صاف نظر آرہا ہے… بالکل صاف کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے ‘عمرعبداللہ فرسٹریٹ ہو رہے ہیں… ان کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ یہ کریں تو کیا کریں… نہیں ایسا نہیں ہے کہ انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے… انہیں کچھ بھی نہیں آتا ہے… یہ نااہل ہیں… اللہ میاں کی قسم ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہے… اصل میں یہ فرسٹریٹ اس لئے ہو رہے ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پر یہ حقیقت … تلخ حقیقت واضح ہو جاتی جا رہی ہے کہ… کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے… کچھ بھی نہیں ہے… وہ بھی نہیں ہے جو ان کے ہاتھ میں ہے اور… اور اُس کی تو بات ہی نہیں جو ان کے ہاتھ میں نہیں ہے… جو ان کے ہاتھ میں نہیں ہو سکتا ہے… بس اس ایک بات نے اپنے وزیر اعلیٰ کو فرسٹریٹ کیا ہوا ہے… سوچا تھا… انہوں نے سوچا تھا کہ … کہ وقت کے ساتھ ساتھ آسانیاں ہوں گی… کام آسان ہو تا چلا جائیگا… لیکن صاحب ایسی ان کی قسمت کہاں کہ… کہ ان کی باتوں سے… اگران کی باتیں کسی بات کی چغلی کھا رہی ہیں تو… تو اس کے بات کی کھا رہی ہیں کہ یہ تنگ آگئے ہیں… اوراس لئے آگئے ہیں کیونکہ ان کا کام دن بہ دن مشکل ہو رہاہے… سخت ہو رہا ہے… اور یہ بات کسی کوئی بھی فرسٹریٹ کر سکتی ہے … اپنے وزیر اعلیٰ کو بھی جو اب آہستہ آہستہ اس فرسٹریشن کا اظہار کھلے عام کررہے ہیں… واضح الفاظ میں کررہے ہیں… سرینگر میں کررہے ہیں اور اب گلمرگ میں بھی کررہے ہیں… یقین کیجئے ہماری ساری کی ساری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں… اور سو فیصد ہیں… لیکن جناب کیا انہیں معلوم نہیں تھا… کیا یہ صاحب یہ بات جانتے نہیں تھے کہ… کہ یہ ایک ریاست نہیں بلکہ ایک یو ٹی کے وزیر اعلیٰ بننے والے ہیں… اور اگر وہ یو ٹی جموںکشمیر ہو تو … تو صاحب مشکلیں تو آنی ہیں… کام تو مشکل ہونا ہی ہے… سو کام مشکل ہو رہے ہیں… آسان نہیں ہو رہے ہیں …آسان ہوں گے بھی نہیں اور اس بات کو وزیر اعلیٰ کو سمجھنا ہو گا… جتنی جلدی انہیں یہ بات سمجھ میں آجائیگی … اتنا ہی یہ ان کیلئے اچھا ہو گا … اور اس لئے ہو گا کیونکہ پھر انہیں کوئی فرسٹریشن نہیںہو گی… بالکل بھی نہیں ہو گی ۔ ہے نا؟



