ہم … ہم بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں ۔صرف باتیں ‘ کام نہیں…چونکہ ہم کام نہیں کرتے ہیں ‘ صرف باتیں کرتے ہیں‘ اس لئے یہ باتیں… ہماری باتیں کسی کام کی نہیں ہوتی ہیں… اکثر کام نہیں آتی ہیں… لیکن صاحب اس کا یہ مطلب نہیں اور… اور بالکل بھی نہیں کہ ہر کوئی صرف باتیں کرتا ہے… ایسا نہیں ہے… بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہاں ایسے بھی ہیں جو باتیں نہیں کرتے ہیں… صرف کام کرتے ہیں… یا اگر باتیں کرتے ہیں تو… تو باتوں کے ساتھ ساتھ کام بھی کرتے ہیں… جیسے ہمارے ریلوے کے وزیر ‘اشونی ویشنو… کمال کے ہیں یہ جناب… بالکل کمال کے… اپنے نتن گڈکری کی طرح … جنہیں کشمیر سے لگاؤ ہے… جو کشمیر کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں… وہ سب کچھ جس کی ان سے توقع ہوتی ہے… اسی طرح اپنے ویشنو جی بھی ہیں… یہ بھی کشمیر کے بارے میں کرتے ہیں… وہ سب کچھ کرتے ہیں جو ان سے بن پڑتا ہے… مزے کی بات یہ ہے کہ یہ جناب اپنے وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ کی بھی سنتے ہیں… اُس وزیر اعلیٰ کی سنتے ہیں جن کی یہاں کوئی نہیں سنتا ہے… بالکل بھی نہیں سنتا ہے… لیکن وزیر ریلوے سنتے ہیں… وزیر اعلیٰ کی سنتے ہیں جنہوں نے ان سے فروٹ سیزن کے پیش نظر خصوصی ٹرینوں کا اہتمام کرنے کی گزارش کی تھی… کہ…کہ شاہراہ بند ہونے سے کشمیر کا میوہ سڑ رہا ہے… یا اس کے سڑنے کا خطرہ ہے… بس وزیر اعلیٰ کی درخواست کی دیر تھی کہ… کہ ویشنو جی نے ہفتہ سے روزانہ دو مال بردار ٹرینوں کو بڈگام ریلوے اسٹیشن سے چلانے کا اعلان کیا… یہ ٹرینیں بڈگام سے سیدھا آدرش نگر دہلی جائیں گی جہاں سے میوہ… کشمیر کا میوہ دہلی اور ملک کے باقی کے بازاروں میں چلا جائیگا …وزیر ریلوے کے اس اقدام سے یقینا کشمیر کے فروٹ گروور کو تھوڑا سکون میسر ہو گا کہ… کہ قومی شاہراہ کی بندش نے ان کا سکون اور چین چھین لیا تھا… ان کے سروں پر بھاری نقصانات کی تلوار لٹک رہی تھی… لیکن اب نہیں کہ… کہ اب ان کا مال کشمیر کے گوداموں میں سڑے گا نہیں بلکہ ملک کے بازاروں تک پہنچ جائیگا …بغیر کسی شور شرابے کے پہنچ جائیگا … کیونکہ … کیونکہ کچھ لوگ چپکے سے کام کرتے ہیں… زیادہ کام کرتے ہیں… اور باتیں کم… یا بالکل بھی باتیں نہیں کرتے ہیں… جیسے اپنے ویشونی جی ہیں… وزیر ریلوے ہیں۔ ہے نا؟



