازم ہے، کیونکہ امن کی عمارت صرف انصاف کی بنیاد پر ہی کھڑی ہو سکتی ہے۔
غزہ کی پٹی دنیا کے سب سے زیادہ آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ دو ملین سے زائد فلسطینی محصور اس خطے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں معاشی پابندیاں، ناکہ بندی اور بار بار کی جارحیت نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اسرائیلی کارروائیوں نے ہزاروں معصوم شہریوں کی جان لی ہے، ہسپتال، اسکول اور عبادت گاہیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ بچوں کے جنازے اٹھتے ہیں اور ماں باپ کی آہیں فضا میں بکھرتی ہیں۔ دنیا کے ضمیر پر یہ ایک بوجھ ہے جو اب مزید برداشت کے قابل نہیں رہا۔
اس پس منظر میں اگر کوئی امن منصوبہ سامنے آتا ہے اور اسے عرب دنیا اور فلسطینی قیادت قبول کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے تو اسے سنجیدگی سے لینے اور موقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کی تفصیلات اگرچہ ابھی ابتدائی ہیں، لیکن اس کے تین اہم نکات سامنے آئے ہیں:(۱) اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان فوری طور پر جنگ بندی تاکہ معصوم جانیں بچ سکیں۔(۲) غزہ میں سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے عالمی تعاون، تاکہ روزگار اور زندگی کی بنیادی سہولتیں بحال ہو سکیں۔(۳)سیاسی مذاکرات کا آغاز: فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات تاکہ ایک دیرپا سیاسی حل کی طرف بڑھا جا سکے۔
یہ نکات ظاہر کرتے ہیں کہ کم از کم امن کے لیے ایک راستہ کھولا گیا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ آیا یہ منصوبہ صرف وقتی ریلیف ہے یا ایک حقیقی اور دیرپا حل کی طرف قدم؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا، لیکن فی الحال یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس منصوبے کو امن کی ایک نئی کھڑکی سمجھا جائے۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ کئی عرب ممالک نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے پہلے عرب دنیا اکثر اسرائیل کے حوالے سے منقسم نظر آتی تھی۔ لیکن اب اگر ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور فلسطینی عوام کی اجتماعی حمایت کے ساتھ اس منصوبے پر عمل کیا جائے تو عالمی برادری پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ عرب ممالک کا اتحاد فلسطینی عوام کے لیے طاقت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے بھی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ ایک مثبت اور حقیقت پسندانہ رویہ ہے۔ ماضی میں مختلف فلسطینی دھڑوں کی آپسی تقسیم نے اسرائیل کو موقع دیا کہ وہ فلسطینیوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھائے۔ لیکن اب فلسطینی قیادت کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ حماس اور الفتح سمیت تمام دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا تاکہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں فلسطینی قوم کی حقیقی آواز سنائی دے۔
امن کا منصوبہ تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب دنیا اسرائیل کی اب تک کی کارروائیوں کی کھلے عام مذمت کرے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیلی افواج نے بارہا انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ بچوں اور عورتوں پر بمباری، اسپتالوں کو نشانہ بنانا، پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں پر پابندی لگانا …یہ سب جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
اگر اسرائیل کو اس کے مظالم پر جواب دہ نہ بنایا گیا تو امن کی بنیادیں کھوکھلی رہیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے اور انسانی حقوق کی پاسداری کرے۔لیکن حماس کو بھی بر ای الذمہ نہیں قراردیا جا سکتا ہے ۔ اسے بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لاتے ہو ئے غزہ میں امن کو ایک موقع دینا چاہئے تاکہ وہاں کے ۲۰ لاکھ لوگ ایک بار پھر اپنی زندگی شروع کر سکیں۔
یہ موقع صرف فلسطینیوں یا عرب دنیا کے لیے نہیں، بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک امتحان ہے۔ اقوامِ متحدہ اور بڑی طاقتوں نے بارہا غزہ میں انسانی بحران پر تشویش ظاہر کی ہے، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب اگر امریکہ نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے اور خطے کے ممالک نے اسے خوش آمدید کہا ہے تو عالمی برادری کو بھی اس میں عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ امن فوجی دباؤ سے نہیں بلکہ انصاف اور انسانی ہمدردی سے قائم ہوتا ہے۔
امن کی یہ کھڑکی زیادہ دیر تک کھلی نہیں رہ سکتی۔ اگر اسرائیل اور حماس نے وقت ضائع کرنے یا شرائط میں ٹال مٹول سے کام لیا تو یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔ اس لیے تمام فریقین کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ غزہ کے عوام کو مزید انتظار کا شکار نہ بنایا جائے۔
یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ امن صرف اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے استحکام سے جڑا ہے۔ شام، لبنان اور یمن میں جاری کشیدگی بھی فلسطین کے مسئلے سے کسی نہ کسی شکل میں جڑی ہوئی ہے۔ اگر غزہ میں امن قائم ہو جائے تو پورے خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امن منصوبے کے حوالے سے سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ کیا اس میں انصاف کو مقدم رکھا جائے گا؟ کیا فلسطینی عوام کو اپنی ریاست کا حق ملے گا؟ کیا ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے گا؟ اگر ان سوالوں کے جواب مثبت ہیں تو یہ منصوبہ کامیاب ہوگا۔ اگر یہ صرف وقتی ریلیف یا اسرائیل کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کی چال ہے تو تاریخ اسے ایک اور ناکام کوشش کے طور پر یاد رکھے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔





