حیدرآباد سٹی پولیس نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین پر مشتمل ہارس رائیڈرس یونٹ قائم کیا ہے ۔ اس یونٹ میں 9 خواتین کانسٹبلوں نے چھ ماہ کی خصوصی تربیت مکمل کی ہے ، جس کے بعد وہ گھوڑوں پر پٹرولنگ ڈیوٹی، جلوسوں میں ڈسپلن قائم رکھنے اور وی آئی پی سیکورٹی فرائض انجام دینے کے لئے تیار ہوگئی ہیں۔ تربیت میں نہ صرف گھڑ سواری بلکہ ہجوم کو کنٹرول کرنا، جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور ایمرجنسی صورتحال میں بروقت کارروائی کرنا بھی شامل تھا۔ خواتین ہارس رائیڈرس کی تعیناتی سے نہ صرف پولیس فورس میں خواتین کا کردار بڑھے گا بلکہ شہریوں میں اعتماد بھی پیدا ہوگا۔
یہ خواتین ملازمین خاص طور پر عوامی اجتماعات، تہواروں، کھیلوں کے مقابلوں اور وی آئی پی پروگراموں کے دوران سیکورٹی کی ذمہ داریوں میں شامل رہیں گی۔ پولیس کے مطابق جلد ہی اس یونٹ کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ خواتین کی زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جاسکے ۔یہ اقدام حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے خواتین کو مضبوط بنانے اور انہیں پولیسنگ کے ہر شعبہ میں برابر کا موقع دینے کی ایک بڑی کوشش سمجھا جارہا ہے ۔ یہ خواتین پولیس ملازمین حیدرآباد کے گوشہ محل اسٹیڈیم میں 6ماہ تک سخت اور منظم تربیت سے گزرنے کے بعد اب گھوڑوں پر ڈیوٹی انجام دینے کے اہل ہوگئی ہیں۔
تربیت مکمل کرنے والی ان پولیس خواتین نے بتایا کہ کافی دلچسپی سے انہوں نے تربیت کی تکمیل کی ہے ۔اس تربیت کے لئے انہوں نے کافی مشکلات کا سامناکیا۔تربیت کی تکمیل پر ان کوفخر محسوس ہورہا ہے ۔اس سے فزیکل فٹنس میں اضافہ ہوتا ہے ۔گھرمیں بچوں کے ساتھ زندگی اور گھڑسواری میں توازن کو انہوں نے برقراررکھا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ابتدا میں انہیں مشکلات کاسامنا کرناپڑا کیونکہ گھوڑے کو کنٹرول کرنا انہیں نہیں آتاتھاتاہم تربیت دینے والے پرتھوی سنگھ نے انہیں گھڑسواری کے کئی گُرسکھائے ۔
انہوں نے کہاکہ گنیش مورتیوں کے وسرجن کے موقع پر گھڑسواردستے میں وہ شامل ہیں۔انہوں نے اس تربیت کے لئے پولیس کمشنر سی وی آنند سے اظہار تشکر کیاکیونکہ کمشنر پولیس نے ان کاانتخاب کرتے ہوئے ان کی تربیت کو یقینی بنایا۔اس کا سہرا کمشنر پولیس کے سرجاتا ہے ۔گھوڑوں پر پٹرولنگ کرنا کافی انوکھا تجربہ رہا ہے ۔انہیں اس پر فخر محسوس ہورہا ہے ۔ہجوم میں عموما گھوڑے ،گاڑیوں اورپٹاخوں کی آوازوں پر خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔اس صورتحال سے انہیں نمٹنا بتایاگیا ہے ۔








