بھارت کا قومی نشان، جو اشوکا کے شیر ستون سے ماخوذ ہے، محض ایک فن پارہ نہیں بلکہ ایک آئینی علامت ہے جو خودمختاری، اختیار اور جمہوری اقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ پارلیمان میں آویزاں ہے، سرکاری دستاویزات پر کندہ ہے، کرنسی پر چھاپا گیا ہے اور ہر پاسپورٹ پر جگمگاتا ہے جو دنیا بھر میں بھارت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کی تقدیس اس کی جگہ اور مقصد میں پوشیدہ ہے: یہ جمہوریہ اور اس کے اداروں کے لئے ہے۔
اس نشان کو معمولی، غلط یا بے جا استعمال کرنا دراصل اس کی بے حرمتی ہے۔ بے حرمتی صرف یہ نہیں کہ اسے کھرچ دیا جائے یا توڑ دیا جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے اس کے اصل آئینی مقام سے ہٹا کر ایسے تناظر میں رکھ دیا جائے جہاں اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ درگاہ حضرتبل جیسے مذہبی مقام پر قومی نشان نصب کرنا اسی زْمرے میں آتا ہے۔ یہ نشان کو اس کے حکومتی اور آئینی دائرے سے نکال کر ایک مذہبی دائرے میں دھکیل دیتا ہے جہاں اس کی معنویت ختم ہو جاتی ہے۔
قومی نشان کی بے حرمتی محض ایک فن پارے پر حملہ نہیں بلکہ ہندوستانی قوم کی اجتماعی شناخت پر حملہ ہے۔ اس نشان پر کندہ ستیہ میو جیتے یعنی ”سچائی ہی جیتتی ہے“ کسی کمیونٹی، مذہب یا خطے سے بالاتر ہے۔ جب اس نشان کو مسخ کیا جاتا ہے، تو دراصل جمہوریہ کی سچائی مسخ کی جاتی ہے۔
قانون بھی اس کو تسلیم کرتا ہے۔۵۰۰۲ کے قومی نشان (غلط استعمال پر پابندی) ایکٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قومی نشان کو بلاوجہ، تجارتی یا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نشان اعلیٰ ترین ریاستی دفاتر کیلئے مخصوص ہے……پارلیمان، راشٹرپتی بھون، سپریم کورٹ اور سرکاری ادارے۔ نہ کہ مزاروں، بازاروں یا سیاسی شو کے لئے۔
جب نشان کو ایسی جگہ رکھا جائے جہاں اس کا کوئی آئینی کام نہیں تو وہ معنویت سے خالی ہو جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اس پر گرافٹی کر دی جائے۔ دونوں عمل اس کے وقار کو چھین لیتے ہیں۔
سری نگر کی درگاہ حضرتبل کشمیر کے مقدس ترین مقامات میں سے ہے۔ یہاں پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐکی موئے مبارک محفوظ ہے اور یہ کروڑوں مسلمانوں کے لئے عقیدت کا مرکز ہے۔ لوگ یہاں سیاست کے نعرے نہیں بلکہ ایمان کی دعاؤں کے ساتھ آتے ہیں۔ ایسے مقام پر قومی نشان نصب کرنا دوہری غلطی ہے۔
اوّل یہ ایک مقدس مقام کو سیاسی دائرے میں گھسیٹتا ہے۔ دوم یہ نشان کو ایک آرائشی شے بنا دیتا ہے۔ قومی نشان نہ کوئی وال پیپر ہے نہ محض طاقت کا مظہر۔ یہ جمہوریہ بھارت کی زندہ علامت ہے۔
اگر کل کوئی سیاسی گروہ قومی نشان کو کسی کلب ہاؤس یا سنیما ہال پر لگا دے تو اسے بجا طور پر بے حرمتی کہا جائے گا۔ پھر درگاہ میں اس کا نصب ہونا کیسے مختلف ہے؟ حضرتبل کی عظمت اپنی جگہ، مگر قومی نشان کی عظمت اپنی جگہ ہے۔
سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بے حرمتی صرف توڑ پھوڑ سے ہی نہیں بلکہ غلط تناظر میں رکھنے سے بھی ہوتی ہے۔ اگر ترنگا جھنڈا بازار میں کپڑے کے طور پر استعمال ہو تو یہ توہین ہے۔ اگر قومی ترانہ کسی اشتہار میں بجے تو یہ توہین ہے۔ اسی طرح اگر قومی نشان کو درگاہ میں نصب کیا جائے تو یہ وقار میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہے۔
اس نشان کا اصل مقام وہی ہے جہاں ریاستی اختیار نافذ ہوتا ہے……عدالتیں، پارلیمان، وزارتیں اور سرکاری احکامات۔ اسے وہاں سے اٹھا کر حضرتبل میں رکھنا بالکل ایسا ہے جیسے جج کا ہتھوڑا عدالت سے نکال کر کسی کیفے کی دیوار پر لٹکا دیا جائے۔ ہتھوڑا سلامت ہے مگر اس کی آئینی عظمت ختم ہو جاتی ہے۔
ہندوستان کا آئین ایک سیکولر جمہوریہ کی ضمانت دیتا ہے جہاں ریاست کسی ایک مذہب کو دوسروں پر فوقیت نہیں دیتی۔ جب قومی نشان کسی مسجد میں نصب کیا جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جمہوریہ کسی مذہبی مقام کی سرپرستی کر رہی ہے۔ یہ تاثر ہی نقصان دہ ہے کیونکہ یہ آئین کی اس لکیر کو دھندلا دیتا ہے جو مذہب اور حکومت کے درمیان کھینچی گئی ہے۔
اگر حضرتبل میں نصب کرنے کو معمول سمجھ لیا گیا تو پھر اسے مندروں، گرجا گھروں، گردواروں اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر میں لگانے سے کیا رکاوٹ رہے گی؟ ہر کوئی دعویٰ کرے گا کہ وہ ”وقار“ بڑھا رہا ہے، لیکن اصل میں وقار ختم ہو رہا ہوگا۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہوگا جس میں قومی نشان آہستہ آہستہ اپنی ہمہ گیر معنویت کھو دے گا اور مخصوص گروہوں کی ملکیت بن جائے گا۔
حضرتبل کا احترام یہ ہے کہ اسے سیاست سے دور رکھا جائے۔ قومی نشان کا احترام یہ ہے کہ اسے مذہبی سیاست سے بچایا جائے۔ دونوں کو ملانا دونوں کی بے حرمتی ہے۔ جو زائر حضرتبل میں آتا ہے، وہ خالص روحانیت چاہتا ہے۔ جو شہری قومی نشان کو دیکھتا ہے، وہ جمہوریہ کی علامت دیکھنا چاہتا ہے۔ دونوں الگ الگ دائرے ہیں، اور یہی ان کا احترام ہے۔
قومی نشان کی بے حرمتی ہماری اجتماعی شناخت پر حملہ ہے۔ حضرتبل میں اسے نصب کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ یہ اس کی آئینی عظمت چھین لیتا ہے، مذہب اور حکومت کی لکیر کو مٹاتا ہے اور ایک ایسا رجحان پیدا کرتا ہے جس سے اس کی تقدیس رفتہ رفتہ ختم ہو سکتی ہے۔
قومی نشان جمہوریہ کا چہرہ ہے۔ اس کا غلط استعمال اس چہرے پر خراش ڈالنے کے مترادف ہے، چاہے یہ خراش بد نیتی سے ہو یا غلط عقیدت سے۔ حضرتبل دعا کا مقام ہے اور قومی نشان ریاست کی علامت۔ ان دونوں کو الگ رکھنا تقسیم نہیں بلکہ احترام ہے……عقیدت کا بھی، آئین کا بھی، اور سب سے بڑھ کر ہمارے ملک بھارت کا بھی۔





